مضامین

لاٹھی کا سہارا یا دل کا سہارا؟…….. تحریر: ابو سلمان محمد قاسم

حال ہی میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک تصویر نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ تصویر میں ایک بزرگ، سفید داڑھی، ہاتھ میں لاٹھی تھامے، نہایت سنجیدگی سے اپنی بات بیان کر رہے ہیں، جبکہ ایک نوجوان ان کا انٹرویو لے رہا ہے۔ تصویر کے ساتھ لکھے گئے الفاظ دل پر دستک دیتے ہیں کہ جب اولاد اپنے والدین کو اولڈ ایج ہوم بھیجنے کی بات کرتی ہے تو یہ صرف ایک فیصلہ نہیں بلکہ ایک احساس کی موت ہوتی ہے۔
یہ منظر محض ایک تصویر نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور کمزور ہوتے خاندانی نظام کا آئینہ ہے۔
زندگی کا دائرہ اور انسان کی حقیقت
انسان اپنی زندگی میں کمزوری سے طاقت اور پھر طاقت سے کمزوری کی طرف سفر کرتا ہے۔
بچپن میں وہ دوسروں کا محتاج ہوتا ہے، جوانی میں خود مختار، اور بڑھاپے میں دوبارہ سہارا ڈھونڈتا ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ بچپن میں اسے محبت بے حساب ملتی ہے، جبکہ بڑھاپے میں اکثر وہ محبت ناپید ہو جاتی ہے۔
قرآن کا واضح حکم
اسلام نے والدین کے مقام کو انتہائی بلند رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"وَقَضٰى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا”
(سورۃ بنی اسرائیل: 23)
ترجمہ: اور تمہارے رب نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں "اف” تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے عزت کے ساتھ بات کرو۔
یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ بڑھاپے میں والدین کی خدمت اور احترام صرف اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ شرعی حکم ہے۔
آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی تعلیمات
نبی کریم ﷺ نے والدین کی خدمت کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"رَغِمَ أَنفُهُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنفُهُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنفُهُ”
عرض کیا گیا: کون یا رسول اللہ؟
فرمایا:
"مَن أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِندَ الكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الجَنَّةَ”
(صحیح مسلم)
ترجمہ: وہ شخص ذلیل ہو جائے جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا، پھر بھی جنت حاصل نہ کر سکا۔
یہ حدیث اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ والدین کی خدمت محض ایک ذمہ داری نہیں بلکہ ایک سنہری موقع ہے۔
اولڈ ایج ہوم: سہولت یا محرومی؟
موجودہ دور میں اولڈ ایج ہومز کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
مغرب زدہ لوگ اسے سہولت کانام دیتے ہیں مگر درحقیقت یہ ایک ایسا حل ہے جو جذباتی خلا کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
بزرگوں کو صرف دو وقت کی روٹی اور دوائی نہیں چاہیے، بلکہ انہیں اپنائیت، محبت اور تعلق چاہیے۔
وہ اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کے درمیان رہ کر سکون محسوس کرتے ہیں۔
تصویر میں موجود بزرگ کے الفاظ اسی محرومی کی ترجمانی کرتے ہیں
کہ اصل تکلیف سہولت کی کمی نہیں بلکہ محبت کی کمی ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر
اسلامی تعلیمات کا تقاضا یہ ہے کہ والدین کو اپنے ساتھ رکھا جائے، ان کی خدمت کی جائے اور ان کی خواہشات کا احترام کیا جائے۔
البتہ اگر کوئی واقعی بے سہارا ہو، یا حالات ایسے ہوں کہ مناسب دیکھ بھال ممکن نہ ہو، تو متبادل انتظام کیا جا سکتا ہے۔
لیکن جب اولاد موجود ہو اور پھر بھی والدین کو الگ کر دیا جائے، تو یہ اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔
ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے:
کیا ہم بھی ایک دن اسی مقام پر نہیں پہنچیں گے؟
کیا ہماری اولاد بھی ہمارے ساتھ وہی سلوک نہیں کرے گی جو ہم اپنے والدین کے ساتھ کر رہے ہیں؟
وہ تصویر ہمیں یہ پیغام دے رہی ہے کہ
والدین بوجھ نہیں، بلکہ برکت ہیں۔
ان کی موجودگی گھر کو گھر بناتی ہے،
ان کی دعائیں زندگی کو سنوارتی ہیں،
اور ان کی خدمت ہمیں جنت کے قریب لے جاتی ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رویوں کا جائزہ لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہمارے والدین کو کبھی یہ محسوس نہ ہو کہ وہ تنہا ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں والدین کی اہمیت اور قدر وقیمت سمجھنے اور ان کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button