مضامین

پاک اوراق کی حرمت ہماری غفلت اور لازم ترین ذمہ داریاں تحریر:……. ابو سلمان

زمانۂ جدید کی برق رفتاری نے ہماری معاشرتی اقدار اور دینی حساسیتوں میں ایک عجیب سی بے وزنی پیدا کر دی ہے۔ جس معاشرے میں کبھی کاغذ پر لکھا ہر لفظ احترام کا حق دار سمجھا جاتا تھا، آج اسی معاشرے میں اخبار، فلیکس، اشتہار، کتابوں کے اوراق، کاپیاں، شادی کارڈ اور دیگر چھپائی شدہ مواد بدترین بے احترامی کا شکار ہیں۔ گھر کے کچرے سے لے کر بازاروں کی گلیوں تک، ہر سمت مقدس اوراق کی توہین کا منظر ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ ایسے اوراق جن پر کبھی اللہ کا نام، قرآن کی آیت، حدیثِ مبارکہ، یا دینی و اخلاقی تعلیمات درج ہوتی ہیں، وہی اوراق کبھی پکوڑوں، کبھی فروٹ کریٹ، کبھی جوتوں کی پالش اور کبھی گلی کے کیچڑ میں لت پت نظر آتے ہیں۔
یہ صورتِ حال صرف کوتاہی نہیں، ایک اجتماعی جرم اور روحانی خسارے کا پیش خیمہ بھی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطورِ امت، بطورِ معاشرہ اور بطورِ فرد اس سنگین غفلت کا ادراک کریں اور عملی اقدامات کریں۔
1: متبادل ردی کاغذسب سے آسان مگر سب سے مؤثر قدم
ہم میں سے اکثر دکاندار، تندور والے، نانبائی، پکوڑے فروش، تکہ شاپس اور دیگر چھوٹے کاروباری حضرات اخبار یا مطبوعہ کاغذ کو صرف اس لیے استعمال کر لیتے ہیں کہ وہ سستا مل جاتا ہے۔ مگر آج بازاروں میں سادہ، بے تحریر ردی کاغذ ہر درجے اور ہر معیار میں بآسانی دستیاب ہے۔ یہ کاغذ نہ صرف دین کے احترام کا ضامن ہے بلکہ صحت کے لیے بھی زیادہ بہتر ہے، کیونکہ چھاپے کی سیاہی کھانے پینے میں استعمال ہونے سے نقصان کا باعث بھی بنتی ہے۔
بس نیت صاف ہو اور ذمہ داری کا احساس جاگ جائے، تو یہ تبدیلی لمحوں میں ممکن ہے۔
2: جلسے، محافل اور پروگرام… اشتہار کے بغیر بھی کامیاب
آج ہر تقریب، ہر پروگرام، ہر مذہبی محفل کے لیے فلیکس، بینرز، کارڈز اور اشتہارات کی بھرمار نے مقدس اوراق کی بے حرمتی میں اضافہ کیا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ مقصد پورا کرنے کے لیے فلیکس لگانا کوئی فرض نہیں۔
مساجد کے ائمہ وخطباء صاحبان جمعہ کے خطبے میں اعلان کر دیں
فون میسج اور واٹس ایپ گروپس استعمال کر لیے جائیں
محلے کے معتبر افراد کو اطلاع کر دی جائے
ملاقاتوں کے ذریعے پیغام پھیلا دیا جائے
یوں پیغام بھی پہنچ جائے گا اور نہ جانے کتنے پاک اوراق بے توقیری سے بچ جائیں گے۔ اس چھوٹی سی حکمتِ عملی سے معاشرے میں احترام کی ایک نئی فضا جنم لے سکتی ہے۔
3: گھروں اور دکانوں میں پاک اوراق کی حفاظت دلوں کے احترام کی علامت
ہم میں سے اکثر کے گھروں اور دکانوں میں بے شعوری کے باعث پاک اوراق براہِ راست کچرے میں چلے جاتے ہیں، جس سے بچنا نہایت ضروری ہے۔
اگر ہر گھر، ہر دکان میں ایک چھوٹی سی ٹوکری یا ڈبہ مخصوص ہو جس میں قرآنِ مجید کے اوراق، دینی کتابوں کے حصے، شادی کارڈ، دعاؤں والے پرچے اور ہر وہ ورق جس پر اللہ یا رسول ﷺ کا ذکر ہو احتیاط سے رکھ دیا جائے، تو یہ عمل روحانی حفاظتی دیوار کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔ جمع ہونے کے بعد ان اوراق کو ردی والے کے ہاتھ بیچنے کی بجائے قریب کی مسجد یا مدرسے میں جمع کرا دیں، جہاں انہیں ادب کے ساتھ محفوظ کیا جاتا ہے یا مناسب طریقے سے ری سائیکل کیا جاتا ہے۔
پاک اوراق کا احترام ہماری دینی غیرت، ہماری تہذیبی پہچان اور ہماری روحانی زندگی کا حصہ ہے۔ جب ہم لاپرواہی سے ان مقدس تحریروں کو پامال ہوتے دیکھ کر بھی خاموش رہتے ہیں تو دراصل ہم اپنی ہی روحانی اقدار کو مٹا دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ حکومت کا نہیں، مسجد کمیٹی کا نہیں، یہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔
اگر ہم آج سے اپنے گھروں، اپنے کاروبار، اپنی تقریبات اور اپنی روزمرہ عادات میں چند چھوٹی مگر دل سے کی گئی تبدیلیاں لے آئیں تو نہ صرف بے احترامی کا دروازہ بند ہو جائے گا بلکہ ہماری زندگیوں میں احترام، خیر اور برکت کی نئی راہیں کھل جائیں گی۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیےکہ
جس قوم کے پاس احترامِ علم اور احترامِ کاغذ نہ ہو، وہ کبھی عزت کی مالک نہیں ہو سکتی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button