مضامین

داد بیداد ..مادری زبانوں میں تعلیم ..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

یہ بات خوش آئینداور باعث اطمینان ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے 2011ء میں صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے والے ایکٹ پر عمل درآمد کی رفتار کو ”مزید“ تیز کرنے کے لئے مختلف مختلف مادری زبا نوں کے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دے کر پہلے سے منظور شدہ منصو بے پر کام جاری رکھنے کا نیا لائحہ عمل تیار کرنے پر کام شروع کیا ہے ماہرین کی کمیٹی کے لئے ہدایت نامہ ٹرمز آف ریفرنس (TORs)کی تدوین کا حکم دیا گیا ہے اخبارات کے ذریعے جو خبر ہم تک پہنچی ہے اُس میں بتا یا گیا ہے کہ کمیٹی میں پشتو کے لئے ڈاکٹر اباسین یو سفزئی، ڈاکٹر طارق محمود، پروفیسر شگفتہ، سیما کا کا خیل، ہندکوکے لئے پرو فیسر صبیح احمد، ناصر بختیارخان، خا لد سہیل ملک، سرائیکی زبان کے لئے محمد رمضان کا وش،شاہدہ نسیم، سید مظہر علی اور کھوار (چترالی) کے لئے محسن حسن، احمد علی کو ماہرین کی کمیٹی میں لیا گیا ہے 2011ء کے ایکٹ میں گو جر ی اور کوہستانی زبانوں کو بھی شامل کیا گیا تھاماہرین کی کمیٹی میں ان دونوں کا ذکر نہیں ہے نیز تین مادری زبانوں کے لئے 3، 3ماہرین کے نا م دیئے گئے ہیں جبکہ ایک زبان سے صرف دو نام منظر عام پر آئے ہیں اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ 15سال گذرنے کے بعد بھی اس مسئلے پر درست طریقے سے غور نہیں ہوا اب کمیٹی کے لئے ہدایت نا مہ جا ری کرنے کا مرحلہ آیا ہے تو دیوار کی طرف منہ کر کے تین امور کی نشاندہی کر نا بے جا نہیں ہو گا سب سے اہم بات یہ ہے کہ مادری زبانوں کو نصاب کا حصہ بنا نے کا جو ایکٹ منظور ہوا تھا اس میں تین اداروں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا یا گیا تھا نصاب سازی کے لئے ڈائریکٹریٹ آف کریکو لم اینڈ ٹیچر ز ایجو کیشن، صو بائی ٹیکسٹ بک بور ڈ اور صوبائی نظا مت ابتدائی و ثا نوی تعلیم، 15سالوں میں نصاب سازی کا کام مکمل ہوا ہے اساتذہ کی تربیت پر اب تک کام شروع نہیں ہوا، نصا بی کتا بوں پر کام جا ری ہے مگر یہ کا م معیا ری نہیں ہے قانونی اور انتظامی سقم کی وجہ سے غیر معیا ری کتا بیں چھپوائی جا رہی ہیں نظامت ابتدائی و ثا نوی تعلیم نے 15سالو ں میں ما دری زبانوں کے لئے اسا تذہ کی آسامیاں منظور کرانے پر کوئی تو جہ نہیں دی اس لئے بر سر زمین کچھ بھی نظر نہیں آتا، 2011ء میں جو ٹائم لائن دیا گیا تھا اُس کی رو سے نصاب سازی کے بعد مادری زبانوں کے لئے اساتذہ کی آسامیاں درجہ وار منظور ہونی تھیں منظوری کے ساتھ ہی اساتذہ کی بھر تی اور تر بیت کا عمل شروع ہونا چاہئیے تھا اس کے متوازی نصابی کتب کی تیاری اور چھپا ئی کا کام اول سے بارہ جماعتوں تک درجہ بدرجہ جا ری رہنا چاہئیے تھا اس میں بھی کو تاہی اور تاخیر ہوئی اب ما ہرین کی کمیٹی کے سامنے جو کام ہے وہ یہ ہے کہ 2011ء سے اب تک ہونے والے ادھورے کام کا جا ئزہ لیکر اگلے 3سالوں کے لئے مربوط اور منضبط لائحہ عمل بنا نا ہے یہ کا م سرکاری حکام سے زیا دہ سیا سی قیا دت پر منحصر ہے سیاسی قیادت اگر کام کو جا ری رکھنا چاہے تو بات آگے بڑھ سکتی ہے سیا سی عزم و ارادہ (Political will) نہ ہو تو مزید 15سال ضائع ہونے کے بعد اگلی کمیٹی بنے گی جن لوگوں نے پنجاب میں کا م کا طریقہ کار دیکھا ہے ان کو معلوم ہے کہ پنجاب میں حکومت بدلنے کے باوجود پا لیسی جا ری رہتی ہے جن منصو بوں کو شروع کیا جا تا ہے ان کو ادھورا نہیں چھوڑا جا تا وہاں عوامی مفاد کے کام شخصیات کے باہمی ٹکراؤ سے ہر گز متا ثر نہیں ہو تے، وہاں وزیر اعلیٰ صرف اپنے حلقے کا ذمہ دار نہیں ہوتا وہاں کا بینہ کے وزرا ء صرف اپنے حلقوں تک محدود نہیں ہوتے یہ ان کی ترقی کا اصل راز ہے اور ہماری زبو ن حا لی کا سبب قیادت کا اس کے بر عکس رویہ یہ ہے جو غالب کے محبوب جیسا ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button