ریشن میں پبلک ہیلتھ منصوبہ التواء کا شکار، پانی کی شدید قلت، عوام پریشان اپر چترال

(رپورٹ شہزاد احمد)ریشن کے مختلف دیہات میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا اہم پانی فراہمی منصوبہ گزشتہ کئی سالوں سے التواء کا شکار ہے، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ سال سلائیڈنگ کے باعث پائپ لائن اپنی جگہ سے ہٹ گئی تھی، تاہم تاحال اس کی مرمت نہیں کی جا سکی۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو اس مسئلے سے آگاہ کیا گیا، لیکن متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ اس غفلت کے باعث ریشن اور ملحقہ دیہات میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے اور لوگ پانی کی تقسیم پر آپس میں الجھنے پر مجبور ہیں۔
یاد رہے کہ دو سال قبل سیلابی ریلے کے باعث گاؤں شادیر، رصانندر اور بیگالندر جیسے بڑے دیہات کی پانی کی لائن مکمل طور پر بہہ گئی تھی، جسے اب تک بحال نہیں کیا جا سکا۔ مقامی افراد کے مطابق منصوبے پر کام کرنے والے ٹھیکیدار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا، جبکہ تین سال گزرنے کے باوجود کام ادھورا پڑا ہے۔
مزید برآں، جن مقامی افراد نے اپنی زمینیں اس منصوبے کے لیے فراہم کی تھیں، انہیں نوکریوں کی فراہمی کے وعدے بھی تاحال پورے نہیں کیے گئے، جس پر متاثرین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ دوسری جانب دونوں دیہات کے لیے پلمبرز کی تعیناتی بھی ممکن نہیں بنائی جا سکی۔
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے فوری طور پر ٹھیکیدار کو فنڈز جاری کریں اور منصوبہ مکمل کروائیں، جبکہ پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ خود اس اہم لائن کی دیکھ بھال سنبھالے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے مسائل سے بچا جا سکے۔
مقامی لوگوں نے ڈپٹی کمشنر اپر چترال سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مزید سلائیڈنگ یا سیلاب کی صورت میں کروڑوں روپے مالیت کی پائپ لائن کو دوبارہ نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
عوام نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ پائپ لائن کو ریشن گول نالے سے نکال کر کسی محفوظ مقام سے گزارا جائے تاکہ مستقبل میں سیلابی ریلوں سے اس قیمتی منصوبے کو بچایا جا سکے اور عوام کو صاف پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔



