مضامین

کچے کے علاقے میں پکا آپریشن۔۔۔۔تحریر: رانا اعجاز حسین چوہان

گزشتہ دنوں کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف پکا آپریشن کیا گیا، پاک فوج نے آپریشن کے دوران پولیس کی معاونت کی، جرائم پیشہ افراد کی ایک ایک حرکت کو مانیٹر کیا گیا، جدید ترین سرویلنس اور ہیومن انٹیلی جنس کا استعمال کیا گیا، سندھ حکومت نے آپریشن میں بھرپور ساتھ دیا۔ اور بھرپور آپریشن کے بعد اس علاقے میں الحمدللہ حکومتی رٹ قائم کردی گئی ہے۔ دریائے سندھ کے دونوں اطراف مٹی کی موٹی دیواریں ہیں جوکہ دریا کا پانی باہر نکلنے سے روکتی ہیں، ان دیواروں کے درمیان والے علاقے کو کچا کہا جاتا ہے۔ ان دیواروں کے درمیان دریا کا فاصلہ کہیں دس کلومیٹر ہے تو کہیں دو کلومیٹر۔ دریائے سندھ جیسے جیسے جنوب کی جانب بڑھتا ہے اس کی موجوں کی روانی سست اور اس کی وسعت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ جون اور جولائی کے بعد جب مون سون بارشیں ہوتی ہیں تو دریا کی پوری چوڑائی پانی سے بھری ہوتی ہے مگر سردیوں میں دریا صرف درمیان میں ایک پتلی لکیر کی طرح بہتا ہے اور باقی علاقہ خالی رہتا ہے۔
شمالی سندھ کے قریب کچے کا علاقہ عرصہ دراز سے ڈاکوؤں کی پناہ گاہ بنا ہواتھا، جوکہ یہاں پناہ گاہیں بنا کر آس پاس کے علاقوں میں دہشت پھیلاتے اور پولیس کی دسترس سے دور یہاں پناہ بھی لیتے اور وقت پڑنے پر قانون نافذ کرنے والوں کا مقابلہ بھی کرتے۔ کچے کے علاقے میں عرصہ دراز سے سنگین جرائم میں ملوث ڈاکوؤں کے پاس نہ صرف جدید اسلحہ، بلٹ پروف جیکٹس موجود تھیں، بلکہ سرویلنس اور پولیس کی پوزیشن معلوم کرنے کے لیے ڈرون کا بھی استعمال کرتے تھے۔ ماضی میں متعدد بار یہاں آپریشن کئے گئے، پولیس کی بکتربند گاڑیوں میں جانے والے پولیس افسران بھی بچ نہ سکے اور ڈاکوؤں سے مقابلہ کرتے ہوئے کئی پولیس افسران شہید ہوگئے۔ ان ڈاکوؤں کے پاس ایسے جدید ہتھیار تھے جن کے سامنے بلٹ پروف گاڑیاں بھی بے کار ہوجاتیں۔ ماضی میں پولیس نے آپریشن کے بعد ان ڈاکوؤں کے قبضے سے اینٹی ایئر کرافٹ گن بھی برآمد کی تھی جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شمالی سندھ کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کرنا کس قدر مشکل تھا۔ شمالی سندھ کے ڈاکو نیشنل ہائی وی پر ناکہ لگا کر ایک ہی رات میں سینکڑوں مسافر بسوں کو لوٹ لیتے تھے۔ جس کے بعد اس علاقے میں رات میں سفر کرنا مشکل ہوتا تھا اور بعد میں پولیس موبائلوں کے سا تھ قافلہ بنا کر مسافر بسوں کو یہاں سے گزارا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ ڈاکو بیوپاریوں اور کاروباری لوگوں کو بھتے کی پرچی بھیجتے اور بھتہ نہ دینے پر ان کو قتل کردیا جاتا۔ ماضی میں شمالی سندھ کے امیر ترین سمجھے جانے والے ہندو ان ڈاکوؤں کے پسندیدہ شکار تھے جس کے باعث گزشتہ کچھ سالوں میں شمالی سندھ سے ہندوؤں کے بڑی تعداد کراچی منتقل ہوگئی تھی۔
کچے کا علاقہ ریاست کے اندر ریاست تھی، ڈاکوؤں نے خوف کی سلطنت قائم کر رکھی تھی، ڈاکو ہنی ٹریپ کر کے، او ایل ایکس پر سستے اشتہار لگاکر بھی لوگوں کو اٹھا کر لے جاتے تھے۔ سیکورٹی فورسز کے حالیہ آپریشن کے بعد سندھ اور پنجاب کی سرحد پر شہریوں اور انتظامیہ کے لئے درد سر بنے ڈاکو اپنی کمین گاہیں چھوڑ کر فرار ہوگئے، اور500سے زائد جرائم پیشہ افراد نے ریاست کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ اسطرح کچے کے علاقے میں کریمنل گینگز کا مکمل صفایا کرکے قانون کی رٹ قائم کردی گئی ہے، علاقے میں پولیس چوکیاں مکمل بحال کردی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کچا کے علاقے میں کامیاب آپریشن پر ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب محمد کامران خان کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی پیشہ ورانہ حکمت عملی، موثر کمانڈ اور بہترین کوآرڈی نیشن کے باعث ریاست کی رٹ بحال ہوئی۔ جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس بیسڈ حکمت عملی اور مختلف اداروں کے درمیان مضبوط رابطے نے آپریشن کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ وزیراعلیٰ نے محمد کامران خان اور ان کی ٹیم کی جرات، عزم اور فرض شناسی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا۔ بلاشبہ کچا جیسے مشکل اور پیچیدہ علاقے میں امن کا قیام ایک بڑا کارنامہ ہے، جس پر پوری آپریشن ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے، اس گرینڈ آپریشن پر پنجاب کی عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اورامید کی جارہی ہے کہ برس ہا برس سے دہشت گردوں کے زیر تسلط یہ علاقہ بھی امن کا گہوارہ بنے گا اور ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button