تازہ ترین
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عرفان الدین اپنے عہدہ کا چارچ سنبھالنے کے بعد تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بونی کا پہلا دورہ


ڈیوٹی پر موجود رہتی ہے۔ رات اور چھٹیوں کے دنوں میں کوئی ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود نہیں ہوتا اسی دوران صرف نرس اور بابووں سے گزارہ کیا جاتا ہے اور رات یا چھٹیو کے دوران دور دراز علاقے سے اگر کوئی مریض اتے ہیں تو حالات کو نا موافق پاکر مجبوراً دوسرے ہسپتالوں کا ڑخ کرتے ہیں۔ ہسپتال میں صفائی کے نظام کے لیے صرف ایک خاکروب موجود ہے جو قطعاً نا کافی ہے۔ مالی پوسٹ پر سرے سے کوئی ہے ہی نہیں۔ ہسپتال کے آس پاس کچرے کا ڈھیر اٹھانے یا ٹھکانہ لگانے کے لیے کوئی موزوں نظام موجود نہیں اس وجہ سے جگہ جگہ کچرے جمع رہتے ہیں۔ ۵۱۰۲ کے تباہ کُن زلزلہ کے بعد ہسپتال کی چار دیواری بری طرح متاثر ہے۔ تا اندام دوبارہ تعمیر ہونے کی نوبت نہیں ائی ہے اس وجہ سے دوسرے تمام مشکلات کے ساتھ ہسپتال آوارہ کُتوں کے اماجگاہ بنا ہوا ہے۔ تمام مسائل بالائی حکام کے نوٹس میں بار بار لائے جانے کے باوجود کوئی توجہ نہیں دی گئی۔اس وجہ سے ہسپتال انتظامیہ ہر وقت کوفت و پریشانی میں مبتلا رہتی ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عرفان الدین اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نا مساعد حالات کے باوجود موجود اسٹاف کے کردار کو سراہا کہ وہ اتنی مسائل کے باوجود تمام نظام کو حتہ المقدور سنبھالے رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بالائی حکام سے رابطہ کرکے ترجیحی بنیاد پر ان مسائل کو حل کرنے کی مکمل کوشش کرینگے۔ اور اس سلسلے بہت جلد دسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو بولا کر ایک بھر پور میٹنگ کرکے مسائل کے حل نکالنے کی بھر کوشش کرینگے۔تاکہ علاقے کی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دستیاب ہو۔