(CASI) پراجیکٹ کے زیراہتمام اپرچترال کے آغاخان مڈل سکول اچھوہون یارخون دوروزہ ایڈولسنٹ نیوٹریشن کیمپ کاانعقاد

چترال (سیدنذیرحسین شاہ نذیر)آغاخان ہیلتھ سروس چترال کےسنٹرل ایشیاء ہیلتھ سسٹم اسٹرنتھیننگ اِنی شیٹو(CASI) پراجیکٹ کے زیراہتمام اپرچترال کے آغاخان مڈل سکول اچھوہون یارخون دوروزہ ایڈولسنٹ نیوٹریشن کیمپ کاانعقاد کیاگیا۔جس میں 50 طلباء وطالبات نے شرکت کی ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پراجیکٹ منیجرنگارعلی،ایڈمن اینڈفنانس آفیسرتنورصالح ، فیلڈافیسرکاسی پراجیکٹ اشفاق احمد اوردوسروں نے کہاکہ بلوغت کے دوران بچوں کومتعددجسمانی اورجذباتی تبدیلیوں کاسامناہوتاہے اوران کامزاج بارباربدل سکتاہے ،ڈپریشن ،ذہنی بے چینی ،خوداعتمادی میں کمی ،جارحانہ رویہ،جسم کولے کراحساس کمتری وغیرہ کاسامناہوسکتاہے جبکہ کیل مہاسے بھی عام ہوتے ہیں ۔والدین کواس عمل کے دوران بچوں میں ذہنی بے چینی یاشرمندگی کے احساسات میں کمی لانے کے لئے ان سے بات کرنی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ چترال کے پسماندہ اوردورافتادہ علاقوں میں مائیں بچوں کو جنم دیتے ہوئے موت کے منہ میں چلے جانے کا تناسب کافی حد تک زیادہ ہے۔ اور جو بچ بھی جاتی ہیں ان میں سے بھی بڑی تعداد میں کمزوری کے باعث بچے میں مطلوبہ قوت کی منتقلی کے قابل نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے شیر خوار بچوں کی بڑی تعداد دنیا کا دلکش حصہ بننے سے پہلے ہی منہ موڑ جاتی ہے۔
اس سے قبل اوناوچ یارخون میں ایک روزہ سمینار کاانعقاد کیا۔سمینار سے سائیکالوجسٹ جمیلہ مینٹل ہیلتھ،فیلڈہیلتھ آفیسر نرسنگ کئیر اورنگارعلی کاسی پراجیکٹ کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئےکہاکہ کاسی پراجیکٹ گذشتہ کئی سالوں سے چترال کے پسماندہ اوردورافتادہ علاقوں میں متوازن غذا کی اہمیت کو اجاگر کرنے ، غذائیت کو فروغ دینے اوررویوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے جوکوششیں شروع کی ہے جس میں ہرمکتبہ فکرسے تعلق رکھنے والے حضرات اپنی ذمہ داریاں نبھاناہے۔انہوں نے کہاکہ پسماندہ علاقوں میں بچوں میں غذائی کمزوری کی بنیادی وجہ غربت نہیں بلکہ شعوروآگاہی کا فقدان ہے۔انہوں نے کہاکہ اپنی شخصیت میں مثبت تبدیلی لانے کےلئے اپنے منفی رویوں کو مثبت رویوں میں تبدیل کرنا شروع کر دیں۔ اس کے لیے زیادہ محنت درکار نہیں ہوتی، صرف اپنے رویے تبدیل کرنا پڑیں گے۔
انہوں نے کہاکہ غذائی قلت نسل در نسل چلنے والا مسئلہ بھی ہے۔ بچے کی غذائی کیفیت کا دوران حمل، زچگی کے دوران اور بعد از پیدائش ماں کی صحت سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔زچہ میں غذائیت کی کمی سے قبل از پیدائش بچے کی بڑھوتری بھی متاثر ہوتی ہے۔ نتیجتاً بچے کو کم وزنی، کمزوری اور نشوونما کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔آگاہی نہ ہونے کی وجہ سےاکثر والدین سے مشورہ کرنے کے بجائے دم دعاکی طرح لے جاتےہیں ۔اُس وقت بچے کومکمل طبی امدادی کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ انسان اپنے ارد گرد کے ماحول سے جو سیکھتا ہے، وہی اپناتا ہے، انسان جہاں رہتا ہے انسان کا ہر عمل سوچ و فکرکی بنیاد پر وجود میں آتا ہے۔اپنےسوچوں میں مثبت تبدیلی لانے کےلئے آگاہی پیغامات گھرگھرپہنچانے کی ہرممکن کوشش کریں گے ۔
اس پروگرام کا مقصد چترال کے عوام کو ذہنی صحت سے متعلق جامع سہولیات فراہم کرنا ہے، جن میں جائزہ، بچاؤ، تشخیص اور علاج کے تمام پہلو شامل ہیں۔ یہ اقدام ضلع لوئر چترال میں ذہنی صحت کے نظام میں پائے جانے والے خلا کو پُر کرے گا اور بروقت و مؤثر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔
علاقے کے مکینوں نے آغا خان ہیلتھ سروس کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ذہنی صحت کو فروغ دینا معاشرتی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔اے کے ایچ ایس پی ہمیشہ چترال کے پسماندہ علاقوں میں صحت کے بنیادی سہولیات فراہم میں مصروف عمل ہیں ۔ادارے کے ذمہ داروں نے عوامی فلاح، صحت اور ذہنی سکون کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کی۔




