106

قانون پسندی اور کافر انگریز…… ظہور الحق دانش

1895ء کی ریاستِ چترال میں اقتدار کی کشمکش اور جنگ کے دوران چترال میں تعینات برٹش ایجنٹ جیارج رابرٹسن اپنی مشہورِ زمانہ کتاب The Story of a Minor Siege میں بہت سے تلخ واقعات و تجربات کا ذکر کرتا ہے۔ مذکورہ کتاب اگرچہ مجموعی طور پر چترال میں جنگ اور محاصرے کے دوران اُن کی فوج پر گزرنے والے حالات و واقعات کی روداد ہے، تاہم اس کتاب سے انسانی فطرت و نفسیات کے پراسرار گوشوں اور سماجی و سیاسی محرکات و عوامل کے حوالے سے بھی آنکھیں کھول دینے والے اسباق اخذ کیے جا سکتے ہیں۔

سنگین تلخ تجربات کے علاوہ رابرٹسن اس کتاب میں کئی ایک دلچسپ اور مزاحیہ واقعات کا بھی ذکر کرتا ہے۔ ایسے واقعات میں سے ایک واقعہ کچھ یوں ہے کہ شیر افضل اور عمرا خان کی مشترکہ فوج نے جب اُن کو قلعہ چترال میں محصور کیا اور یہ محاصرہ طول پکڑتا گیا، تو اُن پر مسلسل گولہ باری کے علاوہ ایک بہت بڑا چیلنج یہ درپیش ہوا کہ اُن کا راشن کم پڑتا گیا۔ اَسّی مربع گز رقبہ والے قلعہ چترال کے اندر انگریز فوج کے افسران و سپاہی، سبکدوش مہتر امیر الملک اور نئے مہتر شجاع الملک اور ان کے وزراء و عمائدین کو ملا کر 550 افراد محصور تھے۔ راشن کی مقدار بہت محدود تھی اور محاصرہ تھا کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا (جو 47 دن تک جاری رہا)۔ طول پکڑنے والے محاصرے کے مد نظر انہوں نے کچھ سخت گیر اقدامات یوں اٹھائے کہ محصورین کی ماکولات و مشروبات کی شئیر میں شدید کمی کر دی۔ جب ماتحت فوجی افسروں کی مشروب میں کمی کرکے تقریباً آدھا لیٹر فی کس ہر بارہ دن مقرر کیا تو، رابرٹسن لکھتا ہے کہ، ایک جونئیر آفسر ایک دن بڑا پریشان اور چہرے پر مجروح تاثرات کے ساتھ اُن کے کمرے میں داخل ہوا۔ اُس کے ہاتھ میں فوجی قوانین اور ضوابط کا ایک کتابچہ تھا۔ اندر آتے ہی اس نے کہا کہ چونکہ قانون کی اس کتاب کی رو سے ہر فوجی افسر کو ایک مخصوص مقدار کی مشروب مقرر ہے، آپ کیوں ہمیں مقررہ مقدار فراہم نہیں کرتے؟

اس پر رابرٹسن نے مسکراہٹ کے ساتھ بڑے پیار سے اس کو سمجھایا کہ ظاہراً مذکورہ قانون عام حالت کے لیے بنایا گیا ہے اور اس کا محاصرہ جیسے ہنگامی حالت اور راشن کی کمی جیسے حالات پر اطلاق نہیں ہوتا۔ رابرٹسن کہتا ہے کہ یہ اُس متعلقہ قانونی شق کی ایک غیر معمولی بھول تھی، کہ ہنگامی حالت پر وہ خاموش تھا۔

اس واقعے کا ذکر صرف اس لیے کیا جاتا ہے کہ ہم برائے نام قانون کی حکمرانی کے نعرے دینے والے لوگ کیا اپنے اداروں میں قوانین کو کوئی اہمیت دیتے ہیں؟ کیا ہم اتنے با شعور ہیں کہ مملکتِ پاکستان کے قانون نے ہمیں جو حقوق بحیثیت شہری اور بحیثیت ملازم و کاروباری دیے ہیں ان کے حوالے سے ذمہ دار افسران سے پوچھ گچھ کر سکتے ہیں؟ بالکل اسی طرح جس طرح اس انگریز سپاہی نے اپنے ذمہ دار افسر سے پوچھا تھا، حالانکہ حالت بھی نارمل نہیں بلکہ ہنگامی تھی۔ پھر بھی قانون کا اتنا شعور اور اتنا احترام حیران کن ہے۔ نہیں؟

