ریشن میں مبینہ کرپشن پر سنگین سوالات، کے پی حکومت کی پالیسی تشویش ناک قرار

اپر چترال (شہزاد احمد) قدرتی آفات سے متاثرہ علاقہ ریشن میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر مبینہ کرپشن پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) تحصیل مستوج کے انفارمیشن سیکرٹری اور ریشن کے معروف سیاسی و سماجی رہنما حاجی عبدالرب نے اسمر خان نامی ٹھیکیدار کو بار بار ٹھیکے دیے جانے کو موجودہ کے پی حکومت کی ناقص پالیسی اور کرپشن کی کھلی مثال قرار دیا ہے۔
ایک اخباری بیان میں حاجی عبدالرحب نے کہا کہ اسمر خان ٹھیکیدار نے ماضی میں ریشن میں متعدد ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ بدعنوانی کے ذریعے علاقے کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اسی ٹھیکیدار کو پہلے بھی پروٹیکشن وال کا ٹھیکہ دیا گیا تھا، مگر ناقص کام کے باعث منصوبہ ناکام ہوا اور نتیجتاً علاقہ دریا کی نذر ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس پس منظر کے باوجود اسی ٹھیکیدار کو دوبارہ پروٹیکشن وال کا ٹھیکہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریشن جیسے حساس اور قدرتی آفات سے متاثرہ علاقے کو معیاری اور شفاف ترقیاتی کام کی اشد ضرورت ہے۔
حاجی عبدالرب نے اپر چترال میں کرپشن کی روک تھام کے لیے قائم کمیٹی پر بھی سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی عوام کے ساتھ سراسر مذاق ہے، کیونکہ اس کا سربراہ خواجہ خلیل ہے، جو خود اس مبینہ کرپٹ ٹھیکیداری نظام کا حصہ رہا ہے۔ ان کے بقول اسمر خان ٹھیکیدار کو ماضی میں بھی سیاسی پشت پناہی حاصل رہی، اور پی ٹی آئی حکومت کے ادوار میں ان مبینہ کرپشن کیسز کو دبانے کی کوشش کی جاتی رہی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اسمر خان موجودہ کرپٹ ٹولے کا چہیتا ہے اور اسے حکومتی حمایت حاصل ہونے کے باعث بار بار حساس منصوبے دیے جا رہے ہیں، جس کا خمیازہ ریشن کے عوام بھگت رہے ہیں۔
آخر میں حاجی عبدالرب نے مطالبہ کیا کہ ریشن میں ہونے والے تمام ترقیاتی منصوبوں کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ناقص کام کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور قدرتی آفات سے متاثرہ ریشن کے عوام کے ساتھ مزید ناانصافی بند کی جائے۔



