داد بیداد………….غزہ اور حما س……..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

ذرائع ابلا غ میں فلسطین، غزہ اور حماس کے بارے میں گزشتہ سوا دو سالوں میں جو کچھ آتا رہا ہے وہ پوری سچائی پر مبنی نہیں آج کل بعض حلقوں میں تباہ شدہ غزہ کی بحا لی اور تعمیر نو سے متعلق جو خو ش فہمیاں اور خوش گمانیاں آئے روز آرہی ہیں وہ بھی بر سر زمین حقائق سے ہم آہنگ نہیں ہیں افسوس نا ک بات یہ ہے کہ فلسطینی ایک متحد قوم نہیں رہے، 1993ء کے اوسلو معا ہدے کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے نا م سے الفتح تنظیم کو دریا ئے اردن کے مغر بی کنا رے راملہ میں محدود اختیارات کے ساتھ حکومت ملی تو حماس نے بغا وت کر کے غزہ کی چھوٹی سی پٹی میں اپنی الگ حکومت قائم کی دونوں میں ایسی ہی دشمنی ہے جیسی فلسطینی اور اسرائیلی اقوام کی آپس میں دشمنی چلی آرہی ہے اور فلسطین کے مسئلے کی سب سے مشکل گُتھی بھی یہی ہے کہ فلسطینی اپنے دشمن کے خلاف متحد کیوں نہیں ہو تے؟ شہید یحیٰ سنوار نے حما س کو فسلطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے قریب کیوں نہیں کیا حما س کے مو جو دہ قائد خا لد مشعل اور محمود عباس کے درمیان صلح کیوں نہیں ہو سکتی؟ سوچنے والا سوچ سوچ کر پریشان ہو جا تا ہے دوسری طرف مہا جر فلسطینیوں کی مو ثر طاقت حزب اللہ بھی کمزور ہو گئی ہے 2024میں اس کے سر براہ حسن نصراللہ کی شہا دت کے بعد اگر چہ نعیم قاسم کو جا نشین مقرر کیا گیا تاہم تنظیم کا شیرازہ بکھر چکا ہے وہ طاقت، وہ توانا ئی نہیں رہی دوسری طرف دیکھیں تو امریکہ پہلے سے زیا دہ طاقتور ہو چکا ہے اسرائیل کی حیثیت ریت کی بوری جیسی ہے جس کو امریکہ نے اپنا مورچہ بنا یا ہوا ہے ایران کے سوا تمام اسلا می مما لک نے فلسطینیوں کے مقا بلے میں امریکہ کا کیمپ اختیار کر لیا ہے اور فرینڈز آف پیس کے پُر فریب معا ہدے میں شامل ہو چکے ہیں گویا حا لت حا ضرہ کے تنا ظر میں غزہ کی تعمیر نو کا کوئی امکان اُس وقت تک نہیں جب تک حماس کا خا تمہ نہ ہو اور غزہ پر امریکہ کا مکمل قبضہ نہ ہو
حالات کی تصویر اگر چہ دھند لی ہے ہمارے لئے نا پسند ہے تا ہم یہ کیمرے سے لی گئی سچی تصویر ہے مصنو عی ذہا نت اور مشینی کہا نت والی مطولبہ تصویر نہیں حا لات کی یہ تصویر کشی ہمیں خوش فہمیوں سے اور خو ش گما نیوں سے نکلنے کا سبق دیتی ہے اگر دشمن کے مو قف پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو تین نما یاں باتیں سامنے آتی ہے پہلی بات یہ ہے کہ امریکہ یہو دیوں کی طاقتور حکومت ہے اس کا موقف یہ ہے کہ فلسطین یہو دیوں کا وطن مو عود (Promised Land) ہے دنیا میں جہاں کہیں بھی معدنیات کے ذخا ئر ہیں وہ یہو دیوں کی ملکیت ہیں ان پر صرف یہو دی کا حق ہے اور امریکہ تمام معدنی وسائل پر قبضے کا حق رکھتا ہے اس کے لئے طاقت استعمال کرنے اور خون ریزی کرنے سے بھی کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا دوسری بات یہ ہے کہ نا م نہا د فرینڈ ز آف پیس کے معا ہدے میں صاف طور پر لکھا گیا ہے کہ حماس کو ہتھیار ڈالنا ہو گا غیر مسلح ہونا پڑے گا تیسری بات یہ ہے کہ غزہ کی تعمیر نو تب تک شروع نہ ہوگی جب تک غزہ کا مکمل اختیار واقتدار اسرائیل اور امریکہ کے ہا تھوں میں نہ دیا جا ئے خبروں میں دلچسپی لینے اور خبروں سے نتا ئج اخذ کرنے والے جا نتے ہیں کہ اس وقت غزہ اور حماس کو بے جا ن شکار کی طرح امریکہ کے سامنے ڈال دیا گیا ہے، اخبار بین حلقوں کو یا د ہو گا جب 7اکتو بر 2023کو الا قصیٰ بریگیڈ نا می تنظیم نے جنوبی اسرائیل پرپہلا حملہ کیا تجزیہ نگا روں نے خد شہ ظا ہر کیا تھا کہ یہ حملہ فلسطینی مسلما نوں کے خلاف خود کش قدم ثا بت ہو گا پھر ایسا ہی ہوا قرآن وحدیث کی روشنی میں اگر اس معا ملے کا جا ئزہ لیا جائے تو محص دو مثا لیں کا فی ہو نگی سورہ انفال آیت 46میں فرمایا گیا کہ ”اے مسلما نو! آپس میں اتفاق سے رہو اگر تم نے اتفاق سے منہ موڑ لیا تو تمہا ری ہوا اکھڑ جائیگی اور دشمن پر تمہاری ہیبت ختم ہو جائیگی“سورہ حشر آیت 14میں یہو دیوں کا ذکر آیا تو فرما یا گیا کہ ”یہو دی آپس میں ایک دوسرے سے بغُض اور عداوت رکھتے ہیں، تم ان کو متحد سمجھتے ہو حا لانکہ وہ تتر بتر ہو چکے ہیں“ ایک غزوہ سے واپسی پر مدینہ منورہ میں داخل ہو تے وقت نبی کریم ﷺ نے فرمایا ”خیال رکھو ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف آرہے ہیں اور بڑا جہا دنفس کے خلاف جہا د ہے“ غزہ اور حماس کی کہا نی میں قیادت کا امتحان ہے اتحا د سے جو کچھ ہا تھ آسکتا تھا انتشار سے وہ دشمن کی جھو لی میں گر سکتا ہے۔

