60

یوم دستور پاکستان!۔۔۔۔تحریر: رانا اعجاز حسین چوہان

جامع آئین پاکستان کی تیاری اور نفاذ ذوالفقار علی بھٹو کا عظیم کارنامہ ہے، جنہوں نے اس اہم ترین قومی مسئلے پر جراتمندانہ اقدام اٹھایا۔ اس طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین 10 اپریل1973 ء کو پارلیمنٹ کی جانب سے پاس کیا گیا، جبکہ 12 اپریل 1973 ء کو صدر پاکستان نے آئین پاکستان کی باضابطہ منظوری دی۔آئین کے مطابق پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ پاکستان میں جمہوری پارلیمانی نظام حکومت نافذ ہو گا، وزیر اعظم حکومت کا سربراہ ہوگا اور اسے اکثریتی جماعت منتخب کرے گی۔ پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہے اور صدر اور وزیر اعظم کا مسلمان ہونا لازمی ہے۔ آئین کی روسے مسلمان سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ پاک کو ایک مانے، حضوراکرم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی تسلیم کرے۔ آسمانی کتابوں پر ایمان لائے، فرشتوں، یوم آخرت اور انبیاء علیہ السلام پر ایمان رکھے، اور جو شخص ختم نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا منکر ہو وہ دائرہ اسلام سے خارج تصور کیا جائے گا۔ آئین کی رو سے عوام پاکستان کو مواقع دیے جائیں گے کہ وہ اپنی زندگیاں قرآن وسنت کے مطابق بسر کریں۔ قرآن مجید کی اغلاط سے پاک طباعت کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔عصمت فروشی، جوا، سود اور فحش لٹریچر پر پابندی عائد کی جائے گی۔ آئین کے مطابق پاکستان کی قومی زبان اردو ہے، یہاں عربی زبان کو بھی فروغ دیا جائے گا طلبہ وطالبات کے لیے آٹھویں جماعت تک عربی تعلیم لازمی قرار دی گئی۔ آئین پاکستان میں عدلیہ کی مکمل آزادی کی ضمانت دی جاتی ہے۔ آئین میں ترمیم کے لیے ایوان زیریں میں دو تہائی اور ایوان بالا میں بھاری اکثریت کا ہونا ضروری ہے۔
غرضیکہ 1973 ء کا متفقہ آئین ہماری پارلیمانی تاریخ کا ایک بڑا کارنامہ ہے، اس آئین میں جمہوریت، مساوات، رواداری، شخصی آزادی، اسلامی معاشرے کے قیام، اقلیتوں سے مساوی سلوک، بنیادی انسانی حقوق وغیرہ کی ضمانت فراہم کی گئی ہے اور خود دستور کے تحفظ کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ لیکن کیا خود حکمرانوں، سیاست دانوں، قانون سازوں نے اس دستور پر عمل کیا؟ قطعی نہیں۔ اس آئین کو بار بار مسخ کیا گیا، اس میں سیاسی و ذاتی مفادات کے تحت ترامیم اور قانون سازی کی گئی۔ اس کی توہین و تضحیک کی گئی، طاقت کے زور پر منہ چڑایا گیا اور اس کو ختم کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہیں۔ اور آئین پاکستان موجود ہونے کے باوجود،ریاست پاکستان میں قانون کا نفاذ بظاہر سب کے لئے برابر نہیں، یہاں امراء قانون سے بالاتر نظر آتے ہیں، سمجھ سے بالاتر ہے کہ ملک کے خزانے پر ہاتھ صاف کرنے والی بڑی بڑی مچھلیاں قانون کے آہنی شکنجے سے کیسے بچ نکلتی ہیں؟ یہ بھتہ مافیا، یہ ٹیکس چور، یہ قبضہ مافیا، یہ کرپٹ افرادآخر کب قانون کی گرفت میں آئیں گے۔ جبکہ دستور پاکستان میں مساوی انصاف کی فراہمی کی ضمانت دی گئی ہے،آرٹیکل 5 کے تحت ریاست سے وفاداری ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے۔وہ جہاں بھی رہے آئین اور قانون کی اطاعت کا پابند ہے۔ آرٹیکل 52واضع کرتا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔آرٹیکل 73ڈی کے مطابق عوام کو سستا اور فوری انصاف فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ آرٹیکل 83اے بلا تفریق جنس، رنگ و نسل عوام کی حالت بہتر بنانے کیلئے دولت اور پیداواری ذرائع کے چند ہاتھوں میں ارتکاز اور انکی عوامی مفاد کیلئے نقصان دہ غیر منصفانہ تقسیم سے منع کرتا ہے۔آرٹیکل 83بی کے مطابق ریاست دستیاب وسائل میں رہ کر ہر شہری کو روزی روٹی اور مناسب تفریح کے یکساں مواقع فراہم کرنے کی پابند ہے۔آرٹیکل 83ڈی کے مطابق ریاست شہریوں کو بلا تفریق روٹی کپڑا اور مکان، تعلیم، طبی سہولیات جیسی بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرنے کی پابند ہے۔اگر قیام پاکستان کے مقاصد پر غور کیا جائے تو دستور ساز اسمبلی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا خطاب ہی ہمارے لئے کافی ہے۔انہوں نے ہمیشہ اقرباء پروری، سفارش اور رشوت جیسی لعنتوں کا قلع قمع کرنے اور بلا تفریق انصاف کی ضرورت پر زور دیا۔
لیکن صد افسوس پاکستان میں بڑے مگرمچھ قانون کی گرفت سے صاف بچ نکلتے ہیں۔ توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ اگر یہ مگر مچھ قانون سے بالا رہتے ہیں توسسٹم کی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟ اربوں روپے کی لوٹ کھسوٹ کے مقدمات ہوتے ہیں اور پھر کئی کئی سال عدالتی کاروائی کے علاوہ میڈیا ٹرائل بھی ہوتا رہتا ہے۔تفتیش اور پراسیکیوشن پر خطیر رقوم قومی خزانے سے صرف ہوتی ہے، مگر یہ مگرمچھ مکھن سے بال کی طرح بچ نکلتے ہیں۔ جہاں تک عدالت کا تعلق ہے جب ثبوت نہیں ہوگا تو عدالت کسی کو سزا نہیں دے سکتی۔ سمجھ سے بالاتر یہ ہے کہ اسقدر کمزور مقدمات پیش کر کے عدالتوں کا قیمتی وقت ضائع کرنے، کارروائی پر خطیر رقوم ضائع کرنے اور قوم کو سالہا سال تک سسپنس میں مبتلا رکھنے میں کیا مصلحت کارفرما ہوتی ہے۔ اگر ٹھوس ثبوت کے باوجود محض تکنیکی بنیادوں پر قومی مجرم چھوٹ جائیں تو یہ لمحہ فکریہ ہے اور ایسی صورت میں ضابطوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ نوشتہ دیواریہی ہے کہ ہمیں اپنی صفوں میں پائی جانے والی کالی بھیڑوں اور غریب کے منہ سے نوالہ چھین کر اپنی راہ لینے والے ناقابل احتساب مگرمچھوں کی خبر لینا ہوگی۔ ملک سے دہشت گردی کی طرح، بلا امتیاز قانون کی فراہمی اور کرپشن، بدعنوانی، اقرباء پروری اور شفارش کلچر کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ بلاشبہ قانون کی بالادستی کے بغیر خوشحال پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
٭……٭……٭

Print Friendly, PDF & Email