63

کراچی پر قبضہ مافیا کا کنٹرول اور بلاول کے فرمودات۔۔۔۔۔۔تحریر:تقدیرہ خان

روشنیوں کا شہر کراچی، باغوں کا شہر لاہور، پھولوں اور گلابوں کا شہر پشاور، ایشیا کا سب سے زیادہ صاف ستھرا اور صحت افزا شہر کوئٹہ، ملکہ کوہسار مری، اداس شاموں کا شہر ایبٹ آباد، ایشیا کا سب سے خوبصورت گاؤں داتا (مانسہرہ)، پہلوانوں کا شہر گوجوانوالہ، ہنر مندوں کا شہر سیالکوٹ، میروں، پیروں اور کھجوروں کا شہر نواب شاہ اور آموں کا شہر ملتان۔ میرے ملک کا کونسا شہر اور بستی ہے جو قدرتی حسن اور فن و ثقافت کا بے مثال نمونہ نہ تھی۔ قائداعظم ؒ سے لیکر ذوالفقار علی بھٹو تک ان شہروں، قصبوں، دیہاتوں اور بستیوں کی رونقیں بحال رہیں اور پھر بھٹودور میں ہی ووٹوں اور نوٹوں کے بدلے میں قدرت کی رنگینوں اور تہذیبی حسن کو گہنانے کا کاروبار شروع ہو گیا۔ سیاست کی کوکھ سے جمہوریت تونہ نکلی مگر لاقانونیت، جبر، ظلم، تکبر و رعونت او ر مادی خداؤں کے آگے سر تسلیم خم کرنے والوں کی ایک جماعت مافیا کے نام سے سامنے آئی اور جبر کو جمہوریت کا نام دیکر عوام الناس سے جینے کا حق چھین لیا۔
یوں تو پاکستان کا کوئی نہ ایسا شہرنہیں جہاں مافیا کی حکمرانی نہ ہوئی مگر کراچی کے حالات خصوصی توجہ کے طالب ہیں۔
کراچی کا نام ذہن میں آتے ہی ڈرگ روڈ، کلفٹن، ہاکس بے، کیماڑی، اور منوہڑا کا تصور اُبھرتا تھا۔ ڈرگ روڈ کراچی کی لائف لائن سمجھی جاتی تھی۔ یہ ایک کشادہ شاہرا تھی جس میں کئی سڑکیں آکر ملتی تھیں مگر ٹریفک جام کا کبھی ذکر نہ سنا تھا۔
جمہوریت آئی تو یہ شاہر ا سکڑنے لگی۔ ٹریفک جام کراچی کا مسئلہ بن گیا اور ہر سگنل اور چوک پر ڈاکوؤں نے عوام کو لوٹنا شروع کر دیا۔ واٹر مافیا نے سارے کراچی کو کربلا میں بدل دیا اور بلڈنگ مافیا نے ندی نالوں پر تجاوزات کی بھر مار کر دی۔ اس سلسلے میں ملیر ندی اور گجر نالے نے عالمی شہرت اختیار کی چونکہ پچھلے چند سالوں سے کراچی کی بے ہنگم آبادی اور نکاسی آب کے فقدان کی وجہ سے کراچی گندے پانی، بد بو اور تعفن، کچڑا اور بیماریوں کا شہر بن گیا۔ یہ سارا کام کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، بلدیہ عظمیٰ اور سندھ گورنمنٹ نے مل کر کیا اور مافیا کی مدد سے اربو ں نہیں بلکہ کھربوں روپے کمائے۔
کراچی کی حالت زار دیکھتے ہوئے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے انتہائی جرأت مندانہ قدم اُٹھاتے ہوئے ڈرگ روڈ کے اطراف او ر گجر نالے پر بنی تعمیرات گرانے کا حکم دیا۔ جناب چیف جسٹس نے ماتحت عدالتوں کی طرف سے جاری کردہ حکم امتناعی خارج کر دیے جس پر کراچی میں قبضہ مافیا نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اعلیٰ عدالت نے حکم دیا کہ سندھ حکومت متاثرین کو معقول معاوضہ اور زمین الاٹ کرے اور اُن کی آباد کاری کا موزوں انتظام کیا جائے۔ بجائے کام کرنے کے مافیا جات اور اُن کی پشت پر کھڑے حکمران عدلیہ پر حملہ آور ہیں اور اپنی لاقانونیت کو انسانی حقوق کی پامالی سے منسلک کر رہے ہیں۔کبھی خبر آتی ہے کہ گجر نالے کی آواز اقوام متحدہ میں پہنچ گئی اور کبھی قومی اسمبلی میں آواز اٹھانے اور سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دینے کے افوائیں پھیلائی جارہی ہیں۔
اس ساری صورت حال سے یوں لگتا ہے کہ اس ملک میں قانون کی حکمرانی اور عام آدمی کے حقوق کا کوئی شائبہ ہی نہیں۔ سب کچھ مافیا کے کنٹرول ہے۔ اگر سپریم کورٹ کے حکم کو ہوا میں اڑانے کی باتیں ہو رہیں اور ماتحت عدالتیں قبضہ گروپوں اور مافیا کو حکم امتناعی کی صورت میں سیورٹ کر رہی ہیں تو ایسی عدالتوں کا کیا فائدہ ہے۔ یہ بھی سوا ل اُٹھتا ہے کہ اگر عدالتوں پر مافیا کا اثر ہے تو پھر عدالتوں کے بجائے مافیا کے آگے ہی سجد ہ ریز کیوں نہ ہوا جائے۔
اس بات میں کیا شک ہے کہ مافیا اور ملکی امور چلانے والی مشینری کرپٹ سیاسی نظام سے بھرپور فائدہ اُٹھا رہی ہے اور نام نہاد سیاستدانوں کی مدد سے ملک کے اندر متوازی حکومت چلا رہی ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ملک کے سب سے بڑی قاضی کو کہنا پڑا کہ سندھ حکومت یونس میمن چلا رہا ہے۔ سندھ کی حکمران جماعت نے جناب چیف جسٹس کے بیان کی درستگی کرتے ہوئے کہا کہ ان صاحب کا اصل نا م یونس قدوائی ہے اور وہ مرد حر کی مبینہ کرپشن کے ماسٹر مائنڈ سمجھے جاتے ہیں۔ موصوف آجکل مفرور ہیں اور کبھی امریکہ اور کبھی کینڈا کے مہنگے ترین ہوٹلوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ یہ معلوم نہیں کہ موصوف اکیلے ہوتے ہیں یا حسین حقانی کے سائے میں رہتے ہیں۔
اگرچہ جناب عمران خان مافیاکے خلاف اعلان جہاد کرچکے ہیں مگر یہ ون مین شو اور عمران خان ون مین آرمی ہیں۔ وہ خود بھی مافیا کے حصار میں مقیدہیں اوراُن کی حکومت کے سارے معاون کرپٹ اور ہروقت حکومت گرانے کی دھکمیاں دیتے ہیں۔ اگر جناب عمران خان انہیں قانون کے دائرے میں لاتے ہیں تو قوانین بھی ان ہی کے بنائے ہوئے ہیں اور قانون کے سارے راستے ا نہی کے گھروں سے گزر کر جاتے ہیں۔
نواز شریف اور زرداری خاندان پوری طرح مطمئن ہیں کہ اقتدار کا تاج جلد ہی اُن کی جھولی میں گرنے والا ہے۔ دیکھا جائے تو حقیقت بھی یہی ہے۔ سرے محل، ہیروں کا ہار، بیرون ملک کھربوں کی جائیدادیں اور اندرون ملک دولت کے انبار مگر جب اقتدار کی باری آئی تو سپریم کورٹ نے نواز شریف کی سزائیں معاف کر دیں اور جناب زرداری کی ساری فائلیں ہی غائب ہو گئیں۔ اعلیٰ عدالتوں نے فیصلہ کیا کہ فوٹو کا پیاں قابل قبول نہیں لہذا قصہ ختم اور پیسہ ہضم۔ اب بھی یہی ہوگا اور کام چلتا رہیگا۔