ہمارے اکثر ادارے قوانین سے زیادہ کچھ افراد کی مرضی اور طریقہ ہائے استحصال کے بل بوتے پر چلتے ہیں۔ خاص کر خود مختار ادارے تو۔۔۔ تباہ دے تباہ۔

میرا دو الگ الگ خودمختار اداروں میں ملازمت کا دس سالہ تجربہ ہوا، اور بہت ہی تلخ تجربہ ہوا۔ اچھا پہلو یہ تھا کہ ہمیں شیطانی انسانی رویوں اور محرّکات کا مشاہدہ و تجزیہ کر کرکے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ حضرتِ انسان کو لالچ، حسد، خود غرضی، بھوک، کرپشن، انانیت، غرور، دوغلاپن، منافقت، خنّاسیت اور اخلاقی گراوٹ کی دلدل میں مختلف روپ میں رینگتے ہوئے دیکھا۔ مذکورہ دونوں اداروں کے "کامپیٹینٹ اتھارٹیز” استحصال، بدعنوانی، بے قاعدگیوں اور پالیشیانہ طریقہ ہائے کار و طریقہ ہائے واردات کا ایسا بازار گرم کر رکھا تھا کہ اگر آپ اُن سے قانون اور اصول کی بات کرتے تو بہت بُرا مناتے اور کہتے تھے کہ قانون قانون کا رٹہ بند کرو، یعنی ہمیں اپنی مرضی سے چلنے اور چلانے دو۔ بس منافقت خصلت اور مریض ذہنیت والے ایک آدھ بابؤں کو لیکر ملازمین کو ڈرا دھمکا کر اور کچھ کو لالچ دے اُن کو خاموش کراتے ہوئے اور کچھ کے خلاف منفی پروپیگنڈے کرا کے اپنے انداز سے قانون کو توڑ مروڑ کے اداروں کے امور چلائے جاتے تھے۔ وہ سب قصے مع شواہد بتانے اور لکھنے لگ جائیں تو داستان بن جائے۔ (انشاء اللہ ایک دن ایسی داستان بن بھی جائے گی اور چھپے گی بھی۔)

یہ پھر الگ بات ہے کہ ایسے فرعون صفت اور استحصالی و مریض ذہنیت کے بھوکے لوگ ذلیل و خوار ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ یہ قدرت کا اُن سے انصاف کا الگ معاملہ ہے۔

مدّعا کا لُب لباب یہ ہے کہ

قانون پسندی اور اصول پسندی بہت بڑی طاقت ہے۔ یہ تہذیب ہے۔ یہ ترقی کا زینہ ہے۔ یہ انسانی نظم کا حسن ہے۔ یہی دین کا معراج بھی ہے کہ اللہ کے قانون کے سامنے اپنی ناجائز خواہشات و مفادات کا سر خم کرو۔ قانون پسند اور اصول پسند معاشرے ہی تہذیب اور ترقی کے بام عروج تک پہنچتے ہیں۔

قانون اور اصولوں کو روندنے والے افراد اور قوموں کا منطقی انجام ہی ذلالت و زوال ہے۔

قوانین سے آگہی حاصل کیجیے، اور اُن پر عمل کیجیے، اور جہاں جہاں قانون یا ضابطہ میں آپ کو کوئی لُوپ ہولز یا بھول چُوک نظر آئیں تو اپنے ادارے کے اس متعلقہ قانون ساز باڈی کو اپنی پرخلوص تجویز دیتے رہیے تاکہ اپنی قوم کی تہذیب و ترقی کے سفر میں آپ کا کنٹریبیوشن رہے، نہ کہ ذلت و انحطاط کے سفر میں۔ کل کو ابراہیمی چڑیے کی طرح کم از کم یہ سرخروئی تو ہو سکتی ہے کہ ہم آگ بُجھانے والوں کی صف میں شامل تھے، نہ کہ آگ لگانے والوں کی صف میں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں