چترال کے تعلیمی افق پر امید کی نئی کرنیں*.. تحریر ،:ابوسلمان

صوبہ خیبر پختونخوا کی اعلیٰ بیوروکریسی میں حالیہ تقرریاں بالخصوص ضلع چترال کے لیے خوش آئند اور امید افزا پیغام کی حامل ہیں۔ سابق ایڈیشنل سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اور سابق ڈپٹی کمشنر کوہاٹ، محترم جناب عبدالاکرم صاحب کی بطور ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ تقرری، اور سابق ڈی ایم او چترال، محترم جناب حیات شاہ صاحب کی بطور ایڈیشنل سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ تعیناتی، چترال کے دونوں اضلاع اپر اور لوئرکے لیے یقیناً نیک شگون ہے۔
محترم جناب عبدالاکرم صاحب کا شمار ان افسروں میں ہوتا ہے جنہوں نے محض فائلوں تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ عملی میدان میں اپنی کارکردگی سے ایک مثال قائم کی۔ وہ اس سے قبل ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں بطور ڈپٹی سیکرٹری اور بعد ازاں بطور ایڈیشنل سیکرٹری خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ارندو سے بروغل تک چترال کا شاید ہی کوئی گوشہ ہو جہاں ان کی خدمات کے اثرات محسوس نہ کیے گئے ہوں۔
ان کے دفتر کے دروازے چترال کے طول و عرض سے آنے والے سائلین کے لیے ہمیشہ کھلے رہے اور کوئی بھی مسئلہ لے کر آنے والا شخص خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹا۔ نڈر، بے باک، سائل دوست اور اپنے شعبے میں نہایت قابل افسر کی حیثیت سے انہوں نے ایک منفرد شناخت قائم کی۔
اب جبکہ محترم عبدالاکرم صاحب کو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے، چترال کے عوام کو بجا طور پر یہ امید ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں بھی اپنی سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے چترال کے طلبہ اور اداروں کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں گے۔
اسی طرح محترم جناب حیات شاہ صاحب کی بطور ایڈیشنل سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن تقرری بھی باعثِ مسرت ہے۔ وہ چترال کے ایک قابلِ فخر فرزند ہیں جنہوں نے بطور ڈی ایم او چترال اپنی صلاحیتوں، دیانت داری اور انتظامی بصیرت کا بھرپور ثبوت دیا۔ ان سے یہ توقع رکھنا بجا ہے کہ وہ بلا تفریق اپر اور لوئر چترال میں تعلیمی نظام کی بہتری، معیارِ تعلیم کے فروغ اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں گے۔
یہ امر بھی نہایت خوش آئند ہے کہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں چترال کے ایک اور قابلِ فخر سپوت، محترم جناب صالح صاحب پہلے ہی بطور ایڈیشنل سیکرٹری خدمات انجام دے رہے ہیں۔ صالح صاحب ایک منجھے ہوئے، تجربہ کار اور معاملہ فہم افسر ہیں جن کی خدمات کا اعتراف خود چترال کے عوام کرتے ہیں۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے تعلیمی محکموں میں چترال کے تین باصلاحیت، تجربہ کار اور دردِ دل رکھنے والے افسران اہم ذمہ داریوں پر فائز ہیں۔ چترال کے عوام کو ان تینوں ستونوں سے یہ پختہ امید ہے کہ وہ باہمی تعاون، خلوص نیت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ چترال کے دونوں اضلاع میں تعلیم کو بامِ عروج تک پہنچانے میں تاریخی کردار ادا کریں گے۔
اگر نیت صاف ہو، قیادت مخلص ہو اور اختیار اہل لوگوں کے ہاتھ میں ہو تو تعلیمی انقلاب کوئی خواب نہیں بلکہ ایک حقیقت بن سکتا ہےاور چترال آج اسی روشن حقیقت کی دہلیز پر کھڑا دکھائی دیتا ہے