جناب بلاول نے آزادکشمیر میں تقریروں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور ایک بار پھر کشمیریوں کو آزادی، خوشحالی، ترقی و تعمیر کی خوشخبریاں سنا رہے ہیں۔ سنا ہے بلاول نے لندن کی کسی یونیورسٹی سے تاریخ کا مضمون پڑھ رکھا ہے مگر وہ اپنے گھر کی تاریخ سے بھی نا بلد ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ کشمیریوں کی غلامی اور مقبوضہ کشمیر کے عوام پر جو قیامت برپاہے اُس میں اُن کے ناناحضور کا کتنا حصہ ہے؟ 62میں جب چین نے بھار ت کو دبا رکھا تھا اور ہمیں مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے کی دعوت دی تھی تو بھٹو صاحب نے امریکہ کے کہنے پر ایوب خان کو روک دیا تھا۔65کی جنگ کی منصوبہ بندی بھٹو اور شعیب نے امریکی تھپکی پر کی مگر خدا نے پاکستان بچا لیا۔ 71میں اُدھر تم اور اِدھر ہم ہوا اور ملک دولخت ہو گیا۔ تاشقند میں کیا ہوا تھا؟ کشمیریوں اور بلاول کو درگا داس کی کتاب ” کرزن سے نہرو اور65کے بعد "پڑھنے کی ضرورت ہے۔ اگر بھٹو صاحب کے مشورے کے مطابق درہ حاجی پیر مزید چھ ماہ تک بھارت کے قبضے میں رہتا تو آج آذاد کشمیر بھی نہ ہوتا۔ سیز فائر لائن کو لائن آف کنٹرول میں بدلنا بھٹو صاحب کا دوسر ا "اِد ھرہم اور اُدھر تم” تھا جس پر سردار عبدالقیوم اور کرنل مرزا حسن نے احتجا ج کیا تو بھٹو نے دونوں کو جیل میں ڈال دیا۔
آزادکشمیر کے سیاستدانوں اور بلاول بھٹو کو بھارتی خفیہ ایجنسی کے سابق چیف اے ایس دلت کی کتاب "کشمیر واچپائی کے دور میں ” بھی پڑھنے کی ضرورت ہے۔ بھٹو صاحب نے ہی فاروق عبداللہ کے ذریعے شیخ عبداللہ کوپیغام دیا تھا کہ بھارتی آئین کے اندر رہتے ہوئے فیصلہ کرو۔ آج اس فیصلے کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔
جب راجیو گاندھی اسلام آباد آیا تھا تو بلاول کی والدہ مرحومہ ملک کی وزیراعظم تھیں۔ مرحومہ کے حکم پر نہ صرف کشمیر ہاؤس کا بورڈ ہٹا دیا گیاتھا بلکہ پنڈی اور اسلام آباد میں جن سٹرکوں، گلیوں، ہوٹلوں پر اور بیکریوں کے نام کشمیر سے منسوب تھے اُن کے بورڈ بھی ہٹا دیے گئے تھے۔ جناب بلاول بھٹو سے درخواست ہے کہ وہ آزادکشمیر پیپلز پارٹی کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیں۔ اگر اس ملک میں عد ل و انصاف اور حقیقی احتساب ہوتا تو آج سارے جیالے اور متوالے،وزیر، مشیر اور وزرائے اعظم جیلوں میں ہوتے۔کشمیرہائسنگ سیکم میں ہونے والی کرپشن کا ہی معاملہ عدالت سن لے تو جیالہ ازم اپنی موت آپ مر ماجائے۔ جاگراں اور نیلم جہلم منصوبوں میں ہونے والی کرپشن سے لیکر شاردہ یونیورسٹی سے نودارت کی چوری کے علاوہ اربوں روپے کی انتہائی قیمتی اور نایاب جڑی بوٹیاں بھارت بھجوانے اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی جیسے جرائم بھٹو از م کی ہی ؑعنایات ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں