70

رمضان دنیا نہیں آخرت کمانے کا سیزن ہے، خطیب شاہی مسجد چترال,نوجوان عبادات، مسجدوں کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، اجتماع جمعہ سے خطاب

چترال / خطیب شاہی مسجد چترال مولانا خلیق الزمان کاکا خیل نے کہا ہے کہ م رمضان المبارک دنیا کمانے کا نہیں، آخرت کمانے کا سیزن ہے، یہ دولت نہیں، ثواب کمانے کا سیزن ہے، نیکیاں اور اللہ کی رحمت و برکت کمانے اور سمیٹنے کا سیزن ہے، مگر بد قسمتی سے ہمارے تاجر، ہمارے ٹرانسپورٹر، ہمارے پبلک ڈیلنگ دفاتر اور ان کے اہلکاروں نے رمضان المبارک کو دنیا کی حقیر دولت اور ہاتھ کا میل کمانے کا سیزن بنا لیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شاہی مسجد چترال میں نماز جمعہ کے عظیم اجتماع سے “استقبال رمضان کے حقیقی تقاضے اور ہماری ذمے داریاں” کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ خطیب شاہی مسجد نے کہا کہ روزہ صرف امت محمدیہ پر ہی نہیں بلکہ سابقہ امتوں پر بھی فرض رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزے کا فلسفہ قرآن حکیم نے تقوی یعنی خدا ترسی کی مشق و ریاضت بتایا ہے۔ اگر روزہ سے دل میں تقوی گھر نہ کرے، خدا خوفی، رقت اور عمدہ اخلاق کا انسان کے جسم ظاہری پر ظہور نہ ہو تو روزے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے اور خالی بھوکا پیاسا رکھنا اللہ کی منشا ہرگز نہیں ہے۔ خطیب شاہی مسجد نے کہا کہ روئے زمین پر کچھہ اراضی و مقامات مقدس ہیں، جن میں مکہ مکرمہ مسجد حرام مسجد نبوی مسجد اقصی شامل ہیں، مقامات مقدسہ کی طرح سال کے بارہ مہینوں میں ماہ رمضان کو اللہ تعالیٰ مے تقدس و تبرک کی خلعت پہنائی ہے۔ اس مہینے کے بے شمار فضائل ہیں، اس کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ رب تعالیٰ نے اپنے آخری پیغام ہدایت کے نزول کیلئے اس مہینے کا انتخاب کیا، یہ ایسی منفرد فضیلت ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ نے خود رمضان کے تعارف میں ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عظیم مہینہ ایک بار پھر اللہ کی رحمت سے اس کے لطف و کرم اور خیر و برکت کے ساتھ ہم پہ سایہ فگن ہونے والا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دو مہینے پہلے سے رمضان کے بے تابی سے انتظار شروع فرمایا کرتے تھے اور اس کیلئے ہر طرح کی تیاری پہلے سے فرماتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سراپا لطف و کرم بن جاتے تھے، ہمیں بھی رمضان کی آمد سے پہلے خود کو نبوی صفات میں ڈھالنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس ماہ کے احترام میں بازار صرف ضرورت کی حد تک جایا کریں، تاجر حضرات بھی اوقات محدود کرکے رمضان میں نیکیاں کمانے اور عبادت کیلئے خصوصی وقت مقرر کریں۔ جھگڑا نہ کریں۔ تاجر حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس ماہ مبارک میں لوگوں کیلئے سراپا رحم و خیر خواہی بنیں۔ اپنے ماتحتوں، ملازمین، بچوں، زیر کفالت افراد اور گلی محلے کے بچوں کے ساتھ خصوصی طور پر نرمی و شفقت کا برتاؤ کریں، لوگوں کا بوجھ کم کریں، مشکلات کم کرنے کی کوشش کریں، اللہ آپ کی مشکلیں آسان کرے گا، آپ کی زندگی میں برکتیں بھر دے گا۔ خطیب شاہی مسجد نے کہا کہ برکت وہ چیز ہے جو مال و دولت دنیا سے کبھی حاصل نہیں ہوتی، یہ اللہ کی خاص عنایت ہوتی ہے اور انہیں کو حاصل ہوتی ہے جو اللہ کی خوشنودی کیلئے اس کی مخلوق کیلئے آسانیوں کا ذریعہ بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کے ہر شعبے کے افراد روزہ داروں کو خصوصی ڈسکاونٹ دیں۔ یورپ میں حلال چیزوں پر روزہ داروں کیلئے 55 فیصد ڈسکاؤنٹ دیا جاتا ہے، کیا ہم ایسا نہیں کر سکتے؟ انہوں نے کہا کہ ختم القرآن اور تراویح کا اہتمام بھی کیا جائے، بالخصوص نوجوان اپنی جوانی کا ثبوت دیتے ہوئے عبادات میں خوب دل لگائیں، انہوں نے کہا کہ اصل توبہ اور عبادت و طاعت تو جوانی کی ہے، ایک فارسی شعر میں ہے: در جوانی توبہ کردن شیوہ پیغمبریست، یعنی نوجوانی میں توبہ اور اللہ سے رجوع کرنا پیغمبروں کا شیوہ ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مسجدوں کو آباد کریں، مسجدوں کی خدمت کریں، صفائی، سحر و افطار کے انتظامات میں بڑھ چڑھ کر والنٹیئری شرکت کریں، مسجدوں ہی نہیں گلی محلوں اور بازاروں میں بھی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ غریب رشتہ دار اور ہمسائے اس ماہ مبارک میں ہماری خصوصی توجہ و عنایات کے مستحق ہوتے ہیں، ان کا خاص خیال رکھیں، خود ان کی ضروریات اور حالات معلوم کرکے ان کی مدد کریں، اللہ ہم ہماری مدد کرے گا۔

Print Friendly, PDF & Email