جہانِ خیال…..مسجد کی پہلی صف، معاملات کی آخری سطر…تحریر: عتیق الرحمن

کبھی ایک معمولی سا واقعہ انسان کو ایسی حقیقت دکھا دیتا ہے جسے وہ برسوں سے دیکھ رہا ہوتا ہے، مگر اس کی گہرائی کا اندازہ نہیں کر پاتا۔ میرے لیے بھی ایک ایسا ہی واقعہ ہمارے معاشرے کے مالی رویوں اور ترجیحات پر غور کرنے کا سبب بنا۔
میں نے تقریباً 24 سال ایک تعلیمی ادارہ چلایا ہے۔ اس دوران ہزاروں بچوں اور ان کے والدین سے واسطہ پڑا، ان کے حالات دیکھے، ان کے مسائل سنے اور ادارے کے مالی معاملات کو بھی قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔ اس طویل تجربے میں ایک بات بار بار سامنے آئی کہ ہمارے معاشرے میں مالی معاملات کے حوالے سے غیر معمولی لاپروائی پائی جاتی ہے۔ بعض اوقات مسئلہ وسائل کی کمی نہیں ہوتا، بلکہ ذمہ داری کا احساس کمزور پڑ جاتا ہے۔
ایک دن ایک خاتون اپنے بیٹے کو اسکول میں داخل کرانے کے لیے آئیں۔ سلام دعا ہوئی اور معمول کی گفتگو جاری تھی کہ اچانک انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا، "سر! آپ نے مجھے پہچانا؟”
میں نے غور سے دیکھا، لیکن یاد نہ آیا۔ میں نے کہا، "نہیں بیٹی، معذرت کے ساتھ پہچان نہیں سکا۔”
وہ بولیں، "سر! میں دس سال آپ کی شاگرد رہی ہوں۔”
یہ سن کر ماضی کی ایک پوری دنیا جیسے اچانک سامنے آ گئی۔ وہی بچی جو کبھی کتابیں اور بستہ لے کر اسکول آتی تھی، تعلیم مکمل کرکے رخصت ہوئی، پھر اس کی شادی ہوئی اور اب وہ اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر اسی ادارے کے دروازے پر کھڑی تھی۔
گفتگو کے دوران میری نظر پرانے ریکارڈ پر پڑی۔ ادارے کے ڈیفالٹر بچوں کے رجسٹر کو دیکھتے ہوئے اچانک اس خاتون کا نام نظر آیا۔ میں نے ریکارڈ دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس کے والد نے پانچویں جماعت کے بعد اس کی فیس ادا نہیں کی تھی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اس کا خاندان مالی لحاظ سے صاحبِ ثروت تھا۔ فیس ادا کرنا ان کے لیے کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا جس کے باعث بچے کی تعلیم متاثر ہوتی، لیکن مالی ذمہ داری میں لاپروائی نے اس بچی کے تعلیمی سفر پر ایک سوالیہ نشان ضرور چھوڑ دیا تھا۔
میں کچھ دیر اس واقعے کے بارے میں سوچتا رہا۔
پھر جب اسی رجسٹر کے دوسرے صفحات دیکھے تو اندازہ ہوا کہ یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں۔ وہاں ایسے بے شمار نام موجود تھے۔ کئی بچے ایسے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے جو مالی مشکلات کا شکار نہیں تھے، مگر فیس کی ادائیگی میں مسلسل غفلت برتی گئی۔ کسی نے چند ماہ کی فیس روک رکھی تھی، کسی نے سال بھر کی، کسی نے وعدہ کیا مگر وعدہ پورا نہ کیا۔
تب مجھے احساس ہوا کہ مسئلہ صرف اسکول کی فیس کا نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی مزاج کا ہے۔
