243

داد بیداد…انصاف کی تلا ش…ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

اچھی خبر یہ ہے کہ عدالت عالیہ نے نور مقدم قتل کیس میں امریکی شہری ظا ہر جعفری کی اپیل مسترد کر کے سزائے موت بر قرار رکھی ہے گویا انصا ف ہو تا ہوا نظر آیا ہے قانونی نظا م کا مشہور مقولہ ہے کہ انصاف کا ہونا کا فی نہیں انصاف ہو تا ہوا نظر بھی آنا چا ہئیے اس کا اطلا ق دیوانی اور فوجداری دونوں مقدمات پر ہو تا ہے ہمارے ہاں دو قانونی نکا ت انصاف کی راہ میں حا ئل ہیں ملزم کو شک کا فائدہ دیا جا تا ہے اور ملزم کو 99فیصد تک تحفظ حا صل ہو تا ہے تا کہ بے گنا ہ کو سزا نہ ملے نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ نظا م انصاف پر انگلیاں اٹھا ئی جا تی ہیں قوموں کی زند گی میں انصاف کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا حضرت علی کرم اللہ و جہہ کا مشہور قول ہے کہ کوئی ملک کفر کا وجہ سے برباد نہیں ہوتا بلکہ ظلم کی وجہ سے بر باد ہوتا ہے اور لغت میں ظلم ایسا لفظ ہے جو انصاف کا متضاد ہے جہاں انصاف نہیں ہو گا وہاں ظلم ہو گا قوموں کے لئے انصاف کتنا ضروری ہے اس کا ثبوت دوسری جنگ عظیم کے ایک واقعے سے ہمیں ملتا ہے واقعہ یہ ہے کہ 7ستمبر 1940کے دن بر طانوی دارالحکومت لندن پر جرمن طیاروں نے پہلی بار بمباری کی جس سے لندن کا شہر لرز اٹھا اور پورے ملک میں خوف و ہراس پیدا ہوا مشہور ادیب اور فلا سفر ونٹسن چرچل بر طا نیہ کے وزیر اعظم تھے نا زی جہا زوں کی بمباری کے بعد انہوں نے سب سے پہلے جو کا م کیا وہ یہ تھا کہ چرچل بر طا نیہ کے چیف جسٹس سے ملنے گیا چیف جسٹس خود بھی بمباری سے خوف زدہ تھا اس ما حول میں ملا قات کر کے چر چل نے پو چھا مجھے مختصر الفاظ میں یہ بتاؤ کیا ہماری عدالتوں میں انصاف ہو تا ہے؟ چیف جسٹس نے کہا ہماری عدالتیں پورا پورا انصاف کر تی ہیں انصاف میں کوئی کمی رہنے نہیں دیتیں، چر چل نے پو چھا کیا آپ کو اس بات کا پورا یقین ہے؟ چیف جسٹس نے کہا مجھے پورا یقین ہے چر چل نے تین بار یہی سوال پوچھا چیف جسٹس نے تینوں بار یہی جواب دیا چیف جسٹس سے ملا قات کے بعد انہوں نے ریڈیو پر قوم سے خطاب کیا چرچل کا یہ خطاب تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جاتا ہے چرچل نے کہا ”میرے غیور ہم وطنو! آج دشمن نے ہمیں للکارا ہے ہوائی جہازوں کی بمباری کے بعد میں چیف جسٹس سے ملا قات کے لئے ان کے گھر گیا میں نے پوچھا کیا ہماری عدالتوں میں انصاف ہو تا ہے؟ چیف جسٹس نے پورے یقین کے ساتھ جواب دیا کہ ہماری عدالتوں میں انصاف ہو تا ہے میں اپنی قوم کو یقین دلا تا ہوں اگر چیف جسٹس کی بات درست ہے اور اگر ہماری عدالتوں میں انصاف ہو تا ہے تو یقین کرو دشمن ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا جب تک ہماری عدالتیں انصاف کر تی رہینگی ہمارا پر چم بلند رہے گا بر طا نیہ پر کوئی آنچ نہیں آئیگی“ اس واقعے میں یہ بات ہمیں عجیب لگے گی کہ چرچل نے ہنگامی حالات میں کما نڈر انچیف کو یا د نہیں کیا وزیر دفاع کو یا د نہیں کیا بلکہ چیف جسٹس کو یا د کیا اور خود جا کر اُن سے دفاع کے بارے کچھ نہیں پو چھا انصاف کے بارے میں پو چھا اور جب انہیں یقین دلا یا گیا کہ عدالتوں میں انصاف ہو تا ہے تو انہوں نے اپنی قوم کو تسلی دی کہ فتح ہماری ہو گی حضرت علی کر م اللہ کا قول شا ید انہوں نے پڑھا تھا ”ملک کفر سے بر باد نہیں ہوتا ظلم سے بر باد ہو تاہے“انصاف کی تلا ش میں ہم بھی ہیں مگر ہمیں ڈوری کا سرا نہیں ملتا ہمارے پڑو س میں امارت اسلا میہ افغا نستان ہے کفر کی پوری دنیا ان کامخا لف ہے دشمن کے خوف سے کوئی مسلمان ملک بھی ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کر تا مگر انہیں پروا نہیں اُن پر ایک پا ئی کا قرض نہیں ان کے ہاں امن و امان کی مثا لی حا لت ہے وجہ صرف یہ ہے کہ ان کا قانونی ڈھانچہ مضبوط ہے عدالتوں میں انصاف ہے دیوانی مقدمات میں گواہ یا قسم کی بنیا د پر 5دنوں میں فیصلہ سنا یا جا تا ہے فوجداری مقدمات میں صرف تین دنوں کے اندر مجرم کا سر کا ٹ دیا جاتا ہے اس مثا لی انصاف کی وجہ سے وہاں مثا لی معا شرہ قائم ہے، انہیں دنیا کی کوئی پر وا نہیں، دشمن کا کوئی خوف نہیں ان کو یقین ہے قوموں کی بقا انصاف سے ہے وطن عزیز پا کستان میں ہم مسلسل انصاف کی تلا ش میں سر گردان ہیں اللہ کرے یہاں بھی انصاف کا راج ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں