مضامین

درد کا سفر …………فخرالدین فخر

انکل اج أپ کو بریانی ضرور کھانی ھے ۔یار کراچی والے بریانی میں مرچیں زیادہ ڈالتے ہیں تو میرے لئے مشکل ہےکھانا۔نہیں انکل میرے لئے ۔اچھا تو پھر پیسے دیکر مرچیں کھانے سے بہترہے کہ أپ کو کچھ اور کھلاتے ہیں۔نہیں أج کی بریانی تو فری ہے ۔وہ کیسے۔ میں نے کہا نا فری تو فری ہیں۔تو چلو أپ کی خاطر کھاتے ہیں۔ انکل یہ ہوئی نا بات۔دیکھو علی مرچیں انکل کو پسند نہیں ہے ۔فیضو نے بھائی کو ایک طرح سے ڈانٹا۔تم چپ کرو ۔جائینگے نا اکل ۔ہاں بیٹا جائینگے اور پارٹنر (فیضو کو میں کبھی پیارسے پاٹنر کہتا)کو ساتھ لے لینگے۔
انکل أپکا اپریشن کب ہے ۔(کافی عرصے سے کمر درد کی شکایت رہی ۔ان دنوں اغاخان ہسپتال میں اپریشن تجویز ہوا تھا) ۔بیٹا ابھی کچھ دن ہیں۔ پھر سرجری کے بعد میں گھر أگیا تو سارے بچے میرے گرد جمع ہو گئے۔ علی نے تو راستے میں ہی موبائل نکال لیا تھا۔انکل میں نے نا کافی پیسے جمع کر لئے ہیں ۔ارے پارٹنر وہ کس لئے۔ میں نے نا پرگرام بنایا تھا کہ جب أپ ہسپتال سےواپس أئیگے تو چپس وغیرہ کھانے جائیگے۔ چلو ایسا کرتےہیں ابھی چلتے ہیں۔اچھا تو پھر میں چل پھیر سکو تو جائیگے۔ انہی معصومانہ خواہشات ،سوالات اور جوابات کے بیج میں تو سرشار ہی ہوتا۔اور درد گویا منہ لٹکا کے بیٹھ جاتا۔ ان کو کیا پتہ کہ بچوں سے مجھے کتنی محبت ہے۔انکو تو بس بہانہ چاہئے ہو تا ہے بےچین کرنے کا۔درد کا تو کام ہی یہی ہے۔ابھی میں سوچتا ہو ۔بچوں نے میرے گرد پیارکا جو ہالہ باندھ دیا تھا اس سے اگر دردکی کوئی زباں ہوتی تو ان بچوںکو کتنا کوستا جو ایک لمحہ بھی مجھے درد کے حوالے کرنے پر امادہ نہ تھے۔
یہ درد بھی کچھ عجیب واقع ہوئے ہیں ۔نہ ہو تو بےچینی ہوتی ہے۔درد ہی اصل میں انسانیت کی معراج ہوتی ہے یہ نہ ہو تو کوئی انسان کہنے کے قابل ہی کب رہتا ہے۔ محبت کا درد ،بےوفائی کا درد ،جدائی کا درد یا پھر تنہائی کا درد ،عرض کوئی بھی صورت ہو ایک درد أشنا ہی اس کی حلاوت کو محسوس کر سکتا ہے۔
ویسے درد کے سفر کا اغاذ تو پرانا ہے ۔یہی دردھے جس کو میری تنہائی گوارا ہی نہیں۔مجھ سے اپنی وفاداری ہمیشہ ثابت ہی کیا ہے۔اسکی خوشبو میرے انگ انگ میں سمائی رہتی ہے ۔مجھے درد سے گویا عشق ہے کیو نکہ مجھے اچھی طرح یادہے کہ ایک روز مجھے درد ہی کے تواسط نے مجھے میرے درد تک لے گیاتھا۔پھر دل کو ایسی انسیت ہو گئی کہ تنہائی مجھے چڑا کرتی تو بھاگم بھاگ درد کے در پہنچ جاتا ،اور اسے ہمیشہ وا ہی پاتا۔اور سارے دکھ درد گویا زبان حال کہہ رہے ہوتے کہ تنہا ہو کے دیکھ لو ۔
پھر درد لئے عاذم سفر ہوا ۔کراچی ائرپورٹ پر اترے تو اظہر بھائی اپنی فیملی کےساتھ موجود تھے بڑے تپاک سے ملاقات ہوئی ۔ اظہر بھائی بڑے مخلص انسان ہے انکا کراچی میں اپنا بزنس ہے۔ رسک لینا انکی گویا فطرت میں داخل ہے۔انکی کراچی تک کا سفر بھی کسی معمے سے کم نہیں ۔تاہم اللہ کی مہربانی اور رحمت بھی انہی لوگوں کےحصے میں زیادہ ہوتی ہے جن کے پیش نظر دیانت داری اور اخلاص ہوتی ہے۔ میرا مشفق اور اظہر دوست تو اسم با مسمی’ہے۔
درد کا سفر تو جاری ہے۔نہ جانے اسکا انجام کیا ہو۔ انعام بھائی مجھے دائیں کروٹ لینی ہے۔بھائی انعام جو پاس ہی صوفی پر بیٹھے تھے ایک ہی جست میں مجھ تک پہنچ گیا ۔اپریشن کو صرف دو دن ہی ہوئے تھے ۔اور ظاہر ہے زیادہ حرکت سے پرہیز ہی کرنا بہتر تھا۔ہوا کچھ یوں کہ میرے مہربان دوست مفتی ولی اللہ نے میری سہولت کے پیش نظر مجھے مدرسہ امام محمد لائے تھے۔اور یقیناً اس بابرکت ماحول میں بہتری ہی نظر أئی۔اور تیزی سے صحت بحالی کی طرف گامزن رہی۔یہ محترم قاری فیض اللہ صاحب کا اپنا مدرسہ ہے۔قاری صاحب کا فیض تو عام ہے ہی۔ ان سے کون ناواقف ہے ۔دینی خدمات کے حوالےسے انکی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔
یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں بخشا ہے تونے ذوق خدائی
مدرسے کابابرکت ماحول اور مہرباں دوستوں کی خاص توجہ کی بدولت ایک طرح سے صحت بحال ہی ہو گئی۔ پھر اس دوران کچھ عرصہ مدرسہ بدرالعلوم میں بھی قیام رہا ۔جس کے منتظم میرے بچپن کے مہربان دوست قاری یعقوب شاہ ہے ۔مجھے یہاں بھی برکات سمیٹنے کا شرف حاصل رہا۔ بحر حال جوں ہی صحت بحال ہورہی تھی ۔دل کی باتیں بھی زباں پہ أنی شروع ہوگئی۔ تاہم ایک مشکل یہ پیش أگئیں کہ
مدرسے کے ماحول کے بارے ہم جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کے ذہنوں میں جو نقشہ نقش ہو چکا تھا حدشہ ہوا کہ مٹ ہی نہ جائیں۔اور ہوا بھی یہی کہ لارڈ میکالے اور اس کے حواریئن پر ہمارا ایمان متزلزل ہونے کو تھا کہ ہم نے اپنے اپ سنبھالا لیا۔ کیوں نہ لے أخر کو تعلیم یافتہ جو ٹھرے۔پھر میں نے بھی دوسرے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی طرح اپنی علمیت کا بابنگ دھل اظہار ضروری سمجھا۔کبھی کسی مسئلے کی بحث چھیڑی ۔کبھی مدارس کی نظام تعلیم پر نکتہ چینی۔کبھی فنڈنگ پر تنقید۔میں تو چاہتا بھی یہی تھا۔کہ مجھے اپنی تعلیم یافتہ برادری کی نمائندگی کاحق بھی ادا کر نا ہے۔یہ صدقہ وخیرات میں پلے بڑھے چند دینی کتابیں پڑھے ہوئے یہ مولوی مجھ سے کیا بحث کرینگے۔میرے پاس تو دلیلوں کا انبار ہیں۔مولوی کا معاشرے میں اور تو کوئی کام نہیں ۔انکی پہنچ بس ممبرو محراب تک ہی ہے۔ معاشرتی ترقی میں انکا کوئی کردار نہیں۔بس مفت خوری کے عادی ہیں۔اعلی تعلیم کا حصول انکے بس کی بات نہیں۔یورپ اسی لئے ہم سے أگے ہیں کہ انہوں نے جدیدیت پہ یقین رکھا۔مدرسہ والوں کی پراسراریت پر ہمارا شک اور سوال تو بنتا ہیں۔
بھئ فخر کیا خیال ہے ان پر اسرار بندوں کے بارے میں۔بھائی ضمیر نےأخر کار چپ کا روزو توڑ ہی لیا۔
یار میں سوچ رہا ہوں کہ اس میں اسرار کی کیا بات ہے۔ہم چندہ دیتے ہیں اور انکی روزی روٹی کا بندوبست ہو جاتا ہے۔دیکھو ابھی پچھلے جمعہ کو ہی میں نے سو روپےکا چندہ دیا تھا۔سو روپے بھئی أپ تو بڑھے دریا دل واقع ہوے ہیں۔لوگ دس بیس سے زیادہ نہیں دیتے۔تو بھئی ضمیر یہ طئے ہیں کہ چندہ ہی انکی امدن کا ذریعہ ہے۔یہ محض وقت کا ضیاع ہے ۔دنیا مریخ پہ کمندین ڈالا چاہتاہے اور یہ مدرسہ والے ہونہہ وہی رٹے رٹائے جملے۔ہمیں دیکھو کیا ہم مسلمان نہیں ہیں۔ہاہاہاہاہا۔۔۔۔فخر بھائی اس میں کیا شک ہےلیکن۔۔۔ ۔،لیکن کیابولو بھی ۔ایک اور قہقہہ ۔فخر بھائی ناراض نہ ہو نا۔أپ کے پارلیمنٹ میں وہ سورہ اخلاص والا واقعہ یاد ہے۔ہاہاہا۔۔۔،ہاں وہ تو ۔۔۔بس تم بھی نا، تاک میں رہتے ہو۔ہیں تو ہم تعلیم یافتہ ہی۔اور یہ محض منتظر فردا۔بھئی یہ جو درد کا دعویٰ لئے بیٹھے ہو جلد اس کی حقیقت کا پتہ چل جائیگا۔
مفتی بھائی ایک بات بتائیں ۔مفتی ولی اللہ جو سامنے ہی صوفےپر موبائل پہ مصروف تھا ایک دم متوجہ ہوئے۔یہ جو مدارس کا نظام چل رہا ہے اس میں اصلاح ممکن ہے۔مدارس سے بھی کوئی ڈاکٹر یا انجنئیر نہیں بن سکتے۔موقع جو مل گیا تھا اپنی علمیت جھاڑنے کا سو دل کی بات کہہ ہی ڈالی۔میں چاہتا بھی یہی تھا ک بحث چھیڑ جائے۔ جواب مختصر مگر جامع أیا۔اور میں اس کامنہ تکتا ہی رہ گیا۔بھائی أپ کے نظام ہائے تعلیم سے کوئی دین کا عالم کیوں بن رہے۔اور میں خیالات میں کھو سا گیا۔پھر دل سے اواز أئی کہ بھائی فخر مزاج کچھ ٹھکانے لگی۔اور میں خاموشی توڑنے پر امادہ نہ تھا۔درد دل زیادہ شدت سےمحسوس ہوئی۔میں اپنی انا چھوڑنے امادہ نہ تھا۔اور درد دل حقیقت أشنا کر پر بضد۔اور پھر میں ہار گیا ۔جیت درد دل کی ہوئی۔یار انعام مجھے دائین کروٹ لینے میں مدد کرو۔میں جو دیر سے بائیں کروٹ پہ تھا۔اس خوش فہمی میں کہ درد دل کو کچھ دبائے رکھو مگر وہ درد ہی کیا جو دب جائیں۔ پھر چشم تصور نے دیکھا عرب کی تپتی صحرا میں کوئی پڑا ہے ۔یہ بلال ؓہے۔ اس کو کیا ہوا ۔بس ایک درد ہے جس کے اظہار پر یہاں پڑا ہے مگر مجال ہے کہ کنارہ کر لیں۔یہ تو محمدی ﷺ درد ہے۔ اور پھر قادسیہ کا میدان ہو یا قیصر و کسر ٰی کے محلات
اس درد کی گونج سے ہی زمین بوس ہوئے۔ پھر یہی درد شاہ ولی اللہ سے ہوتے ہو ئے ہندوستان کے ایک درویش صفت مولوی تک پہنچ گیا۔ اور اس نے کچھ اس انداز سے اسے سینے لگایا کہ گویا درد کو قرار ہی أگیا۔محمد قاسم نے اپنی ساری توانائی اس کی أبیاری میں لگائی۔چشم فلک نے اسے دارالعلوم دیو بند کی حیثیت سے دیکھا۔اکابرین نے جس طرح اپنے خون سے اس کی ابیاری کی اب وہ پودہ ایک تناور اور پھل دار درخت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔دل سے پھر أواز أئی۔کہ فخر بھائی یہ اہل مدارس پر اوازے کستے ہو ۔اپنی دانست بر محل سوالات داغ لیتے ہو۔ کہ ان کی فنڈنگ کے ذرائع کیا ہیں۔ کس طرح اور کہاں سے روزی روٹی کا بندبست کرتے ہیں۔تو عرض ہے کہ تم جیسے کم فہم اتنا تو جان لیتے کہ جس ذریعے سے تمہیں گرم مزاج کا حامل تلور کا گوشت مل رہا ہےاور تم جو
سکون کی تلاش میں سرگردان پھرتے ہو یا پھرسالم دیسی مرغی کھاکے محض ڈکار پر اکتفا کرتے ہو۔وہی ذریعہ اہل مدارس کا بھی ہے فرق صرف اتنا کہ یہ شکر کرتے ہیں ۔اور مرغن غذاوں کا اثر تمہاری زباں پربھی ہو رہا ہے تب تو سورہ کوثر بھی تم سے پڑھا نہیں جاتا۔ممبر و محراب تم کیا سنبھالتے تم سے تو اپنے گھر والے بھی نہیں سنبھالے جاتے ۔ جو أئے روز میرا جسم میری مرضی والا راگ الاپتی رہتی ہیں اور تم جدید تعلیم یافتہ ان کے باپ یا بھائی ہو افسوس تم پر۔تمہارے بارے میں قرأن کا فیصلہ أچکا ہے کہ یہ چوپائے ہیں بلکہ ان سے بدتر۔یاد رکھو نور کو پھیلنا ہی ہے (جاری ہے)

Related Articles

Back to top button