مرد و زن کی فطرت اور مشابہت کا فتنہ تحریر:……… ابو سلمان

اللہ تعالیٰ نے کائنات کو جس حکمت، توازن اور حسنِ ترتیب کے ساتھ تخلیق فرمایا ہے، اُس کی ایک روشن جھلک مرد و عورت کی جداگانہ فطرت میں بھی نظر آتی ہے۔ دونوں ایک ہی انسانی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، مگر ان کی جسمانی ساخت، نفسیاتی مزاج، احساسات، ذمہ داریاں اور سماجی کردار ایک دوسرے سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ یہی فرق دراصل حسنِ توازن ہے، اور یہی فرق زندگی کی بقا اور معاشرتی ہم آہنگی کا ضامن بھی ہے۔
اسلام، جو دینِ فطرت ہے، اس فرق کو مٹانے کے بجائے اسے محفوظ رکھتا ہے۔ چنانچہ شریعتِ محمدی ﷺ نے مرد و عورت کو ان کی فطری شناخت کے ساتھ جینے کا حکم دیا، اور ہر اُس روش سے منع فرمایا جو اس الٰہی تقسیم کو مسخ کرنے کا سبب بنے۔
اسی اصول کی روشنی میں رسولِ اکرم ﷺ نے نہایت واضح الفاظ میں مرد و عورت کے باہمی تشبّہ (ایک دوسرے کی مشابہت اختیار کرنے) کو سخت ناپسند فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان مردوں پر لعنت فرمائی جو عورتوں کی مشابہت اختیار کریں اور ان عورتوں پر بھی جو مردوں کی مشابہت اپنائیں۔ اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اُن مردوں اور عورتوں پر لعنت فرمائی جو ایک دوسرے جیسا لباس پہنیں۔ اور امّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی اس حقیقت کو بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں کی طرح بننے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔
یہ احادیث محض لباس یا ظاہری وضع قطع تک محدود نہیں، بلکہ ایک گہری فکری اور اخلاقی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اسلام انسان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ اپنی فطری شناخت پر راضی رہے، اسی میں اُس کی عزت، سکون اور روحانی سلامتی پوشیدہ ہے۔ جب کوئی مرد جان بوجھ کر عورتوں جیسا حلیہ، چال ڈھال یا اندازِ گفتار اختیار کرتا ہے، یا کوئی عورت مردانہ طور طریقے اپناتی ہے، تو وہ دراصل اپنی فطرت سے بغاوت کرتی ہے۔ یہی بغاوت معاشرے میں فکری انتشار، اخلاقی ابہام اور تہذیبی بگاڑ کو جنم دیتی ہے۔
نبی کریم ﷺ کی طرف سے ایسے طرزِ عمل پر لعنت کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ یہ محض ایک معمولی لغزش نہیں، بلکہ ایک سنگین اخلاقی انحراف ہے۔ اور لعنت، جیسا کہ علما بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کو کہتےہیں یعنی ایسا راستہ جو انسان کو روحانی تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔
یہ ذمہ داری صرف بالغ مرد و عورت تک محدود نہیں، بلکہ بچوں کی تربیت بھی اسی اصول کے تحت ہونی چاہیے۔ اگرچہ چھوٹے بچے شرعی طور پر مکلف نہیں ہوتے، لیکن ان کے والدین ضرور مکلف ہیں۔ بچیوں کو جان بوجھ کر لڑکوں جیسا لباس پہنانا یا لڑکوں کو بچیوں کی وضع قطع میں ڈھالنا، ایک ایسے بیج کو بونا ہے جو آگے چل کر فطری اور اخلاقی الجھنوں کی صورت میں پھل دے سکتا ہے۔ بالوں کا انداز، لباس کی ساخت اور عمومی اندازِ زندگی—یہ سب بچے کی شناخت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
اسلام انسان کو پابند نہیں بناتا، بلکہ اُس کی اصل پہچان کی حفاظت کرتا ہے۔ مرد اپنی مردانگی کے ساتھ باوقار ہے اور عورت اپنی نسوانیت کے ساتھ محترم۔ جب دونوں اپنی اپنی فطرت کے دائرے میں رہتے ہیں تو معاشرہ توازن، حیا اور وقار کی خوشبو سے مہک اٹھتا ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مرد و عورت کا ایک دوسرے کی مشابہت اختیار کرنا شریعت کی رو سے حرام، فطرت کے خلاف اور اخلاقی اعتبار سے نقصان دہ ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے اس طرزِ عمل کو نہایت سختی سے روکا اور اسے کبیرہ گناہوں میں شمار ہونے والی روش قرار دیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نہ صرف خود اپنی فطری شناخت کی حفاظت کریں بلکہ اپنی نسلوں کو بھی اس راہ پر استوار کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی عطا کردہ فطرت پر قائم رہنے، اس پر فخر کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



