116

شموزئی فیڈرتنازعہ اورجرگہ کی ناکامی۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

کیاواقعی دیر لوئراورملاکنڈایجنسی کے منتخب ممبران اسمبلی شموزئی بجلی لائن کی ترسیل بارے تحریری معاہدہ کی روسے اجازت دے چکے ہیں کہ نہیں اوریہ بھی کہ اس میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کاکردارکیاہے اگرچہ اہمیت کی حامل اس بحث سمیت ایسے کئی دیگر جواب طلب سوال اور بھی ہیں بہرحال اس معاملے میں اب تک کیاکچھ ہوااورنظرآتی صورتحال اس معاملے کے مسقبل کاکیاتعین کرے گی اس حوالے سے اس کے پس منظرمیں وجودرکھتے محرکات کاجائزہ لیاجائے تو چکدرہ دیرلوئر میں قائم بجلی کے گرڈسٹیشن سے سوات کے علاقہ شموزئی کوبجلی لائن کی ترسیل کا معاملہ ویسے توپچھلے ڈھائی تین سالوں سے چلا آر ہاہے تاہم پچھلے تین ہفتوں سے اس معاملہ نے باقاعدہ تنازعہ کی شکل اختیارکرلی ہے۔ بریکوٹ سوات سے پی ٹی آئی کے منتخب ایم پی اے اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکے معاون خصوصی ڈاکٹر امجد نے چکدرہ گرڈ سٹیشن سٹیشن سے بجلی لائن لینے کی ٹھان لی ہے اور’’کہ زڑہ دی خہ وی او کہ بد‘‘یعنی تم مانویانہ مانو’’یوہ سترگہ بہ دی جاڑی اوبلہ بہ دی خاندی‘‘ این کری کہ پین کری خوداپٹے بہ شین کری یعنی تم دیکھتے رہوگے اوریہ ہوکررہے گاکے مصداق وہ بضد ہیں کہ یہ لائن توہرصورت بچھے گی جبکہ دوسری جانب سیاسی جماعتوں،تاجربرادری کے رہنماؤں اوردیگرعلاقائی مشران پر مشتمل دیرلوئر کے علاقہ آدینزئی کاتشکیل کردہ قومی جرگہ عوام کی قیادت کرتے ہوئے مذکورہ بجلی لائن کی ترسیل کے خلاف یہ مؤقف پیش کرکے مزاحمت کررہاہے کہ چکدرہ گرڈسٹیشن پہلے ہی سے کافی اوورلوڈہے جس سے اس وقت کل 14 چالو فیڈرزکے ذریعے دیرلوئر کے آدینزئی ،تالاش اورملاکنڈایجنسی کے مختلف علاقوں بٹ خیلہ، تھانہ ،الہ ڈھنڈاورطوطہ کان وغیرہ کوبجلی فراہم کی جارہی ہے جبکہ چکدرہ میں دوزیرتعمیر سٹیل ملزکوبھی فیڈرز ا دینے ہیں جس کی منظوری دی جاچکی ہے جس کے باعث مذکورہ گریڈ مزیدکسی فیڈرکو برداشت نہیں کرسکتا یہ بھی کہ اس وقت جن علاقوں کویہاں سے بجلی دی جارہی ہے وہاں بجلی کاوولٹیج انتہائی کم اوراس پر مزیدبوجھ ڈالا گیاتویہ بالکل ہی بیٹھ جائے گا ۔اگرچہ شموزئی بجلی لائن بجلی کی ترسیل کے لئے کھمبے نصب کرنے اور تاریں بچھانے کے دوران آدینزئی کے عوام کی جانب سے کسی حد تک مزاحمت سامنے آتی رہی تاہم یہ تنازعاتی معاملہ مجموعی طورپر پرامن اندازمیں آگے بڑھتارہا اورمحض اخباری بیانات کے ذریعے فریقین کا مؤقف اوراحتجاج سامنے آتارہاجبکہ اس معاملے میں آدینزئی قومی جرگہ ،ڈپٹی کمشنردیر لوئراورایم پی اے ڈاکٹر امجدکے مابین کئی بار میٹنگزبھی ہوئیں جن میں محکمہ واپڈاکاٹیکنیکل عملہ بھی شریک رہا۔دوسری جانب قومی جرگہ نے اپنی مجبوریوں اور ضروریات کوسامنے رکھنے سمیت شموزئی کے عوام کی مشکلات کوپس پردہ ڈالنے اوراسے یکسررد کرنے کے برعکس بھرپور احساس کے تحت شموزئی فیڈردینے یانہ دینے کامعاملہ اپنے منتخب اراکین صوبائی اسمبلی جن میں آدینزئی سے ایم پی اے بخت بیدارخان،تالاش دیرلوئر سے صوبائی وزیرخزانہ مظفرسید اورملاکنڈایجنسی سے پی ٹی آئی کے منتخب ایم پی اے شکیل خان کے سپرد کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے مشیرڈاکٹرامجد کوذمہ داری تھی کہ وہ ان منتخب نمائندوں کواعتماد میں لیں اور اگروہ انہیں راضی کنے میں کامیاب رہے تو قوم کو کوئی اعتراض نہیں ہوگالیکن ڈاکٹرامجدنے ایساکرنے کی بجائے زورزبردستی کے تحت معاملہ نمٹانے پر ترجیح دی جس سے معاملہ تصادم کی جانب بڑھااوراس میں انتہائی شدت اس وقت پیداہوئی جب پچھلے دنوں مبینہ طورپروزیراعلیٰ کے مشیر ڈاکٹر امجد کے کہنے پر شموزئی کے لوگوں نے ترخہ ولہ واٹر چینل جوکہ آدینزئی کی حدودمیں دریائے سوات سے نکالا گیاہے پر بلاجوازحملہ کرکے اسے توڑنے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کی جس کی اطلاع ملنے پر آدینزئی دیرلوئر سے منتخب ایم پی اے بخت بیدارخان مشتعل عوام کے ساتھ موقع پر پہنچے جہاں مشتعل عوام نے بجلی کے نصب شدہ کھمبے اکھاڑپھینکے بعد ازاں اس کی پاداش میں ایم پی اے بخت بیدارخان،سابق صوبائی وزیرشاہ رازخان ،تحصیل ناظم چکدرہ قمرزمان اورٹریڈیونین کے ڈویژنل صدر حاجی شاکراللہ سمیت کل 22سیاسی رہنماؤں اور علاقائی مشران پر پولیس سٹیشن چکدرہ میں مقدمات بھی درج کرلئے گئے اور ان میں بیشتر لوگ گرفتاری دینے کے لئے پولیس تھانہ بھی گئے تاہم عوامی دباؤ کے پیش نظران کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی مگربات یہیں تک محدودنہیں رہی بلکہ اگلے دن چیلنج کرنے پر دونوں اطراف کے عوام گوڑاگٹ راموڑہ کے مقام پر ایکدوسرے کے آمنے سامنے آگئے اس موقع پر بدترین تصادم کا بھی خدشہ تھاتاہم دونوں طرف کی انتظامیہ اور پولیس کی بروقت مداخلت کے نتیجے میں تصادم ہوتے ہوتے رہ گیاتھا اور اگر تصادم ہوجاتاتواس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوتے کیونکہ دونوں جانب کے عوام ایکدوسرے کے ساتھ رشتہ داریوں ،تاریخی،تہذیبی اور کاروباری معاملات میں جڑے ہوئے ہیں اور ملاکنڈ ڈویژن میں دہشت گردی کے خلاف ملٹری اپریشن کے پیش نظر جب مقامی لوگوں کو آئی ڈی پیز بنناپڑاتھاتوآدینزئی کے عوام نے سوات بالخصوص شموزئی کے عوام کاکھلے دل سے جو والہانہ استقبال کیاتھااورانہیں سرآنکھوں پر بٹھاکراوراپنے گھروں میں رکھ کر مشکل کی اس گھڑی میں ان کی جوبے لوث خدمت کی تھی اس کاایک زمانہ معترف ہے ۔بہرحال گوڑاگٹ واقعہ کے اگلے روزجب واپڈااہلکارچکدرہ میں شموزئی لائن پر تاریں بچھانے کاکام کررہے تھے تونہ صرف یہاں کے مشتعل عوام نے اہلکاروں کو کام کرنے سے روکے رکھااوردن بھربشمول ایم پی اے بخت بیدار خان قومی جرگہ کی قیادت میں مشتعل عوام سڑکوں پرموجو د رہے بلکہ دن کے اختتام پرآدینزئی قومی جرگہ گرینڈجرگہ میں تبدیل ہواجس میں تالاش دیر لوئر اورملاکنڈایجنسی کے سیاسی رہنماؤں اور عمائدین علاقہ کو شامل کیاگیااوریہ فیصلہ ہواکہ دیر لوئر اورملاکنڈایجنسی کے منتخب ممبران جن میں ایم این ایز اورسینیٹرزبھی شامل ہوں گے اورپھراگلے دن مذکورہ علاقوں کے سیاسی رہنماؤں نے پشاورمیں دیراور ملاکنڈایجنسی کے منتخب ممبران جبکہ منتخب ممبران نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی جس میں اگلے ہفتے تک کاوقت دیتے ہوئے اس بات پراتفاق کیاگیاکہ اس معاملے پر وزیراعلیٰ اور گرینڈجرگہ کی ملاقات تک فیڈرپر کام بند رہے گاجس کے بعد کوئی حتمی فیصلہ سامنے آئے گامگراس معاملے میں نہ تووزیراعلیٰ کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کامیاب ہوئی نہ ہی14مئی کو فشنگ ہٹ چکدرہ میں سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ کی قیادت میں صوبائی وزیر محمودخان،وزیراعلیٰ کے مشیر شکیل خان،ممبران صوبائی اسمبلی صاحبزادہ ثناء اللہ ،عزیزاللہ گران اور ڈاکٹرحیدرعلی پر مشتمل مفاہمتی جرگہ کارگرثابت ہوااور فیصلہ کیاگیاکہ اس حوالے سے ایک اجلاس اب دوبارہ پشاورمیں منعقد ہوگا جس میں وزیراعلیٰ اور واپڈاکے ٹیکنیکل ماہرین بھی شریک ہوں گے اوراس کی تاریخ کااعلان بعد میں کیاجاے گا۔دیکھتے ہیں ہوتاہے کیا۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں