مضامین

جہانِ خیال۔۔۔۔۔۔۔عمران خان اور چترال: مقدمات، انصاف اور سیاسی کھیل۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر: عتیق الرحمن

پاکستان کی سیاست میں جب بھی طاقت کا توازن بگڑتا ہے، سب سے پہلے نظامِ انصاف سوالوں کی زد میں آتا ہے۔ عمران خان کے خلاف قائم مقدمات اسی حقیقت کی ایک تازہ مثال بن چکے ہیں۔ یہ مقدمات اب صرف عدالتی فائلیں نہیں بلکہ وہ اس سوال کی علامت ہیں کہ کیا پاکستان میں قانون واقعی اندھا ہے یا پھر وہ طاقتور حلقوں کے اشاروں پر آنکھیں کھولتا اور بند کرتا ہے۔
آئینی ماہرین کے مطابق آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 4 ہر شہری کو مساوی سلوک اور آرٹیکل 10-A منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دیتا ہے۔ تاہم عملی سطح پر سیاسی دباؤ، طاقت کے مراکز اور وقت کی مناسبت مقدمات کے عمل پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔ مقدمات بنانا، انہیں لٹکائے رکھنا یا اچانک متحرک کر دینا اکثر قانون سے زیادہ سیاسی ضرورت کے تابع رہا ہے۔ عمران خان کے کیسز بھی اسی تسلسل کا حصہ محسوس ہوتے ہیں، جس سے عوام میں شک پیدا ہوتا ہے کہ احتساب واقعی یکساں اور شفاف ہے یا نہیں۔
چترال کا معاملہ اس نظامی خرابی کو مزید واضح کرتا ہے۔ عبد الطیف ایم۔اے۔این، جو بھاری اکثریت سے منتخب ہونے والے سیٹنگ ایم۔این اے ہیں، ان کی ڈی سیٹمنٹ اور بعد ازاں ان کے خلاف مقدمات عوامی مینڈیٹ کی توہین کے مترادف سمجھے جا رہے ہیں۔ اگر الزامات واقعی ٹھوس ہیں تو شفاف اور فوری عدالتی فیصلے سامنے کیوں نہیں آتے؟ اور اگر نہیں ہیں تو منتخب نمائندوں کو متنازع بنا کر عوام کے ووٹ کی وقعت کیوں گھٹائی جا رہی ہے؟ یہ معاملہ سیاسی یا اسٹبلشمنٹ کے اثرات کی ایک واضح مثال بھی ہے۔
سیاسی کشمکش کا خمیازہ ہمیشہ عام شہری بھگتتا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل حکمرانوں کی ترجیحات سے غائب ہو چکے ہیں، جبکہ سیاست مقدمات، گرفتاریوں اور بیانیوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ یہ صورتحال صرف سیاسی بحران نہیں بلکہ ریاستی ناکامی کی علامت بنتی جا رہی ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کون لیڈر درست ہے اور کون غلط، بلکہ یہ ہے کہ کیا ملک کا نظامِ انصاف اتنا مضبوط اور خودمختار ہے کہ وہ ہر طاقتور کو قانون کے کٹہرے میں لا سکے؟ جب تک قانون کا اطلاق کمزور اور طاقتور کے لیے مختلف رہے گا، ایسے مقدمات انصاف کے بجائے سیاسی ہتھیار ہی سمجھے جاتے رہیں گے۔
پاکستان کو افراد نہیں، اصول بچا سکتے ہیں۔ اگر احتساب واقعی غیر جانبدار نہ ہوا تو عوام کا اعتماد مزید ٹوٹے گا، اور ایک کمزور جمہوریت کا انجام ہمیشہ سیاسی انتشار اور عوامی مایوسی کی صورت میں نکلتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button