مضامین

رمضان اور روزہ: مقصد، تقاضے اور احتیاطیں ……….تحریر: ابوسلمان

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ”
(سورۃ البقرہ: 183)
ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
رمضان المبارک محض ایک مہینہ نہیں بلکہ تربیت، اصلاح اور تقویٰ کا عملی کورس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ… لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ” (البقرہ: 183)
یعنی روزے کا مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے۔ اسی تناظر میں درج ذیل بنیادی امور نہایت اہم ہیں:
1 روزے کا اصل مقصد
روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ
نفس کی اصلاح
تقویٰ کا حصول
گناہوں سے اجتناب
دل کی پاکیزگی
اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول
اگر تقویٰ حاصل نہ ہوا تو روزے کا مقصد فوت ہو گیا۔
2 صرف بھوک اور پیاس کافی نہیں
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
"رُبَّ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ”
کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
اسی طرح:
کچھ قیام کرنے والوں کو صرف جاگنا نصیب ہوتا ہے۔
اگر اعمال کی روح موجود نہ ہو تو ظاہری مشقت بے فائدہ رہ جاتی ہے۔
3 جھوٹ اور گناہوں سے مکمل اجتناب
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ.
اگر جھوٹ اور اس پر عمل نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کے بھوکا رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔
گناہوں میں شامل ہیں
جھوٹ
غیبت
بہتان
دل آزاری
فحش گفتگو
بدنگاہی
یہ سب روزے کے اجر کو کم یا ضائع کر دیتے ہیں۔
4 لغو اور فحش باتوں سے پرہیز
حدیث میں ہے
"لَيْسَ الصِّيَامُ مِنَ الأَكْلِ وَالشُّرْبِ، إِنَّمَا الصِّيَامُ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ”
یعنی روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ
لغو باتوں سے بچنا
فضول مشاغل سے دور رہنا
فحش کلامی ترک کرنا
یہی حقیقی روزہ ہے۔
5 لڑائی جھگڑے سے مکمل پرہیز
شریعت نے حالتِ روزہ میں جھگڑے سے منع فرمایا کیونکہ جھگڑا
گالی تک پہنچتا ہے
طعن و تشنیع پیدا کرتا ہے
دلوں میں نفرت بھرتا ہے
اگر کوئی لڑائی کرے تو کہہ دو
"إِنِّي صَائِمٌ” — میں روزے سے ہوں۔
یہ جملہ صرف الفاظ نہیں بلکہ ضبطِ نفس کی تربیت ہے۔
6 رمضان رحمتوں کا موسم
حدیث میں آیا ہے
جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں
جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں
شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں
ہر رات لوگوں کو جہنم سے آزاد کیا جاتا ہے
منادی پکارتا ہے
اے خیر کے طلبگار! آگے بڑھ۔ اے شر کے چاہنے والے! رک جا۔
یہ اصلاح اور توبہ کا سنہری موقع ہے۔
7 روزے کی حفاظت کیسے کریں؟
1< آنکھ کو حرام سے بچائیں
2< زبان کو جھوٹ اور غیبت سے روکیں
3< کان کو فضول باتوں سے محفوظ رکھیں
4< دل کو کینہ اور حسد سے پاک کریں
5<ہاتھ اور قدم کو گناہ سے روکیں
جب انسان اپنے اعضاء کی حفاظت کرتا ہے تو دراصل وہ اپنے روزے کی حفاظت کرتا ہے۔
8 روزہ ایک اخلاقی انقلاب
روزہ
صبر سکھاتا ہے
تحمل پیدا کرتا ہے
غصہ کم کرتا ہے
محتاجوں کا احساس دلاتا ہے
آخرت کی یاد تازہ کرتا ہے
اگر یہ صفات پیدا نہ ہوں تو ہمیں اپنے روزے کا جائزہ لینا چاہیے۔
9 اصل کامیابی
کامیاب روزہ وہ ہے:
جو انسان کو بدل دے
گناہوں سے نفرت پیدا کر دے
عبادت سے محبت بڑھا دے
دل میں اللہ کا خوف اور امید دونوں پیدا کر دے
ورنہ صرف رسم ادا ہو گی، روح حاصل نہ ہوگی۔
رمضان گزر جاتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی بدل جاتے ہیں؟
اگر روزے نے ہمیں جھوٹ سے سچا، سختی سے نرم، اور غفلت سے بیدار بنا دیا تو سمجھیں ہم نے رمضان پالیا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا روزہ نصیب فرمائے جو صرف پیٹ کو نہیں بلکہ دل اور ہماری روح کو بھی پاک کر دے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button