90

یومِ مئی۔۔کیا محنت کشوں کو حقوق مل گئے؟۔۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

مزدورچاہے امریکہ کاہویاچین کا،پاکستان کاہویاافغانستان کا،اس کاتعلق روس سے ہویایورپ سے ،عرب کے آگ برساتے ریگستانوں میں شدت گرمی سے بے خبر خون پسینہ ایک کرتامحنت کش ہویاپیٹ کادوزخ بھرنے اور اپنی بھوک مٹانے کی خاطرسردممالک کے یخ بستہ ہواؤں سے لڑتاجھگڑتامزدورہو،مزدورخواہ مسلمان ہویاغیرمسلم ،عربی ہویاعجمی،سیاہ ہویاسفید،چاہے اس کاتعلق کسی بھی ملک ،کسی بھی مذہب ومسلک اورعقیدہ سے کیوں نہ ہو، اس کارنگ ونسل اور زباں کوئی بھی ہومزدوربس مزدورہی ہوتاہے اور محنت ہی اس کامذہب ومسلک ہوتاہے، اس کابولنا،اٹھنابیٹھنا،اوڑھنااوربچھونا بلاشبہ محنت ہی ہوتاہے ۔اورشاعر نے کیاخوب کہاہے کہ ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات ۔اگرچہ سب جانتے ہیں کہ یکم مئی دنیابھرمیں عالمی یوم مزدور کے حوالے سے اپنے حقوق کے لئے زندگی کی بازی ہارنے والے امریکن کینڈین لیبریونین کے ان مزدوروں کے ساتھ یکجہتی کے طورپر منایاجاتاہے جو 1886کوامریکہ کے شہر شکاگومیں ریاستی جبراور بدترین قاتلانہ تشدد کے شکار ہوئے تھے۔اس دن دنیابھرمیں ان محنت کش مزدوروں کوسرخ سلام پیش کیاجاتاہے جنہوں نے اپنے یعنی مزدوربرادری کے لئے اپنا خون تک توبہادیااور اپنی جانیں تونچھاورکردیں مگر وقت کے ظالم ،جابراور غاصب حکمرانوں کے سامنے جھکے نہ اپنی آواز کو دبنے دیا۔کہتے ہیں کہ جدوجہد اور قربانی کبھی رائیگاں نہیں جایا کرتی سویہی ہوا کہ جدوجہد کرتے اور اپنے حقوق کے حصول کی خاطر جانوں کانذرانہ دینے والے شکاگوکے ان عظیم مزدوروں کی لازوال قربانی کی بدولت انٹرنیشنل لیبرآرگنائزیشن(آئی ایل او)کاقیام عمل میں لایاگیاجس سے محنت کش مزدوروں کوان کی اصل پہچان ملی اوردنیابھرمیں نہ صرف ان کی حیثیت اور حقوق کوتسلیم کیاگیابلکہ ان کے لئے عالمی لیبرقوانین بھی مرتب کئے گئے۔ پہلے مزدور سے18 گھنٹے کام لیاجاتاتھا مگر شکاگو کے محنت کشوں کی قربانی کے نتیجے میں مزدوروں کے لئے آٹھ گھنٹے کے اوقات کارکاتعین کیاگیا۔ دنیاکے دیگر ممالک کی طرح مملکت خداداد پاکستان میں بھی یکم مئی محنت کش مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایاجاتاہے جس میں اس دن کی مناسبت سے تقاریب،سیمینارز اور ریلیوں کا روائتی اہتمام توکیاجاتا ہے مگر مزدور کون ہے اور ان سے مخاطب کون ہے کا اٹھتا سوال جواب طلب بھی ہے اور غورطلب بھی جبکہ اس کے تناظرمیں جنم لیتے سوالات یہ بھی اہم ہیں کہ یکم مئی یوم مزدور کے طورپر منانے سے کیا مزدوروں کو ان کے حقوق مل جاتے ہیں، کیاوقت کے حکمران صحیح معنوں میں مزدوروں کوان کے جائز حقوق دینے اور دلوانے میں اس دن کاکوئی اثر لیتے ہیں،کیامزدوروں کے لئے بنائے گئے مروجہ لیبر قوانین پر کوئی عملدرآمد کیاجاتاہے،یارات گئی بات گئی کے مصداق دن آیامنایا اور گزرگیا اگلے سال بھی یہی ہوگااور یہ سلسلہ اسی طرح چلتارہے گا اوراعادہ کیاجاتارہے گا اس عزم عہد کاجو کبھی سودمند ثابت ہی نہیں ہوگا۔ المیہ یہ ہے کہ یہاں ایشوز پر وہ لوگ بات کرتے ہیں جن کاان سے تعلق کوئی ہوتاہے نہ سروکار۔دوسری جانب اکثرخواتین کے حقوق پر مرد اور بچوں کے حقوق کے لئے خواتین گلاپھاڑکر بات کرتی سنائی دیتی ہیں مگرحدتویہ ہے کہ چائلڈ لیبر کی ایشوزاٹھانے والے سیاسی اور سماجی خواتین وحضرات کے گھروں میں کچن،مہمان داری، کارواشنگ اوربچوں کی دیکھ بھال پرمامورملازم کم عمربچے ہی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایشوزاٹھا تودیئے جاتے ہیں مگران پر عملد ر آمد کرنااور کراناتوکجا احساس تک نہیں کیاجاتا ہے ۔ اس دفعہ یکم مئی کو مجھے اپنے آبائی علاقہ میںیوم مزدورکے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب میں شریک ہونے کااتفاق ہواجس کااہتمام پیپلزلیبر بیورو نے کیاتھااگرچہ مذکورہ تقریب کے انعقاد سے اختلاف ہے نہ ہی اس کے منتظمین میں سے کسی کی ذات سے کوئی گلہ شکوہ بلکہ اس اہم دن کی مناسبت سے خصوصی تقریب کااہتمام کرنے پراس کے منتظمین کاکردارقابل تعریف وتقلید اور لائق دادوتحسین تھاالبتہ یہ الگ بات تھی کہ وہاں بولنے اور سننے والوں میں علاقہ کے عمائدین سابق وزیر ،منتخب کونسلروناظمین،سیاسی رہنماء ،طلباء اورطلباء تنظیموں کے قائدین تو موجود تھے مگر جن کے لئے سٹیج سجایاگیاتھاجن کی محنت کوخراج تحسین اور جن کی قربانیوں کوسلام عظمت پیش کیاجارہاتھاان کی جھلک نظرنہیں آرہی تھی یعنی مزدوروں کے لئے منعقدہ بھرے پنڈال میں مزدور ہی تھے جوکہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے سوائے چند ایک کے جوبلاشبہ مزدور کہلاتے ہوں گے مگراگرتقابلی جائزہ لیا جائے توان کا منصب اورمعیارزندگی عام مزدورکے معیار زندگی اورفرائض منصبی سے کافی مختلف اور اونچانظرآئے گاسویہ کہناغلط نہیں ہوگاکہ شادی ہورہی تھی مگر دلہا دلہن کے بغیر، مختصر اََ یہ کہ سماعت سے محروم کسی بہرے شخص کو ہمسائے کے گھر میں ہونے والی سرگوشی سنائی دی ہویا قوت بصارت سے محروم ایسا شخص جسے کوسوں دورپڑی چیز نظرآئی ہویا پھر کہانی ٹانگوں سے محروم اس شخص کی جس نے کسی سہارے کے بغیردوڑلگائی ہو۔المیہ تویہ بھی ہے کہ معاشرے میں طبقاتی نظام کے اندرایک مخصوص طبقہ ہی مزدورکی پہچان بن گیاہے ۔جن کے دم سے خوشحالی آتی ہے اورجوطبقہ معاشی اورمعاشرتی تعمیروترقی کاضامن ہے معاشرے نے اسے نچلی سطح کی شناخت سے نوازاہے ۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ معیشت کاپہیہ چلانے والوں مزدوروں کوغاصبانہ نظام ،ریاستی جبرکے شکنجے اورمٹھی بھراشرافیہ کی غلامی سے نجات دلاناہوگابصورت دیگر محض ایک دن منانے اور مگرمچھ کے آنسوبہانے سے محنت کش مزدوروں کی حالت سدھرے گی نہ حکمرانوں کی بے حسی کبھی ختم ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں