قاری فیض اللہ چترالی کا مدرسہ عربیہ نگرلشٹ دروش کا دورہ، طلبہ سے اسباق اور منزل کی سماعت

چترال (نمائندہ ): ممتاز دینی شخصیت حضرت قاری فیض اللہ چترالی نے 6 اکتوبر کی شب نگر لشٹ (تحصیل دروش، ضلع لوئر چترال) میں واقع معروف دینی درسگاہ مدرسہ عربیہ للبنین و البنات کا دورہ کیا۔
انہوں نے رات مدرسے میں قیام کیا اور نمازِ فجر کے بعد شعبۂ حفظ کے طلبہ سے اسباق اور منزل میں سے جستہ جستہ سماعت کی۔
مدرسہ عربیہ للبنین و البنات معروف تبلیغی شخصیت حضرت پاچا نور صاحب مرحوم کی اخلاص پر مبنی قائم کردہ دینی درسگاہ ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔ یہ ادارہ پورے چترال میں واحد مدرسہ ہے جہاں "حفاظ ایجوکیشن سسٹم” کامیابی کے ساتھ رائج ہے۔
ادارے میں شعبۂ درسِ نظامی کا آغاز 2009ء میں ہوا، جبکہ اسی سال پہلی تقریبِ ختمِ بخاری شریف منعقد ہوئی جس میں جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے استاذِ حدیث حضرت مولانا فضل محمد صاحب (دامت برکاتہم العالیہ) نے بحیثیتِ مہمانِ خصوصی درسِ حدیث دیا۔
مدرسے کا شعبۂ حفظ بر لبِ سڑک جبکہ شعبۂ درسِ نظامی دریا پار واقع ہے۔ ادارے میں طلبہ و طالبات کے لیے رہائش، خوراک اور علاج و معالجہ کی بہترین سہولیات میسر ہیں۔ اب تک اس ادارے سے 500 سے زائد بچے اور بچیاں حفظِ قرآن اور 100 سے زائد طالبات درسِ نظامی (عالمہ کورس) کی مکمل تعلیم حاصل کر چکی ہیں، جو اس وقت ملک بھر کے مختلف مدارس و جامعات میں تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
قاری فیض اللہ چترالی کا اس ادارے سے ابتدائی ایام سے ہی تعلق رہا ہے۔ ماضی میں ان کے ہمراہ امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ نے بھی اس مدرسے میں حاضری دی تھی۔
دورے کے اختتام پر مدرسے کی مزید ترقی، بقا اور بانیان، اساتذہ و طلبہ کی خدمات کی قبولیت اور اسے اشاعتِ قرآن و سنت کا مرکز بنائے رکھنے کے لیے خصوصاً دعا کی گئی۔





