عالمی مبلغ عبدالرحمن باوا نے زندگی عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کیلئے وقف کی، قاری فیض اللہ چترالی، برطانیہ کے شہر باٹلے میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب

لندن (پ ر) چترال کی معروف دینی و سماجی شخصیت قاری فیض اللہ چترالی نے برطانیہ کے شہر باٹلے کے اسلامک سینٹر میں محافظِ ختمِ نبوت مرحوم عبدالرحمن یعقوب باوا کے تعزیتی ریفرنس میں شرکت کی، جس میں برطانیہ بھر سے بڑی تعداد میں علماء کرام، دینی رہنماؤں اور تحریک تحفظ ختم نبوت سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں قاری فیض اللہ چترالی نے کہا کہ ختم نبوت اکیڈمی لندن کے بانی اور عالمی مبلغ عبدالرحمن یعقوب باوا نے اپنی پوری زندگی عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ، دینی خدمات اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پیغام کو عام کرنے کے لیے وقف کیے رکھی۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم انتہائی مخلص، بے لوث، منکسر المزاج اور مقصد سے وابستہ شخصیت تھے، جنہوں نے خاموشی سے ایسی خدمات انجام دیں جن کے اثرات آئندہ نسلوں تک باقی رہیں گے۔
قاری فیض اللہ چترالی نے اپنے مرحوم سے دیرینہ تعلق کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان سے پہلی ملاقات 1980ء میں کراچی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر میں ہوئی تھی، جبکہ آخری ملاقات برطانیہ کے شہر شیفیلڈ میں ہوئی، جہاں شدید علالت اور جسمانی کمزوری کے باوجود ان کے جذبۂ خدمت، عشقِ رسول ﷺ اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا عزم پہلے کی طرح مضبوط تھا۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم کی دینی خدمات، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر کی تعمیر و ترقی میں کردار اور دعوتی جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مرحوم کے صاحبزادے مولانا سہیل باوا بھی اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے مختلف ممالک میں دینی و دعوتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر مرحوم عالمی مبلغ عبدالرحمن یعقوب باوا کے درجات کی بلندی، مغفرت اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔



