مضامین

جہانِ خیال …….چترال ٹاؤن: ترقی، غفلت اور ماحولیاتی خطرات تحریر:…….. عتیق الرحمن

چترال ٹاؤن آج کئی سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے، جو محض وقتی نہیں بلکہ شہر کے مستقبل کے لیے خطرہ ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی، بغیر منصوبہ بندی کے تعمیرات، ناقص بنیادی سہولیات اور کمزور شہری نظام نے شہر کی حالت متاثر کر دی ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نقصانات ناقابلِ تلافی ہو سکتے ہیں۔
سب سے بڑا مسئلہ غیر منصوبہ بند تعمیرات ہیں۔ گلیاں تنگ، تجاوزات بڑھتی جارہی ہیں اور رہائشی علاقوں میں تجارتی عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں۔ خطرناک بات یہ ہے کہ چترال زلزلہ خیز علاقے میں تین اور چار منزلہ عمارتیں بلا نگرانی تعمیر ہو رہی ہیں، جو کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔
سوریچ (Sewerage) کا نظام نہ ہونا بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اگرچہ ٹوائلٹس کے لیے سب ٹینک کا استعمال بہتر ہے، لیکن کچن سے برتن دھونے اور کپڑے واش کرنے کے بعد نکلنے والا پانی گلیوں اور نالیوں میں پھینکا جاتا ہے، جس سے بدبو پیدا ہوتی ہے، مچھر بڑھتے ہیں اور مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بڑے این جی اوز کو چاہیے کہ وہ سوریچ کے نظام کے قیام میں تعاون کریں اور ماحول کو صاف رکھنے کے لیے آگاہی ورکشاپس کریں۔
کچرا اور کوڑا کرکٹ بھی تشویشناک ہیں۔ کھلے عام پڑا ہوا کچرا شہر کی صفائی اور شہری صحت کے لیے خطرناک ہے۔ دریائے چترال کے کنارے بلند عمارتیں تعمیر کرنا سیلاب اور زمینی کٹاؤ کے خطرات بڑھا رہا ہے۔
ماحول کے حوالے سے درختوں اور پہاڑی جنگلات کی بے دریغ کٹائی نقصان دہ ہے، اور شجرکاری یا سبزہ زاروں کی کمی بچوں اور نوجوانوں کے کھیل اور صحت مند سرگرمیوں کے مواقع محدود کر رہی ہے۔ فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنگلات کے تحفظ اور نئی شجرکاری پر توجہ دے۔
سیاسی نمائندوں، ٹی۔ایم۔اے اور ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ مشترکہ کردار ادا کریں۔ جامع ماسٹر پلان تیار کریں، تجاوزات ختم کریں، پانی اور سوریچ کے نظام کو بہتر کریں، پارکس اور کھیل کے میدان یقینی بنائیں اور ماحول دوست اقدامات نافذ کریں۔
آخر میں سوال یہی ہے: کیا ہم چترال ٹاؤن کو واقعی شہر کہنے کے معیار پر پہنچا سکے ہیں؟ اگر نہیں، تو اب وقت ہے کہ سنجیدہ منصوبہ بندی، ادارہ جاتی تعاون اور اجتماعی شعور کے ذریعے اسے محفوظ، صاف اور پائیدار شہر بنایا جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button