مضامین

حرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔

​انسان دنیا میں مال و دولت اس لیے جمع کرتا ہے کہ وہ اسے سکون اور وقار دے گی، مگر جب یہی دولت اپنوں کے درمیان دیوار بن جائے، تو وہ رحمت کے بجائے زحمت بن جاتی ہے۔ آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ "وراثت میں حق تلفی” ہے، جس کی وجہ سے عدالتیں آباد اور گھر برباد ہو رہے ہیں۔
​۱. قرآن حکیم کی وعید اور واضح احکامات
​اللہ تعالیٰ نے وراثت کے احکامات کو محض مشورہ نہیں بلکہ "فرائض” قرار دیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
​”یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا، اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی… اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدود سے تجاوز کرے گا، وہ اسے آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے ذلت آمیز عذاب ہے۔” (سورۃ النساء: 13-14)
​خاص طور پر بہنوں اور بیٹیوں کا حق مارنا ایک ایسی بدترین روایت بن چکی ہے جس پر قرآن نے سخت گرفت کی ہے۔ جائیداد پر قبضہ کرنا درحقیقت "آگ کے انگارے” کھانے کے مترادف ہے۔
​۲. فرمانِ نبوی ﷺ: غصب شدہ زمین کا انجام
​رسول اللہ ﷺ نے وراثت میں ناانصافی اور کسی کا حق چھیننے والوں کو سخت تنبیہ فرمائی ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
"جس نے کسی کی ایک بالشت زمین بھی ظلماً لی، قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔” (صحیح بخاری)
​ایک اور جگہ فرمایا گیا کہ جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ دے گا۔
​۳. وکیلوں کا فائدہ، خاندان کا نقصان۔۔۔
​ ضد اور انا کی وجہ سے جائیدادوں کے فیصلے نسلوں تک عدالتوں میں لٹکتے رہتے ہیں۔
​مالی نقصان: جائیداد کی اصل قیمت سے زیادہ رقم وکیلوں کی فیسوں اور کچہری کے چکروں میں ضائع ہو جاتی ہے۔
​نفسیاتی اذیت: باپ بیٹے کا دشمن اور بھائی بہن کا مخالف بن جاتا ہے، جس سے سکونِ قلب رخصت ہو جاتا ہے۔
​بے برکتی: وہ مال جو حرام طریقے سے یا اپنوں کا دل دکھا کر حاصل کیا جائے، اس میں کبھی برکت نہیں ہوتی۔ وہ مال بیماریوں، حادثات اور ناخلف اولاد کی صورت میں ضائع ہو جاتا ہے۔
​۴. حرص کا اندھیرا اور فراخ دلی کا اجالا
​انسان کی حرص کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر انسان کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی تمنا کرے گا، ابنِ آدم کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے۔
​اگر ہم اسلامی تقسیمِ وراثت پر عمل کریں تو:
​معاشرے میں معاشی توازن پیدا ہوگا۔
​عدالتوں پر بوجھ کم ہوگا اور جائیداد واقعی "مفید” بنے گی۔
​سب سے بڑھ کر، خون کے رشتے ٹوٹنے سے بچ جائیں گے۔

​ایسی دولت کا کیا فائدہ جو آپ کو اپنوں کی نظر میں گرا دے اور اللہ کے حضور مجرم بنا دے؟ وارث مر جاتا ہے، جائیداد یہیں رہ جاتی ہے، مگر اس کے ساتھ جڑے ہوئے گناہ اور حق تلفیاں اس کے نامہ اعمال میں درج ہو جاتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم "انا” کو چھوڑ کر "حق” کو اپنائیں تاکہ دنیا میں بھی سرخرو ہوں اور آخرت میں بھی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button