تازہ ترین

جمیعت علماء اسلام کا چترال میں اسٹامپ پیپرز کے حصول میں مشکلات پر تشویش کا اظہار

​چترال (نمائندہ آئین)جمیعت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی جنرل کونسل کے ممبر قاری جمال عبدالناصر نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ چترال جیسے دور افتادہ اور پسماندہ علاقے کے عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے 500 روپے سے کم مالیت کے اسٹامپ پیپرز کا پرانا طریقہ کار بحال کیا جائے۔
​اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ”اسٹامپ پیپرز کے لیے صرف بینکوں پر انحصار کرنے کے فیصلے سے چترال کے غریب عوام اور بالخصوص اسٹوڈنٹس شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کو ایک اسٹامپ پیپر کے لیے پورا دن بینک کی لائنوں میں لگنا پڑتا ہے، جس سے ان کا وقت اور پیسہ دونوں ضائع ہو رہے ہیں۔”
​قاری جمال عبدالناصر نے مندرجہ ذیل مطالبات پیش کیے:
​وینڈرز کی بحالی: 500 روپے سے کم قیمت کے اسٹامپ پیپرز بینکوں کے بجائے دوبارہ اسٹامپ وینڈرز کے پاس دستیاب کرائے جائیں
تاکہ عوام کو آسانی سے میسر ہوں۔
​ چترال اور دروش میں بینک آف خیبر کی تمام برانچوں کو پابند کیا جائے کہ وہ اس سہولت کو ترجیحی بنیادوں پر فراہم کریں۔
​تعلیمی اسناد اور دیگر چھوٹے کاموں کے لیے اسٹامپ پیپر کے حصول کو سادہ بنایا جائے تاکہ طلباء کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع نہ ہو۔
​انہوں نے مزید کہا کہ چترال کی جغرافیائی صورتحال دیگر شہروں سے مختلف ہے، یہاں انٹرنیٹ اور بینکنگ کی سہولیات ہر جگہ موجود نہیں ہیں۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ زمینی حقائق کو دیکھ کر فیصلہ کرے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر یہ دیرینہ مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر ہوگی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button