دادبیداد..سکول اور سمسٹر سسٹم..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

سمسٹر (Semester) نظا م تعلیم کا ایسا سسٹم ہے جس میں سبق سمجھا نے کو رٹہ لگا نے پر اولیت دی جاتی ہے، لکھنے، لکھا نے اور لکھوانے کو زبانی سبق دہرانے پر ترجیح دی جاتی ہے اور طالب علم کو بنیادی ہنر سیکھنے کے قابل بنانا امتحان پاس کرنے سے زیادہ اہمیت اختیار کرتا ہے، گویا سمسٹر سسٹم طالب علم کو تعلیم یافتہ بناتا ہے 40سال پہلے پختونخوا کی یونیورسٹیوں میں سمسٹر سسٹم متعارف کرانے کی تجویز آئی تو اس پر کئی خدشات کا اظہار کیا گیا اور اعتراضات کئے گئے سب سے بڑا خدشہ یہ تھا کہ ہماری یونیورسٹیوں میں نیا سسٹم چلانے کی صلا حیت نہیں ہے اس طرح ایک اعتراض یہ تھا کہ طلباء اور طالبات کو پا س یا فیل کرنے کا اختیار متعلقہ شعبے کے اساتذہ کو دیا گیا تو تعلیم کا بیڑہ غرق ہوجا ئے گا مگر وقت گذرنے کے ساتھ خدشات اور اعتراضات غلط ثا بت ہوئے رفتہ رفتہ سمسٹر سسٹم یو نیورسٹیوں سے کالجوں میں رائج ہو ا نئے تعلیمی سال سے یہ طریقہ سکولوں میں بھی رائج ہوا ہے گویا حقیقت خود کو منوا لیتی ہے مانی نہیں جاتی اب سکول اور سمسٹر کا نیا پنڈورا با کس کھل گیا ہے اس پر لے دے ہو رہی ہے مگر سچی بات یہ ہے کہ دو چار سالوں میں سکولوں کے اندر سمسٹر سسٹم کے فوائد نظر آنا شروع ہو جائینگے تو سب کو یقین آئیگا کہ اس کی افادیت سے انکار کی گنجائش نہیں عام شہری اور خواندہ یا نیم خواندہ والدین کے لئے سکولوں کا سمسٹر سسٹم یہ ہے کہ اول سے لیکر بارہ جماعتوں تک تعلیمی سال کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلا حصہ مارچ سے جون تک اور دوسرا حصہ اگست سے دسمبر تک ہوگا طالب علم کو 3مہینوں میں یا 4مہینوں میں جتنا سبق پڑھایا جائیگا اس کا امتحان لیکر اگلے سمسٹر میں جگہ دی جائیگی فیل ہونے والا پہلا سمسٹر دوبارہ پڑھے گا اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ مختصر سبق کا مختصر امتحان ہوگا، دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ امتحان کے لئے سال تک انتظار کرنا نہیں پڑے گا بچوں پرا متحان کا ذہنی بوجھ اور دباؤ نہیں ہوگا البتہ اساتذہ کرام، ماہرین تعلیم اور شعبہ تعلیم و امتحانات کے نظم و نسق سے وابستہ حکام کے لئے سمسٹر سسٹم کے پروفیشنل زاویے اور تقاضے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں مثلاًاساتذہ اور طلباء، طالبات کی توجہ سلیبس پر مرکوز ہوگی، سلیبس کے اعراض مقاصد اور اہداف پیش نظر ہونگے، اسی طرح تدریس کا تدریجی طریقہ (پیڈا گو جی)اول سے آخر تک تعلیمی عمل کا حصہ ہوگا، تعلیمی نفسیات کی روشنی میں طالب علم سے عملی کام لیا جائے گا، رٹہ بازی کی عادت کو ختم کر کے سمجھ بوجھ کی عادت کو پروان چڑھا یا جائیگا دوسری جماعت کا طالب علم سوال و جواب کے ذریعے کمرہ جماعت کی سرگرمی میں بھرپور حصہ لے گا مثلا ً وہ کشش ثقل کے سبق کو زبانی یاد کرنے کے بجائے خود سمجھے گا دوسروں کو سمجھانے کے لئے استاد کی موجودگی میں پوری جماعت کو پڑھا ئے گا اور سوالات کے جواب بھی دیگا چوتھی جماعت کا طالب علم پانی کے فارمولے پر سائنسی تجربہ کر کے بتائے گا کہ دیکھو دوحصہ ہائیڈروجن اور ایک حصہ اوکسیجن ہے سکول میں سمسٹر سسٹم سے تعلیمی نظام میں جان آئیگی۔


