خواتین خود بھی ڈیجیٹل اور ڈومیسٹک وائلنس کے خلاف آواز بلندکرنے کی ضرورت ہے/منہاس الدین/سیدسجادحسین

چترال (ڈیلی چترال نیوز) آغاخان رورل سپورٹ پروگرام کے بیسٹ فارویرپراجیکٹ کےزیراہتمام لوئرچترال میں ڈیجیٹل اور ڈومیسٹک وائلنس کے خلاف سولہ روزہ مہم کاباقاعدہ آغازکیک کاٹ کرکیاگیا۔جو کہ دس دسمبر (انسانی حقوق کاعالمی دن) تک جاری رہے گی جس میں چترال کے طول وعرض میں خواتین کے بارے میں منفی سوچ کو کم کرنے کے لیے آگاہی دی جائےگی اور خواتین کو زندگی کے ہر شعبے میں شرکت کرنے کا مناسب مواقع فراہم کئے جائیں گے ۔
اس موقع پرریجنل پروگرام منیجراے کے آرایس پی چترال سیدسجادحسین ،ڈائرکٹرجنرل کالاش ویلیز ڈیویلپمنٹ اتھارٹی منہاس الدین، لیڈی سب انسپکٹر دلشادپری،ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر افیسرلوئرچترال ،ایس ڈی او محکمہ ایجوکیشن لوئرچترال بشری آمان ،خضرحیات،نیازاے نیازی ایڈوکیٹ،جنیڈرافیسر اےکے آرایس پی چترال شازیہ سلطان اوردوسرں نے کہاکہ چترال میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہاہے ایسے واقعات تب رونماہوتے ہیں جب معاشرے میں عورت اپنے آپ کو کمزور اور بے بس سمجھتی ہے،خواتین ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے خاموشی سے ظلم وستم کو برداشت کرتی ہیں ،خواتین کو خود بھی گھریلو تشد د کے خلاف آواز بلندکرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ چترال میں صنفی بنیادپر تشدد کے خاتمے اور اس کے خلاف جدوجہد انسانی حقوق کیلئے پیش رفت، صنفی مساوات کو فروغ دینے اور خواتین کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی حوصلہ افزائی کرنے میں اے کے آرایس پی کابڑاکردارہے جوقابل ستائش ہیں۔
مقررین نے خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو تعلیم، ہنرمندی اور معاشی خودمختاری کے ذریعے بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ان 16 دنوں کے دوران چترال بھر کے لوگوں میں صنفی بنیاد پر تشدد کے بارے میں شعور پیداکرنے ، امتیازی رویوں کو چیلنج کرنے اور خواتین کے خلاف تشددکے خاتمے کے لیے بہتر قوانین بنانے کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے کہاکہ اس سولہ روزہ مہم کا مقصدخواتین پر گھریلو تشدد،جسمانی تشدد،جنسی طور پر ہراساں کرنے، دفاتر، نیم سرکاری، کاروباری، تجارتی و دیگر اداروں میں کام کے دوران صعوبتوں سے نجات اور ان کے مسائل کے متعلق آگاہی اور شعور پیدا کرناہے۔ صنفی تشدد کےخلاف ہم سب کو مل کر ایک ہونا ہوگا تاکہ خواتین کو ہر جگہ تحفظ کا احساس ملے۔ خواتین پرتشدد کو روکنے اور کم عمری کی شادی کے معاملے پر آگاہی پیدا کرنے کی کوششوں میں علماء اور میڈیا کا انتہائی اہم کردار ہے،کم عمری کی شاد ی کے سخت سماجی ومعاشی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ آج کے جدید دور میں انٹرنیٹ اور موبائل فون کے درست استعمال کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل جرائم کے بارے میں آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ایک اندازے کے مطابق انٹرنیٹ استعمال کرنے والی 60 فیصد خواتین کو آن لائن ہراساں کیاجارہاہے۔ جس کی وجہ سے 92 فی صد خواتین کی صحت پرمنفی اثرپڑتی ہیں ۔دنیا بھر کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ 16 سے 58 فیصد خواتین اور لڑکیاں آن لائن تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔اس قسم کے تشدد کے اثرات ڈیجیٹل دائرے سے آگے بڑھتے ہیں، عدم مساوات کو فروغ دیتے ہیں اور خواتین کے حقوق اور تحفظ دونوں خطرے میں ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ صنفی بنیادوں پر تشدد ایک سنگین مسئلہ ہے جو ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو کمزور کررہا ہے۔یہ 16 روزہ مہم ہمیں یہ موقع فراہم کر رہی ہے کہ ایسی تقربیات ،ورکشاپس، اور کمیونٹی پروگرامز کا انعقاد کیا جائے جس میں عوام کو آگاہی فراہم کی جائے کہ کیسےرویوں میں مثبت تبدیلی سے خواتین کے لیے محفوظ ماحول تشکیل دیا جا سکتا ہے۔چترال کے مکینون سے اپیل کرتے ہیں کہ اس مہم کا حصہ بنیں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم خواتین کے لیے ایک محفوظ اور باوقار معاشرہ تشکیل دیں۔یہ 16 روزہ مہم اقوام متحدہ کے تحت عالمی سطح پر منائی جاتی ہے، جس کا مقصد صنفی مساوات کو فروغ دینا اور تشدد کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔









