122

دادبیداد۔۔۔خوشحال صوبہ۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

نگران وزیر اعلیٰ سید ارشد حسین شاہ نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے اس بات کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ ہمارا صو بہ افرادی قوت کے لحاظ سے بہت ثروت مند ہے یہاں کے نوجوان بیرون ملک جاکر صوبے کے لئے زر مبادلہ کما سکتے ہیں شرط یہ ہے کہ نوجوانوں کی تعلیم اور تربیت مارکیٹ، بازار، صنعت اور کاروباری ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ ہو،انہوں نے اس بات پردکھ کا اظہارکیا ہے کہ اس وقت ہماری یو نیورسٹیوں کی تعلیم اورنوجوانوں کی ڈگریان صوبائی حکومت کے مختلف محکموں کے تقاضوں سے بھی موافقت نہیں رکھتے اعلیٰ سطحی اجلاس میں خوشحال خیبر پختونخوا پروگرام پرعملدرآمد کے سلسلے میں لا ئحہ عمل طے کیا گیا اور مختلف اداروں کو اہداف سپرد کئے گئے یہ ایک کثیر الجہتی پرو گرام ہے، اس میں انسانی وسائل کی ترقی کے لئے صوبائی محکموں کے ساتھ، سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں، فنی تعلیمی اداروں اور صنعت و حر فت، مارکیٹ یا کاروبار سے تعلق رکھنے والے اداروں کو ایک مر بوط منصو بے کے تحت نو جوانوں کی با مقصد تعلیم اور معنی خیز یا مفید تر بیت کے لئے پا بند کیا گیا ہے خو شحال خیبر پختونخوا کا پورا منصو بہ انگریزی میں ہے اس میں سپیشلائزڈ ٹریننگ، سکلز ڈیولپمنٹ اور کیپے سٹی انہاسمنٹ جیسے بھاری بھر کم الفاظ کی بھر مار ہے ان الفاظ کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ موافقت کا فقدان یہاں بھی ہے انگریزی کے نا مانوس الفاظ ہماری روزمرہ گفتگو سے کوئی مطا بقت نہیں رکھتے صوبے کی 80فیصد ابادی ان الفاظ سے نا واقف ہے حکومت اور عوام کے درمیان انجان زبان کا یہ خلا جب تک رہے گا ہمارے بڑے بڑے منصو بے ادھورے ہی ہونگے کا لم کے اندر سما نے کے لئے میں نے بڑے منصو بے کی مو ٹی کتاب سے جو نتائج اخز کئے اردو میں ان کا خلا صہ یہ ہے کہ حکومت یونیورسٹیوں کی مو جودہ ڈگریوں کو محکمہ جاتی صنعتی اور کاروباری دنیا کے لئے مفید نہیں سمجھتی اور چاہتی ہے کہ خو شحال صو بے کے لئے فنی تعلیم، فنی تر بیت اور پیشہ ورانہ تربیت کا جا مع اور مربوط پروگرام وضع کیا جائے میڈیکل اور نر سنگ کے شعبے میں بیرون ملک مواقع سے فائدہ اٹھا نے کے لئے مختلف شعبوں مثلاً انستھیز یا، ڈائیلا سز، الٹرا سونا لوجی، ریڈیا لوجی، ای سی جی وغیرہ میں سپیشلائزڈ سر ٹیفکیٹ، ڈپلومہ اور ڈگریاں دی جا ئیں تاکہ عالمی مارکیٹ میں ہمارے صوبے کے نوجوان دیگر ملکوں کی افرادی قوت کا مقابلہ کرکے اپنا مقام حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں انہوں نے سرکاری اور نجی یو نیورسٹیوں سے کہا کہ ہنر مند طلبا اور طالبات کے لئے مختلف ذرائع سے سکالر شپ پیدا کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کر کے زیا دہ سے زیادہ افرادی قوت کو فنی تربیت میں داخلہ دینے کا بندوبست کریں طبی شعبے کے علاوہ دوسرے شعبے بھی ہیں مثلاً انفارمیشن ٹیکنا لوجی ابھرتا ہوا شعبہ ہے خیبر پختونخوا کی حکومت نے گذشتہ 20سالوں میں آئی ٹی کے شعبے کو فراموش کیا ہوا ہے تما م شعبوں کے لئے سروس سٹرکچر ہے آئی ٹی کے ماہرین کا کوئی سروس سٹرکچر نہیں جس گریڈ میں بھرتی ہونگے اس گریڈ میں ریٹائر ہونگے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آئی ٹی کے ساتھ سول انجینرنگ، الیکٹریکل، میکینکل انجیرنگ، پلمبنگ، کو کنگ، ٹیلرنگ، کارپینٹری وغیرہ میں فنی تربیت کے مواقع میسر ہوں تو نوجوانوں کو بہت فائدہ ہوگا ڈگری لیکر بے روز گار پھر نے والوں کی تعداد میں کمی ہوگی نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے خاندان پر بوجھ نہیں ہونگے مو جودہ حالات میں مارکیٹ کے ساتھ گنے چنے تعلیمی اداروں کاربط و تعلق ہے مثلاً آئی بی اے کراچی، اے کے یو کراچی، لمز لا ہور اور نسٹ اسلا م اباد اپنے طلباء اور طالبات کو دوران تعلیم ہی کسی صنعتی یا کاروباری ادارے کے ساتھ منسلک کر کے انٹرن شپ کرواتے ہیں ڈگری لیتے ہی نو جوان اس صنعتی یا کاروباری ادارے کا حصہ بن جا تے ہیں خیبر پختونخوا میں 2010ء میں ”ستوری د پختونخوا“ کے نا م سے فنی تعلیم کے لئے سکا لر شپ رکھے گئے تھے 2014ء میں اس سلسلے کو بند کر دیا گیاوزیر اعلیٰ نے غیر سرکاری تنظیم کے زیر اہتمام ایک اور منصو بے کا بھی افتتاح کیا ہے جس میں ایک ہزار نو جوانوں کو مفت تعلیم دی جا ئیگی نئی سکیم خو شحا ل خیبر پختونخوا بہت با مقصد پرو گرام ہے صرف یہ خدشہ ہے کہ سیا سی حکومت آگئی تو ایم پی اے قسم کے لو گ اس کو بند کر دینگے ضرورت اس امر کی ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے ذریعے سیا سی لو گوں کے اختیار ات کو ختم کیا جائے اور تر قیا تی منصو بوں سمیت سما جی شعبے کے مفید منصو بے سرکاری افیسروں کے اختیار میں دے دیے جائیں تاکہ عوامی مفاد کے منصو بوں میں خلل نہ پڑے افرادی قوت کی تر قی کا مو جودہ منصو بہ صرف اس صورت میں پائیہ تکمیل کو پہنچے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں