تازہ ترین

مستوج بروغل روڈ تحریک کے لانگ مارچ ژوپو سے روانہ


چترال (نمائندہ خصوصی) مستوج۔بروغل روڈ تحریک کے ذمہ داران نے مستوج سے بروغل تک 154 کلومیٹر طویل شاہراہ کی فوری تعمیر کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی لانگ مارچ کا آغاز کر دیا۔ مارچ میں مستوج سے بروغل تک واقع 114 دیہات کے ہزاروں افراد، جن میں خواتین، بزرگ، نوجوان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہوئے۔

لانگ مارچ کے شرکاء ژوپو یارخون کے مقام پر جمع ہوئے جہاں ایک بڑے احتجاجی جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مستوج۔بروغل روڈ پر فوری طور پر عملی کام شروع کیا جائے۔مظاہرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک اس اہم شاہراہ کی تعمیر کا آغاز نہیں ہوتا، ان کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے تحریک مستوج۔بروغل روڈ کے صدر اور سابق یوسی ناظم محمد وزیر خان،ظاہر الدین، غازی خان، فیضت شاہ، آصفہ بی بی، خالق داد ایڈوکیٹ،وزیر پناہ، سرتاج خان،صدیق الاعظم،جہان خان،روزگار شاہ، قاری سید فداعلی شاہ،مولانا شیر بہادر، رحمت حسین شاہ اور دیگر مقررین نے کہا کہ مستوج۔بروغل روڈ نہ صرف اپر چترال بلکہ پورے ملک کے لیے جغرافیائی، معاشی اور تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل شاہراہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وادی یارخون کے درجنوں دیہات قدرتی حسن، گلیشیئرز، معدنی وسائل اور سیاحتی امکانات سے مالا مال ہیں، جبکہ یہ علاقہ صدیوں سے وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی گزرگاہ کی حیثیت رکھتا آیا ہے۔

مقررین نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد مسلسل حکومتی عدم توجہی کے باعث اس تاریخی راستے کی تعمیر نہ ہو سکی، جس کے نتیجے میں نہ صرف قدیم تجارتی سرگرمیاں ختم ہو گئیں بلکہ مقامی آبادی کی آمدورفت، تعلیم، صحت، تجارت اور سیاحت بھی شدید متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سڑک نہ ہونے کے باعث علاقے کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور معمولی سفری ضرورت کے لیے بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مستوج۔بروغل روڈ پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں سے ملانے والا قریب ترین زمینی راستہ بن سکتا ہے، جس سے نہ صرف بین الاقوامی تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ سیاحت، معدنیات، روزگار اور مقامی معیشت میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

احتجاجی مظاہرین نے وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ مستوج۔بروغل روڈ منصوبے پر بلا تاخیر تعمیراتی کام کا آغاز کیا جائے، اس کے لیے فوری فنڈز جاری کیے جائیں اور منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ وادی یارخون اور بروغل کے عوام کو درپیش طویل عرصے سے جاری سفری مشکلات کا مستقل حل ممکن ہو سکے۔
ژوپو احتجاجی جلسے کے اختتام پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپر چترال معظم خان بنگش، اسسٹنٹ کمشنر اپر چترال عدنان حیدر ملوکی نے ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا ثریا بی بی کی ہدایت پر تحریک مستوج بروغل کے ذمہ داروں سے تفصیلی نشست کے بعد فیصلہ کیا کہ دو دن کے اندر ممبر صوبائی اسمبلی اپر چترال ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا ثریا بی بی خود آکر لانگ مارچ کے شرکاء سے مستوج بروغل کے حوالے سے خطاب کرینگے ۔اور مستوج بروغل روڈ تحریک کے ذمہ داروں نے اس اہم شاہراہِ پر کام شروع ہونے تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیاگیا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button