جہانِ خیال….. روز چترال: تعلیم کی شمع اور روشن مستقبل……. تحریر: عتیق الرحمن

جہانِ خیال
روز چترال: تعلیم کی شمع اور روشن مستقبل
تحریر: عتیق الرحمن
کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اس کی بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں یا وقتی ترقیاتی منصوبوں سے نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ علم و آگہی کو کس مقام پر فائز کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی اقوام زندہ رہتی ہیں جو تعلیم کو محض ایک ضرورت نہیں بلکہ اپنی فکری بقا اور اجتماعی شعور کی بنیاد سمجھتی ہیں۔ روز چترال (ROSE Chitral) کی تعلیمی کاوشیں اور تعلیمی رپورٹ 2024/2025 اسی زندہ شعور کی ایک روشن مثال ہیں، جو اس یقین کو مضبوط کرتی ہیں کہ خلوصِ نیت، شفاف حکمتِ عملی اور درست سمت کے ساتھ محدود وسائل بھی بڑی اور دیرپا تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
روز چترال ایک غیر منافع بخش اور غیر سرکاری تعلیمی تنظیم ہے، جو چترال کے غریب، مستحق اور باصلاحیت طلبہ کو بلا امتیاز نسل، ذات، جنس اور علاقے تعلیمی مواقع فراہم کر رہی ہے۔ اس ادارے کا نصب العین نہایت واضح ہے: معاشرے کے صاحبِ استطاعت افراد کے تعاون سے ایسے ہونہار ذہنوں کی سرپرستی کرنا جو محض وسائل کی کمی کے باعث پیچھے رہ جاتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ تعلیم کے بغیر نہ سماجی انصاف ممکن ہے اور نہ ہی کسی خطے کی حقیقی اور پائیدار ترقی۔
تعلیمی سال 2024/2025 کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے لیے 34.3 ملین روپے کی اسکالرشپس فراہم کی گئیں، جو محض مالی معاونت نہیں بلکہ سینکڑوں خوابوں اور امیدوں کو نئی زندگی دینے کے مترادف ہیں۔ ان وظائف کے ذریعے 121 مستحق اور باصلاحیت طلبہ کو پاکستان کی مختلف ممتاز جامعات میں تعلیم جاری رکھنے کا موقع ملا۔ لوئر اور اپر چترال کے طلبہ کی متوازن شمولیت اور صنفی توازن اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ روز چترال تعلیم کو انصاف، مساوات اور سماجی ہم آہنگی کی بنیاد پر فروغ دینا چاہتا ہے۔
یہ اسکالرشپس صرف فیسوں کی ادائیگی تک محدود نہیں، بلکہ مستقبل کے ڈاکٹرز، انجینئرز، اساتذہ اور باشعور شہری تیار کرنے کی ایک سنجیدہ اور دور رس کوشش ہیں۔ اسی لیے تمام مخیر حضرات سے مودبانہ اپیل ہے کہ وہ اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ایک غریب مگر باصلاحیت طالبِ علم کو تعلیم دینا محض سماجی خدمت نہیں بلکہ صدقۂ جاریہ ہے، جس کے ثمرات نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ اگر علم کی یہ شمع اسی طرح فروزاں رہی تو وہ دن دور نہیں جب چترال محرومیوں کے بجائے علم، وقار اور روشن مستقبل کی علامت بن کر ابھرے گا۔


