تازہ ترین

چترال: جغور میں سیلاب سے تباہی، عمائدین کا بکریوں کی چرائی پر فوری پابندی کا مطالبہ، روڈ بلاک کرنے کی دھمکی

چترال/چترال شہر کے مضافاتی گاؤں جغور کے عمائدین نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ چترال کے انتہائی حساس ماحولیاتی نظام کو بچانے کے لیے علاقے میں بکریوں کی چرائی پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ چراہ گاہوں میں بکریوں کی بے دریغ چرائی وسیع پیمانے پر تباہ کن سیلابوں کا سبب بن رہی ہے، جس سے پورے چترال بالخصوص جغور گاؤں میں تباہی مچ گئی۔منگل کے روز چترال پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جغور گاؤں کے سرکردہ عمائدین، جن میں حاجی عبد العزیز، بختیار لال، سرور کمال، فضل الرحمٰن، شجاع الرحمٰن اور دیگر شامل تھے، نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔تباہی کے مناظر اور سیلاب کی وجوہات بیان کرتے ہوئے عمائدین کا کہنا تھا کہ رواں سال جغور گاؤں کو تین بار شدید ترین ناگہانی سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں 50 سے زائد مکانات سیلابی ریلوں میں بہہ گئے اور سینکڑوں ایکڑ قابل کاشت زمین بنجر ہو کر رہ گئی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس ہولناک تباہی کی بنیادی وجہ جغور کے پہاڑی نالوں اور چراہ گاہوں میں موجود 16 ہزار سے زائد بکریاں ہیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دروش، گولین اور دیگر قریبی علاقوں سے گوجر برادری کے لوگ جغور چراہ گاہوں کی وسعت اور چارے کی کثرت کی وجہ سے گرمیوں کے موسم میں جغور گول کا رخ کرتے ہیں۔ بکریوں کے ریوڑ پہاڑی مٹی اور پودوں کی جڑوں کو کمزور کر دیتے ہیں، جس سے یہ خوبصورت اور تاریخی گاؤں سیلاب کے شدید خطرے کی زد میں آ چکا ہے۔ عمائدین نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے چراہ گاہوں میں بکریوں کی چرائی پر پابندی کے فیصلے کو سراہا، تاہم انہوں نے شکوہ کیا کہ گوجر برادری کے لوگ ان احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں اور انتظامیہ کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا گیا ہے۔انسانی سرگرمیاں اور ماحولیاتی خطرات کے بارے میں جغور کے اکابرین نے ماحولیاتی صورتحال کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا سیلاب کے لحاظ سے سب سے زیادہ حساس ہے، خیبر پختونخوا میں چترال سب سے زیادہ خطرے کی زد میں ہے، اور چترال میں جغور گاؤں کی حالت سب سے زیادہ نازک ہے جس کے مکین گرمیوں کے پورے سیزن میں سیلاب کے خوف اور شدید ذہنی دباؤ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیلاب کی یہ وجوہات قدرتی سے زیادہ ‘انسان زاد’ یعنی Anthropogenic ہیں کیونکہ حد سے زیادہ چرائی زمین کو بنجر بنا رہی ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ جغور کے مقامی باشندوں نے ماحولیاتی تحفظ کی خاطر چار دہائیوں قبل ہی بکریاں پالنا اور چرانا چھوڑ دیا تھا، لیکن باہر سے آنے والے افراد نے مقامی برادری کی خود ساختہ پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس سلسلے کو دوبارہ شروع کر دیا ہے۔عمائدین نے حکومت اور مقامی انتظامیہ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ضلعی انتظامیہ کے پابندی کے فیصلے پر ایک ہفتے کے اندر اندر مکمل اور سختی سے عمل درآمد نہ کروایا گیا، تو جغور کے غیور عوام احتجاجاً چترال پشاور مین روڈ کو جغور گول کے مقام پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button