ہم عبادات کے معاملے میں غیر معمولی حساس ہیں۔ مسجد میں پہلی صف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حج اور عمرے کے لیے سالوں منصوبہ بندی کرتے ہیں، رمضان میں عبادت اور صدقات کا اہتمام کرتے ہیں، لیکن جب بات مالی معاملات کی آتی ہے تو ہماری ترجیحات بدل جاتی ہیں۔
ہم کسی کے قرض کی واپسی کو مؤخر کرنے میں زیادہ سوچتے نہیں۔ کسی ملازم کی تنخواہ چند دن رک جائے تو اسے معمول سمجھ لیتے ہیں۔ مزدور کی اجرت میں تاخیر ہو جائے تو اسے کاروباری مجبوری کا نام دے دیتے ہیں۔ کسی کاروباری شریک کے حساب میں ابہام ہو تو کہتے ہیں، "اپنے آدمی ہیں، حساب کی کیا ضرورت ہے؟” اور اگر کسی ادارے سے پوچھا جائے کہ رقم کہاں خرچ ہوئی تو سوال کرنے والے کو ہی بداعتمادی کا طعنہ دے دیا جاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر اپنے رویوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
اسلام نے عبادات کے ساتھ معاملات کو بھی غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ البقرہ کی آیت 282 میں قرض اور مالی لین دین کو لکھنے، گواہی رکھنے اور چھوٹے بڑے معاملے کو واضح طور پر محفوظ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ قرآن اس عمل کو انصاف کے زیادہ قریب اور باہمی شک و شبہ سے بچنے کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ قرآن نے مالی معاملے کو بھی اتنی سنجیدگی سے لیا کہ اس کے لیے تفصیلی رہنمائی نازل ہوئی، مگر ہم میں سے بہت سے لوگ مالی ذمہ داریوں کو دین کا بنیادی حصہ سمجھنے کے بجائے ایک ثانوی معاملہ تصور کرتے ہیں۔
شاید یہی ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔
ہم نے دین کو مسجد تک محدود کر دیا ہے، حالانکہ دین بازار میں بھی ہے، دفتر میں بھی، کاروبار میں بھی، اسکول کی فیس میں بھی، ملازم کی تنخواہ میں بھی اور قرض کی واپسی میں بھی۔
ایک شخص پانچ وقت نماز پڑھتا ہے، یہ بہت اچھی بات ہے؛ لیکن اگر وہ کسی کا قرض واپس نہیں کرتا تو اسے اپنے کردار کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ کوئی حج کرکے آتا ہے، یہ سعادت ہے؛ مگر اگر اس کے ذمے کسی انسان کا حق باقی ہے تو اسے اس حق کی ادائیگی کی فکر بھی ہونی چاہیے۔ کوئی مسجد میں پہلی صف میں کھڑا ہوتا ہے، مگر اگر وہ اپنے ملازم، مزدور یا کاروباری شریک کے حق میں انصاف نہیں کرتا تو اس کی دینداری ابھی ایک اہم امتحان سے گزرنا باقی ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم عبادت کیوں کرتے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہماری عبادت ہمارے معاملات میں کیوں نظر نہیں آتی؟
مالی دیانت دراصل معاشرے میں اعتماد کی بنیاد ہے۔ کاروبار اعتماد سے چلتا ہے، ادارے اعتماد سے قائم رہتے ہیں، خاندان اعتماد سے جڑے رہتے ہیں اور معاشرے اعتماد سے مضبوط ہوتے ہیں۔ جب مالی معاملات میں شفافیت ختم ہوتی ہے تو صرف رقم کا نقصان نہیں ہوتا، لوگوں کے درمیان اعتماد بھی کمزور ہو جاتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تحریری معاہدہ بداعتمادی نہیں بلکہ اعتماد کی حفاظت ہے۔ رسید لینا شک نہیں بلکہ حق کا تحفظ ہے۔ حساب رکھنا کسی پر الزام نہیں بلکہ امانت داری ہے۔ آڈٹ کرانا دشمنی نہیں بلکہ شفافیت ہے۔
اور اگر کوئی شخص واقعی مالی مشکلات کا شکار ہے تو اسے بھی عزت کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ مہلت مانگی جا سکتی ہے، قسط کی درخواست کی جا سکتی ہے، اپنی استطاعت کے مطابق وعدہ کیا جا سکتا ہے۔ معاشی کمزوری جرم نہیں، لیکن صاحبِ استطاعت ہوتے ہوئے مالی ذمہ داری سے مسلسل فرار ایک سنجیدہ اخلاقی مسئلہ ضرور ہے۔
تعلیمی اداروں کے پرانے رجسٹر اس معاشرے کی خاموش تاریخ ہوتے ہیں۔ ان میں صرف بقایا فیس کے اعداد نہیں ہوتے، ان کے پیچھے بچوں کے خواب، والدین کے فیصلے اور بعض اوقات ہماری اجتماعی ترجیحات کی پوری داستان چھپی ہوتی ہے۔
وہ خاتون آج اپنے بیٹے کو لے کر اسی اسکول میں آئی تھی جہاں کبھی وہ خود طالبہ تھی۔ شاید اس کے والد کے لیے اس وقت چند ماہ کی فیس معمولی رقم تھی، لیکن اس واقعے نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ہم جن چیزوں کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کرتے ہیں، کہیں وہ کسی بچے کے مستقبل کے لیے غیر معمولی اہمیت تو نہیں رکھتیں؟
ہمیں اپنے بچوں کو صرف پڑھنا لکھنا نہیں سکھانا، انہیں معاملات کی دیانت بھی سکھانی ہے۔ انہیں بتانا ہے کہ کسی کا حق روکنا کامیابی نہیں، قرض واپس کرنا احسان نہیں، ملازم کو وقت پر تنخواہ دینا اس کا حق ہے، مزدور کو بروقت اجرت دینا ذمہ داری ہے اور ادارے کے ایک ایک روپے کا درست حساب رکھنا امانت ہے۔
ہمیں مسجد کی پہلی صف کے ساتھ معاملات کی صف میں بھی پہلی صف کا مسلمان بننا ہوگا۔
عبادت ہمیں اللہ کے قریب کرتی ہے، لیکن حسنِ معاملات اس تعلق کا عملی اظہار ہے۔ انسان کی دینداری صرف اس کی پیشانی کے نشان یا مسجد میں اس کی جگہ سے نہیں پہچانی جانی چاہیے؛ اس کے کردار، دیانت، وعدے اور مالی معاملات سے بھی پہچانی جانی چاہیے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں مالی ذمہ داری کو ایک اخلاقی قدر بنائیں۔ والدین اپنے بچوں کی تعلیم کو ترجیح دیں، کاروباری لوگ شفاف حساب رکھیں، ادارے مالی معاملات میں جواب دہ ہوں، ملازمین اور مزدوروں کے حقوق بروقت ادا کیے جائیں اور ہر شخص اپنے ذمے واجب حق کو محض اس لیے مؤخر نہ کرے کہ دوسرا شخص خاموش ہے۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ ہم نے کتنی عبادت کی؛ سوال یہ بھی ہے کہ ہم نے کتنے حقوق ادا کیے۔
مسجد کی پہلی صف میں کھڑا ہونا یقیناً سعادت ہے، مگر معاملات کی صف میں دیانت کے ساتھ کھڑا ہونا بھی دین کا تقاضا ہے۔
اگر ہم عبادت میں آگے اور معاملات میں پیچھے رہیں گے تو ہمارے معاشرے میں وہ خوب صورتی پیدا نہیں ہو سکے گی جس کا خواب دین نے دکھایا ہے۔
ہمیں وقت آ گیا ہے کہ مسجد کی پہلی صف کے ساتھ زندگی کے معاملات میں بھی آگے بڑھیں، کیونکہ اللہ کے سامنے جھکنے والا وہی انسان مکمل معنی میں کامیاب ہے جو اللہ کے بندوں کے حقوق کے معاملے میں بھی سیدھا کھڑا رہے



