تازہ ترینمضامین

شندور سے لاسپور تک قدرتی ورثے کے زوال کی کہانی خوش گاؤ کی نایاب نسل۔۔۔۔۔۔۔تحریر نورالہدیٰ یفتالی

چترال کی خوبصورت وادی لاسپور رقبے اور آبادی دونوں کے لحاظ سے ایک وسیع اور اہم وادی ہے، جو شندور کے دامن میں واقع ہے۔ زمانۂ قدیم سے یہاں کے لوگوں کا ذریعۂ معاش مویشی پالنا رہا ہے، خصوصاً تبتی نسل کے مشہور یاک اور مقامی زبان میں زوغ اور اردو میں  خوش گاؤکہلانے والے مویشی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ قیمتی نسلیں بتدریج ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔

خوش گاؤ ایک ایسا مفید جانور ہے جس سے انسان صدیوں سے متعدد فوائد حاصل کرتا آیا ہے۔ روایتی طور پر اسے کھیتی باڑی اور باربرداری کے کاموں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے مضبوط اور گھنے بالوں سے مقامی قالین، مقامی کارپٹ اور باربرداری کے لیے مضبوط رسیاں تیار کی جاتی تھیں، جو پہاڑی علاقوں کی معیشت اور ثقافت کا اہم حصہ تھیں۔

اس جانور کا دودھ انتہائی گاڑھا اور غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے، جس سے مکھن، پنیر اور دیگر دودھ سے بنی اشیاء تیار کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس کا گوشت بھی اعلیٰ غذائی خصوصیات کا حامل سمجھا جاتا ہے، جس میں چکنائی اور کولیسٹرول کی مقدار نسبتاً کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خوش گاؤ نہ صرف لاسپور اور شندور کے پہاڑی علاقوں کی معیشت کا ستون رہا ہے بلکہ مقامی لوگوں کی ثقافت، خوراک اور روزگار سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق  اس کی نسل میں کمی  کی ایک بڑی وجہ شندور فیسٹیول کے دوران صفائی کے ناقص انتظامات ہیں۔ جشنِ شندور کے اختتام پر میدان اور اطراف میں بڑی مقدار میں کچرا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ خوش گاؤ اور دیگر مویشی چرائی کے دوران اس کچرے میں موجود پلاسٹک، بچا ہوا کھانا اور دیگر مضر اشیاء کھا لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ان کے قدرتی ماحول میں مسلسل مداخلت کی گئی ہے اور وہ پرسکون چراگاہیں، جہاں یہ جانور صدیوں سے پرورش پاتے آئے تھے، اب وقت کے ساتھ اپنی اصل شکل کھوتی جا رہی ہیں۔ بڑھتی ہوئی انسانی سرگرمیوں، سیاحتی دباؤ اور ماحولیاتی آلودگی نے ان کے مسکن کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث یہ نایاب نسلیں بقا کے نئے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔

رامان لاسپور کے مقامی باشندے مایوں کا کہنا ہے کہ خوش گاؤ اور مارخور انتہائی صاف ستھری عادات رکھنے والے جانور ہیں۔ یہ جہاں بھی چرنے جاتے ہیں، وہاں کی صفائی اور قدرتی ماحول کو ترجیح دیتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ انسانی غفلت اور ماحولیاتی آلودگی نہ صرف ان نایاب جانوروں بلکہ پورے قدرتی نظام کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

لاسپور سے تعلق رکھنےوالے کاشف علی سوشل ایکٹوسٹ کا کہنا ہے،

سن 2022 میں اس نایاب جانور یعنی خوش گاؤ کو سانس کی ایک خطرناک بیماری لاحق ہوئی، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں یہ قیمتی جانور ہلاک ہو گئے۔ اگرچہ مقامی آبادی نے اپنی مدد آپ کے تحت غیر سرکاری لائیوسٹاک ماہرین سے رابطہ کیا اور ویکسینیشن کا انتظام بھی کیا، تاہم بروقت اور مؤثر اقدامات کی کمی کے باعث بہت سے جانور جانبر نہ ہو سکے اور بڑی تعداد میں ہلاکتیں واقع ہوئیں۔

یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں جانوروں کی صحت اور تحفظ کے لیے مستقل اور منظم طبی سہولیات کی اشد ضرورت ہے۔ اس وبا کے دوران میرے ذاتی پانچ خوش گاؤ بھی جانبر نہ ہو سکے، اور اب وہ ہمارے پاس باقی نہیں رہے۔

سور لاسپور اپر  سے تعلق رکھنے والے بزرگ شیر گوڑ ی کہتے ہیں کہ اب صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ یہ ایک باقاعدہ کالونی کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، جسے مقامی لوگ ایک طرح کی غیر منصفانہ قبضہ گیری سے تعبیر کر رہے ہیں۔ مویشی جب چرنے کے لیے لے جائے جاتے ہیں تو ان کی واپسی بھی ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہے، جس سے مقامی چرواہے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

اس صورتحال کے باعث لوگوں میں شندور ایونٹ کے حوالے سے شدید بددلی اور ناراضگی پیدا ہو رہی ہے، کیونکہ بہت سے گھرانے اپنی روزی روٹی اور بچوں کی تعلیم و کفالت اسی مویشیوں کی آمدن سے چلاتے آئے ہیں۔ اب حالت یہ ہو چکی ہے کہ وہ لوگ جو کبھی خود کفیل تھے، صرف محنت مزدوری پر مجبور ہو گئے ہیں۔ مقامی آبادی کے مطابق شندور کے نام پر ہونے والی یہ تبدیلیاں ان کی زندگی، معیشت اور روایتی روزگار کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں، اور احساس یہ پیدا ہو رہا ہے کہ انہیں آہستہ آہستہ اپنے ہی وسائل اور زمین سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔

ماضی میں مقامی لوگوں کے ایک گھر میں اس جانور کی تعداد چھ سے دس تک ہوا کرتی تھی، مگر اب یہ گھٹ کر محض دو تک محدود رہ گئی ہے سن 2010 سے 2026 کے عرصے میں اس قیمتی جانور کی آبادی میں تقریباً 40 فیصد کمی دیکھی گئی ہے، جو اس پورے خطے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے اگر شندور جیسے عالمی شہرت یافتہ سیاحتی اور ثقافتی میلے کے بعد مؤثر صفائی کے انتظامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں لاسپور کی یہ قیمتی حیاتیاتی وراثت مزید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے لاسپور کا خوش گاؤ معدومیت کے دہانے پر ایک حیاتیاتی ورثہ ہے اس کوبچائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button