چترال: قصابوں اور تنور مالکان کی جانب سے سرکاری نرخ ناموں کی دھجیاں اڑا دی گئیں، عوام مہنگائی سے نالاں

چترال (بشیرحسین آزاد)چترال میں ایک مرتبہ پھر قصابوں اور تنور مالکان نے سرکاری نرخ ناموں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے عوام کو گرانفروشی اور کم وزن اشیاء کی فراہمی شروع کر دی ہے، جس سے انتظامیہ کی کارکردگی اور عملدرآمد کے دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نرخ نامے کے مطابق:
بڑا گوشت: سرکاری ریٹ 1,000 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ قصاب 1,200 روپے میں فروخت کر رہے ہیں۔
بچھڑے کا گوشت: مارکیٹ میں 1,300 روپے فی کلو تک وصول کیا جا رہا ہے۔
چھوٹا گوشت: سرکاری ریٹ 1,400 روپے ہے، مگر قصائی عوام سے 1,800سے 2000 روپے تک بٹھور رہے ہیں۔
اسی طرح تنور مالکان نے بھی آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا بہانہ بنا کر روٹی کے وزن میں شدید کمی کر دی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے 190 گرام روٹی کی قیمت 40 روپے مقرر کی تھی، تاہم مارکیٹ میں طے شدہ وزن سے کافی کم روٹی فروخت کی جا رہی ہے۔
"چند ماہ قبل جب مرغ فروش بغیر وزن کے مرغی فروخت کر رہے تھے تو ڈی سی چترال نے بہترین اقدام اٹھاتے ہوئے انہیں وزن کے حساب سے فروخت کا پابند بنایا، جس پر اب بھی عمل ہو رہا ہے۔ لیکن سوختنی لکڑی، گوشت اور روٹی کے معاملے میں سرکاری نرخ نامے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور ریٹ لسٹ نہ ہونے کے برابر ہو چکی ہے۔”
عوامی اور سماجی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے اور سرکاری نرخ ناموں پر سختی سے عملدرآمد کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیز، عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ صرف سرکاری نرخوں پر اشیاء کی خریداری یقینی بنائیں اور گرانفروشی کی صورت میں ضلعی انتظامیہ کو اطلاع دیں تاکہ قانون شکن عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکے۔



