آل پارٹیز اپر چترال، ویلیج کونسل چیئرمین صاحبان اور تاجر یونین بونی کا مشترکہ اجلاس۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی فوری طور پر پوری کرنے ، سہولیات کی فراہمی اور دیگر مسائل حل کرنے کا مطالبہ

ممتاز سیاسی و سماجی شخصیت پرویز لال کی کال پر آل پارٹیز اپر چترال، ویلیج کونسل چیئرمین صاحبان اور تاجر یونین کا ایک مشترکہ اجلاس تحصیل ہیڈ کوارٹر بونی میں سابق تحصیل ناظم شمس الرحمٰن لال کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ویلیج کونسل بونی 1 کے چیئرمین مظہرالدین مظہر، ویلیج کونسل چرون کے چیئرمین عنایت اللہ، ویلیج کونسل کوشٹ کے چیئرمین و نائب صدر پاکستان تحریک انصاف محمد ارشاد، پاکستان مسلم لیگ (ن) اپر چترال کے سینئر نائب صدر پرویز لال، تحریک انصاف کے سینئر رہنما و سابق چیئرمین فضل الرحمٰن، جمعیت علمائے اسلام کے جنرل سیکریٹری مولانا فدا الرحمٰن، جماعت اسلامی یوتھ کے صدر شکیل احمد، پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی رہنما و سینئر نائب صدر اپر چترال سردار حسین، سوشل ورکرز سردار عجب، شیر بابر خان، نوجوان سوشل ورکر پیر ممتاز، اور جنرل سیکریٹری تاجر یونین بازار بونی نے شرکت کی۔
اجلاس میں ہیڈ کوارٹر ہسپتال بونی کی ناگفتہ بہ صورتحال، ڈاکٹروں اور معاون عملے کی شدید کمی پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ اپر چترال کا واحد ہسپتال ہونے کے باوجود یہاں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ گزشتہ 11 سالوں سے کیٹیگری “سی” کی عمارت نامکمل پڑی ہے۔ پورے اپر چترال میں ڈائیلاسس کی کوئی مشین موجود نہیں، جس کے باعث مریض لوئر چترال میں کرائے پر مکان لینے پر مجبور ہیں۔ مہنگائی کے اس بدترین دور میں یہ صورتحال عوام کے لیے شدید اذیت کا باعث ہے۔مزید یہ کہ اکثر ڈیلیوری کیسز بھی لوئر چترال ریفر کیے جاتے ہیں، جو غریب عوام کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ اجلاس میں ان مسائل پر فوری اور ہنگامی بنیادوں پر توجہ دینے پر زور دیا گیا۔اسی طرح پشاور تا اپر چترال اور اپر چترال تا پشاور رات کے اوقات میں ہونے والے سفر پر فوری نظرِ ثانی کی ضرورت پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ شرکاء نے کہا کہ یہ سفر اب محض ایک سفری معاملہ نہیں رہا بلکہ انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس خطرناک رات کے سفر نے اب تک کئی قیمتی جانیں لے لی ہیں، اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں بھی خدشات موجود ہیں۔ اس لیے سفر کے شیڈول میں فوری تبدیلی ناگزیر ہے۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر اپر چترال کی کارکردگی اور دوکانداروں کے ساتھ نامناسب رویے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ فوڈ کنٹرولر مختلف بہانوں سے خصوصاً دیہی علاقوں کے دکانداروں پر بھاری جرمانے عائد کرتا ہے۔ پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے تاجر شدید پریشانی کا شکار ہیں اور دن بھر گاہکوں کے منتظر رہتے ہیں۔ دیہات کے دکاندار قریبی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف اشیاء رکھتے ہیں، مگر اس کے باوجود ان پر بلاجواز جرمانے کیے جاتے ہیں، جس سے وہ شدید نفسیاتی دباؤ میں مبتلا ہو چکے ہیں اور حالات خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ فوڈ کنٹرولر کا فوری تبادلہ کیا جائے۔
مذکورہ بالا مسائل پر تفصیلی بحث کے بعد آل پارٹیز کی جانب سے متفقہ قرارداد منظور کی گئی، جسے ایک وفد کی صورت میں ڈپٹی کمشنر اپر چترال کے دفتر جا کر پیش کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر اپر چترال نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ تمام مسائل پر سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔قرارداد میں واضح کیا گیا کہ اگر 2 فروری تک مذکورہ مسائل حل نہ کیے گئے تو اپر چترال کی سطح پر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ امید ظاہر کی گئی کہ اس سے قبل سیاسی قیادت اور ضلعی انتظامیہ مسائل کے حل میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے گی۔




