تازہ ترین

آئندہ مالی سال کا بجٹ نوجوانوں کے روشن مستقبل اور غریب و متوسط طبقے کی بہتری کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیا جائے گا تاکہ روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکیں/ محمد سہیل آفریدی

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے ترقیاتی پروگرام اور مختلف محکموں کے نئے منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں محکمہ ایکسائز، بلدیات، موسمیاتی تبدیلی، خوراک، ہاوسنگ، داخلہ، زراعت، لائیو اسٹاک اور توانائی سے متعلق مجوزہ اسکیموں کا جائزہ لیا گیا اور عوامی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجیحات طے کی گئیں۔وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اس موقع پر واضح کیا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ نوجوانوں کے روشن مستقبل اور غریب و متوسط طبقے کی بہتری کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیا جائے گا تاکہ روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکیں اور معاشی استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ترقیاتی پروگرام میں ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جائے جو براہ راست عوامی زندگی میں آسانی پیدا کریں۔اجلاس میں کوہاٹ، مردان، پشاور اور ضم اضلاع کو سیف سٹیز بنانے کی تجویز پر غور کیا گیا جبکہ وزیر اعلیٰ نے پشاور سے غلہ گودام کی منتقلی کے لیے متبادل جدید گودام قائم کرنے کی ہدایت جاری کی۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈویڑنل ہیڈکوارٹرز میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس گوداموں کے قیام کی تجویز بھی زیر بحث آئی تاکہ غذائی ذخائر کو محفوظ اور موثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے مختلف اضلاع میں آٹھ ایکسائز تھانوں کے قیام کے لیے زمین کی خریداری کی اسکیم، جیلوں کو مزید محفوظ بنانے، تھانوں کی مضبوطی، اسپیشل برانچ کو جدید آلات کی فراہمی اور انسداد دہشت گردی کے لیے ضلعی سطح پر مربوط نظام کے قیام کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔توانائی کے شعبے میں ضم اضلاع میں منی سولر گرڈز کے قیام، تیراہ میں مائیکرو ہائیڈرو پاور اسٹیشنوں کی بحالی اور نئے فیڈرز کی تنصیب سے متعلق منصوبوں پر غور کیا گیا جبکہ 22 میگا واٹ پاتراک شرینگل ہائیڈرو پاور اسٹیشن کے قیام کو بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی تجویز زیر غور آئی۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ ضم اضلاع میں تمام سرکاری دفاتر کو مرحلہ وار شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے اور گھروں کی سولرائزیشن کے منصوبے کو تیز رفتار بنیادوں پر مکمل کیا جائے، نیز منی اور مائیکرو ہائیڈرو پاور کے مزید ممکنہ منصوبوں کا جائزہ لیا جائے۔نوجوانوں کی ترقی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے جدید ہنر اور تربیت کی فراہمی، برقی تجارت کے فروغ، اور آسان کاروباری مواقع کی فراہمی کے لیے جامع اسکیمیں پیش کرنے کی ہدایت کی۔ ضم اضلاع میں تین چھوٹی صنعتی بستیاں قائم کرنے، ہنر مند نوجوانوں کو مالی معاونت فراہم کرنے اور کاروباری یونٹس کے قیام کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔ماحولیاتی تحفظ کے لیے موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام، فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی بحالی اور خواتین کو نان ٹمبر فارسٹ پراڈکٹس کے ذریعے معاشی طور پر مستحکم بنانے کے اقدامات تجویز کیے گئے۔ وزیر اعلیٰ نے جنگلات کے رقبے میں اضافے کے لیے تین سالہ جامع منصوبہ طلب کرتے ہوئے خصوصی شجرکاری اسکیم مرتب کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں ضم شدہ اضلاع میں فروٹ و سبزی منڈیوں، جدید ذبح خانوں اور ماڈرن صفائی کے حامل دیہات کے قیام کی تجاویز پیش کی گئیں۔ جانوروں کی بیماریوں کی بروقت نگرانی، بائیو گیس منصوبوں، باغبانی کے فروغ کے لیے بلاسود قرضوں کی فراہمی اور لائیو اسٹاک کی ترقی کے لیے مختلف اسکیمیں، جن میں ٹراوٹ مچھلی، پولٹری فارمنگ اور موبائل کلینکس شامل ہیں، بھی زیر غور آئیں۔ وزیر اعلیٰ نے اینیمل رائٹس پالیسی کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے تمام قابل عمل منصوبوں کو بروقت حتمی شکل دینے کی تاکید کرتے ہوئے واضح کیا کہ نئے ترقیاتی بجٹ میں امن عامہ کی صورتحال کی بہتری اور عام آدمی کی فلاح و ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس مقصد کیلئے مختلف شعبوں میں تجویز کئے گئے منصوبوں کاموثر نفاذ ناگزیر ہے جس کیلئے متعلقہ حکام کو اپنی ذمہ داریاں بروقت اور احسن انداز میں پوری کرنا ہوں گی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button