161

بکھرتے خوابوں کی سرزمین۔۔۔۔۔پروفیسررفعت مظہر

یوں تو ہم گزشتہ 75 سالوں سے زنگ آلود تمناؤں کے سہارے ہی زندہ ہیں لیکن اب کی بار وطنِ عزیز جن مسموم آندھیوں کی زَد میں ہے وہ اِن دیمک زدہ تمناؤں کو بھی ریزہ ریزہ کرنے کے درپہ ہے۔ حقیقت یہی کہ زمین کا یہ ٹکڑا ایسے خوابوں کی سرزمین ہے جن کی تعبیر اُلٹ ہی ہوتی ہے۔ اگر کبھی کسی نے ملک کو سیدھی راہوں پر چلانے کی سعی کی تو ہم نے یا تو اُسے تختہئ دار کا مہمان بنا دیا یا بم دھماکے سے اُڑا دیا۔ اگر کچھ بَن نہ پڑا تو جَلاوطنی کی راہ دکھادی جوسیدھی راہوں کے مسافر کی کم از کم سزا مقرر کی گئی۔ یہ سب تو تاریخ کا حصّہ ہے جسے قوم بھگت چکی لیکن اب ہمارے زورآوروں نے جس ”لاڈلے“ کو پال پوس کر نمائش کے لیے پیش کیا ہے اُس کا نصب العین انتشار ہے، محض انتشار۔وہ خوب جانتا ہے کہ وہ عدلیہ کا بھی لاڈلا ہے اِسی لیے جو اُس کے مَن میں آتا ہے، کر گزرتا ہے۔
امیرالمومنین حضرت ابوبکرصدیقؓ نے اسلامی ریاست کی عنان سنبھالتے ہی جو پہلا خطبہ دیا، اُس میں فرمایا ”تم میں سے ہر شخص میرے سامنے کمزور ہے جب تک میں اُس سے کمزور حقدار کا حق واپس نہ لے لوں“ خلیفہ دوم امیرالمومنین حضرت عمرؓ نے فرمایا ”اگر کسی کی وجاہت کے خوف سے عدل کا پلڑا اُس کی جانب جھک جائے تو پھر قیصر وکسریٰ کی حکومتوں اور اسلامی ریاست میں کیا فرق ہوا؟“۔ یہاں مگر عدل کا پلڑا صرف لاڈلے کی جانب جھکتا ہے۔ اُس کی گھر بیٹھے حفاظتی ضمانتیں منظور ہو جاتی ہیں حالانکہ قانون میں اِس کی گنجائش نہیں۔ اُس نے حکومتی رِٹ کو یوں چیلنج کر رکھا ہے کہ عقل حیراں۔ دہشت گرد تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان تو چھُپ کر وار کرتی ہے لیکن زمان پارک میں بیٹھے لاڈلے کا اعلان ”ہم سا ہو تو سامنے آئے“۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے 5 ہزار افراد پر مشتمل حفاظتی حصار میں بیٹھے لاڈلے کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے لیکن کمزور ترین اتحادی حکومت کی جرأت نہیں کہ اُسے گرفتار کر سکے۔ وہ نگران حکومت ہو یا اتحادی لاڈلے کے جوتے کی نوک پر۔ حکومت بیچاری بھی کیا کرے کہ اِدھر وہ لاڈلے کو گرفتار کرنے کی ہمت کرتی ہے تو اُدھر اعلیٰ عدلیہ اُس کی گھر بیٹھے حفاظتی ضمانت منظور کر لیتی ہے۔ اِس وقت لاڈلے پر کئی کیسز درج ہیں جن میں سے ممنوعہ فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن میں ثابت ہو چکا اور توشہ خانہ چوری کیس ثابت ہونے کے بعد ای سی پی اُنہیں نااہل قرار دے چکا۔ ٹیریان وائٹ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے بار بار بلانے کے باوجود لاڈلا پیش نہیں ہورہا اور ہیلی کاپٹر ناجائز کیس ابھی تک عدالت میں فیصلے کا منتظر۔ برطانیہ سے آئے ہوئے حکومتِ پاکستان کے 50 ارب روپے ملک ریاض کو کو واپس کرکے القادر یونیورسٹی کے نام پر 450 کنال زمین بطور رشوت لینے اور بشریٰ بی بی کے ہیروں کی انگوٹھیوں اور ہار وصول کرنے کا کیس بھی ابھی تک تکمیل کے مراحل سے دور۔ نیب اِس کیس میں لاڈلے اور بشریٰ بی بی کو طلب کر چکی لیکن وہ لاڈلا ہی کیا جو کسی عدالت میں پیش ہو جائے۔ ہمارے سامنے شریف خاندان کی مثالیں موجودجو بے گناہ ہوتے ہوئے بھی عدالتوں کا احترام کرتے ہوئے پیش ہوتے۔ میاں نوزشریف اپنی بے گناہی کے باوجود اہلیہ کو بسترِمرگ پر چھوڑ، بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر سزا بھگتنے برطانیہ سے پاکستان آگئے۔ اُدھر لاڈلا ہے کہ دندناتا پھرتا ہے۔ وجہ یہ کہ عدلیہ اُس کی پُشت پر ہے۔
لاڈلے کے لیے عدل کا یہ عالم کہ اُس کی خاطر آئین بھی Re-writeکر دیا جاتا ہے اور خود عدلیہ کے اندر سے اُٹھنے والی آوازوں کو بھی پرکاہ برابر حیثیت نہیں دی جاتی۔ تازہ ترین مثال پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کے لیے اَزخود نوٹس کی۔ محترم چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال صاحب نے اَزخود نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ کا 9 رُکنی بنچ تشکیل دیا۔ کارروائی کے پہلے ہی دن بنچ میں موجود 4 معزز جسٹس صاحبان نے ازخود نوٹس پر اعتراض اُٹھا دیا اور اتحادی حکومت نے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی بنچ میں شمولیت پر اعتراض اُٹھایا۔ اگلے دن چیف جسٹس صاحب نے نیا بنچ تشکیل دیا اور طُرفہ تماشا یہ کہ جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہرنقوی نے بنچ
