تازہ ترین

68 چترالی ملازمین فارغ—چترال یونیورسٹی میں بیرونی ملازمین کا غلبہ، معاملہ عدالت پہنچ گیا

چترال یونیورسٹی میں 68 چترالی ملازمین کی برطرفی کے الزامات نے تشویش کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی نے وزیٹنگ فیکلٹی کے 15 چترالی اراکین اور 53 کلاس فور و انتظامی سٹاف کو مختلف وجوہات کی بنا پر نوکری سے فارغ کر دیا ہے، اور یہ تمام افراد چترال کے مقامی رہائشی ہیں۔

ان برطرفیوں کے نتیجے میں یونیورسٹی میں اب زیادہ تر اسٹاف دوسرے اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں، جو مقامی کمیونٹی کی نمائندگی اور حقِ ملازمت کے مواقع پر سوالات اٹھاتا ہے۔ فارغ کیے گئے کلاس فور ملازمین نے اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے، اور وہ اسے ناانصافی اور نسلی امتیاز کی بنیاد قرار دے رہے ہیں۔

یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چترال یونیورسٹی پر پہلے ہی تقرریوں میں بے ضابطگیوں کا الزام لگ چکا ہے۔مقامی اخبارات کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یونیورسٹی نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقامی امیدواروں کو نظر انداز کیا اور سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر تقرریاں کیں۔

ان برطرفیوں کے بعد یونیورسٹی میں انتظامی ساخت اور انتظامی شفافیت پر عوامی اعتماد کمزور ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ مقامی رہنما اور ملازمین مطالبہ کر رہے ہیں کہ انتظامیہ فوری طور پر اس فیصلے کی وضاحت کرے اور مقامی ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button