عورت مارچ یا اسلامی حقوق؟ اصل مسئلہ کیا ہے؟* ۔۔۔۔۔۔تحریر: ابو سلمان

ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں عالمی یومِ خواتین منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر خواتین کے حقوق، ان کے مسائل اور معاشرے میں ان کے مقام پر گفتگو کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی اس دن کے حوالے سے ایک خاص بحث جنم لیتی ہے، خصوصاً عورت مارچ کے حوالے سے۔ کچھ لوگ اسے خواتین کے حقوق کی آواز قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ اسے مغربی فکر اور خاندانی نظام کے خلاف ایک تحریک سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے کو جذبات کے بجائے قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے چودہ سو سال پہلے عورت کو وہ حقوق عطا کیے جن کا تصور بھی اس زمانے میں موجود نہ تھا۔ اسلام نے عورت کو معاشرے کا باوقار رکن بنایا اور اسے عزت، احترام اور حقوق عطا کیے۔ اگر ہمارے معاشرے میں کہیں عورت کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے تو اس کی وجہ اسلامی تعلیمات نہیں بلکہ ان سے دوری ہے۔
1۔ *اسلام نے عورت کو وراثت کا حق دیا*
اسلام نے عورت کو باقاعدہ وراثت میں حصہ دیا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا﴾
(سورۃ النساء: 7)
ترجمہ: مردوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے، خواہ مال کم ہو یا زیادہ، یہ حصہ مقرر کیا گیا ہے۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عورت کو وراثت سے محروم کرنا صرف سماجی ناانصافی نہیں بلکہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی بہت سی بیٹیوں اور بہنوں کو ان کا شرعی حق نہیں دیا جاتا۔
2۔ *نکاح میں عورت کی رضامندی لازمی ہے*
اسلام نے نکاح کو ایک مقدس معاہدہ قرار دیا ہے جس میں عورت کی رضامندی بنیادی شرط ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا»
(صحیح مسلم، کتاب النکاح، حدیث: 1421)
ترجمہ: بیوہ عورت اپنے نکاح کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری لڑکی سے بھی نکاح کے معاملے میں اجازت لی جائے گی۔
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام میں زبردستی نکاح کی کوئی گنجائش نہیں۔
3۔ *حق مہر عورت کا شرعی حق ہے*
اسلام نے نکاح کے وقت عورت کے لیے حق مہر مقرر کیا جو مرد پر لازم ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
﴿وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً﴾
(سورۃ النساء: 4)
ترجمہ: اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔
لیکن ہمارے معاشرے میں اکثر نکاح کے وقت مہر تو بڑی شان سے لکھ دیا جاتا ہے مگر ادا کرنے کی نوبت کم ہی آتی ہے۔ حالانکہ حق مہر ادا کرنا شرعی اور قانونی ذمہ داری ہے۔
4۔ *اسلام میں مرد و عورت کا تعلق مقابلے کا نہیں*
اسلام مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ ایک دوسرے کا مددگار اور محافظ قرار دیتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ﴾
(سورۃ النساء: 34)
ترجمہ: مرد عورتوں کے نگہبان اور ذمہ دار ہیں۔
اس آیت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مرد کو ظلم کا اختیار دے دیا گیا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد کو خاندان کی کفالت اور ذمہ داری کا مکلف بنایا گیا ہے۔
5۔ *عورت کے ساتھ حسنِ سلوک اسلام کی تعلیم*
اسلام نے مردوں کو اپنی بیویوں اور خواتین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي»
(سنن الترمذی، حدیث: 3895)
ترجمہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں تم سب میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ عورت کے ساتھ حسنِ سلوک ایمان اور اخلاق کی علامت ہے۔
6۔ *اصل مسئلہ عورت مارچ نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات سے دوری*
اگر ہمارے معاشرے میں عورتوں کو وراثت نہ ملے، نکاح میں ان کی مرضی کو نظر انداز کیا جائے اور حق مہر ادا نہ کیا جائے تو یہ اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ لیکن اس کا حل یہ نہیں کہ ایسے مارچ کیے جائیں جن میں بعض اوقات مغربی نظریات کی حمایت میں اور اسلامی خاندانی نظام کے خلاف نعرے لگائے جائیں۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ:
1=بیٹیوں کو وراثت میں ان کا حق دیا جائے
2=نکاح میں عورت کی رضامندی کو لازمی سمجھا جائے
3=حق مہر ادا کیا جائے
4=مرد اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے
اسلام نے عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کی حیثیت سے جو عزت اور مقام دیا ہے وہ کسی اور نظام میں نہیں ملتا۔ اگر مسلمان معاشرہ واقعی قرآن و سنت کے اصولوں پر عمل کرے تو عورت کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
حقیقت یہی ہے کہ عورت کی عزت مارچ اور نعروں میں نہیں بلکہ اسلام کے عادلانہ نظام میں ہے۔
لھذا اس بارے کچھ لکھنے سے پہلے قرآن وسنت کامطالعہ نہایت ضروری ہے
اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت عطا فرمائے آمین یارب العالمین