میں بیٹھنے سے انکار کر دیاجبکہ چیف جسٹس صاحب نے بنچ پر اعتراض اُٹھانے والے 4 جسٹس صاحبان میں سے جسٹس اطہرمِن اللہ اور جسٹس یحیٰی آفریدی کو فارغ کرکے نیا 5 رکنی بنچ تشکیل دے دیا۔ اِس بنچ کی تشکیل کے ساتھ ہی ہر کسی کو معلوم ہو گیا کہ کیا فیصلہ آنے والا ہے۔ اگر عدل کا یہی معیار ہے تو دنیا کے 138 ممالک میں سے ہماری عدلیہ کا 13o واں نمبر کچھ غلط نہیں۔
یہ بجا کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہوچکی اور موجودہ چیف آف آرمی سٹاف سیّد حافظ عاصم منیر واضح اعلان کر چکے کہ اُن کا آئین کے عین مطابق ملکی سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں لیکن پھر بھی سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید کے بچھائے جال کا تاحال ابھی مکمل خاتمہ نہیں ہوسکا البتہ وہ ایکسپوز ضرور ہورہے ہیں۔ مریم نواز نے اصرار کیا کہ جنرل فیض حمید کو عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی غیرآئینی کردار ادا کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔ اُنہوں نے متعلقہ اداروں کو فیض حمید کا کورٹ مارشل کرنے پر بھی زور دیا۔ اُسی دن جنرل فیض حمید نے ایک صحافی کو ٹیکسٹ میسیج کے ذریعے بتایا کہ 2017-18 میں وہ محض میجر جنرل تھے اور کیا ایک میجر جنرل ملٹری ڈسپلن پر عمل کرتے ہوئے اپنے آپ ہی کسی حکومت کا تختہ اُلٹ سکتا ہے؟۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوج میں تمام فیصلے آرمی چیف ہی کرتا ہے۔ صحافی کو میسیج کرتے ہوئے اُنہوں نے یہ بھی لکھا کہ شریف فیملی کے خلاف تمام فیصلے عدالتوں نے کیے تھے۔ جنرل فیض حمید کا یہ جواب بذاتِ خود اِس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ شریف فیملی کے خلاف بُنے گئے جال کا اہم ترین حصّہ وہ بھی تھے۔ اُنہوں نے یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ فوجی ڈسپلن کے تحت سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے احکامات کے پابند تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی بھی شخص غیرآئینی احکامات پر عمل درآمد کرنے کا پابند ہے جبکہ ہر فوجی انفرادی طور پر ملکی سیاست سے لاتعلقی کاحلف دیتا ہے۔ جب جنرل فیض حمید کو جنرل قمر جاوید باجوہ نے غیرآئینی حکم دیا تو اُنہیں نے انکار کیوں نہیں کیا؟۔ فیض حمید صاحب کہتے ہیں کہ شریف فیملی کے خلاف تمام فیصلے عدلیہ نے کیے۔ سوال یہ ہے کہ عدلیہ کو ایسے فیصلے کرنے پر کون مجبور کر رہا تھا؟۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر ترین جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا یہ بیان آج بھی زباں زَدِعام ہے کہ جنرل فیض حمید نے اُن سے ملاقات کی۔ اِس ملاقات میں اُنہیں کہا کہ اگر شریف فیملی کا کیس اُن کے پاس آتا ہے تو وہ کیا فیصلہ کریں گے؟۔ صدیقی صاحب نے فرمایا کہ وہ وہی فیصلہ کریں گے جو آئین وقانون کے مطابق ہوگا۔ اِس پر جنرل فیض حمید نے کہا ”اِس طرح تو آپ ہماری 2 سال کی محنت ضائع کر دیں گے“۔ اِس کے بعد جسٹس صاحب کو یہ لالچ بھی دیا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد انور کاسی کے سپریم کورٹ میں چلے جانے یا ریٹائر ہونے کی صورت میں اُنہیں چیف جسٹس بنا دیا جائے گا لیکن صدیقی صاحب نے بِکنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ تو کیا سپریم کورٹ کا بھی چیف جسٹس بنا دیں تو وہ پھر بھی اپنے ضمیر کے خلاف فیصلہ نہیں کروں گا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اُن کا کیس آج بھی عدالتوں میں دھکے کھا رہا ہے لیکن شنوائی نہیں ہورہی۔ اب اگر جنرل فیض حمید معصوم ہیں تو پھر وہ ہتک عزت کا دعویٰ کرکے اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کریں۔ حقیقت یہی کہ پراجیکٹ عمران خاں بنانے والے جنرل باجوہ تھے اور جنرل فیض حمید اُن کے معاونِ خصوصی جبکہ عدلیہ سے دباؤ کے تحت تمام فیصلے شریف فیملی اور زرداری فیملی کے خلاف کروائے جا رہے تھے تاکہ لاڈلے کے اقتدار میں آنے کی راہیں ہموار کی جا سکیں۔ اسٹیبلشمنٹ اِس میں کامیاب تو ہوگئی لیکن اب صورتِ حال یہ کہ مہنگائی تمام حدیں توڑتی ہوئی، معیشت ڈیفالٹ کے کنارے پراور اتحادی حکومت کا یہ حال ”نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں“۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں