مضامین

کیا ہم خوشی سے ملازمت پر جاتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔کاوشاتِ اقبال سے ایک ورق

ہم اپنے وقت کا بڑا حصہ روزی کمانے کے لیے کام یا ملازمت کرتے ہوئے گزارتے ہیں۔ آج ہمیں ماضی کے لوگوں کے مقابلے میں کام کو وقت دینا پڑتا ہے۔ کام کے بارے میں ہمارا تصور وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا رہا ہے۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ انسان روزی کمانے کے لیے کام بھی کر رہا ہو اور وہ آزاد، مطمئن اور خوش بھی ہو۔ یہ دو باتیں آج ناممکن ہیں۔ آج اس تصور کو بھی فروغ مل رہا ہے کہ کام کو ایک بامعنی سرگرمی بنانا ممکن ہے۔ یہ ہماری زندگی میں خوشی، اطمینان اور مقصدیت لا سکتا ہے، لیکن ہم سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو صبح پر کام پر جاتے ہوئے بے دلی، بوریت اور تناؤ سے دور ہوں اور دنیا کو اپنے اور دوسرے لوگوں کے لیے بہتر جگہ بنانے کے لیے عزم سے سرشار ہوں؟ کام اگر ہمارے لیے ایک خوشگوار سرگرمی ہو تو ہماری پوری زندگی پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں، بلکہ کہا جاتا ہے کہ وہ شخص بڑا خوش نصیب ہے جس سے اپنی پسند کا کام مل گیا ہو۔

 

اداروں میں ملازمت کے بارے میں کیا تصور ہوتا ہے، کام کا اچھا ماحول بنانے میں اس تصور کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ اس طرح ملازمین کام کو بامقصد بنانے کے لیے دل و جان بھی قربان کرتے ہیں، کیونکہ ایک ادارے کا دوستانہ ماحول ادارے کے ہر قسم کے مشکل کام کو پُرلطف بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

کام کرنے کی اچھی جگہ پر اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ ملازمین کی حوصلہ ہوتی رہے۔ انہیں اپنے خیالات سامنے لانے اور تخلیقی سوچ کے اظہار کا موقع دیا جاتا ہے۔ وہاں ملازمین کو نئی چیزیں سیکھنے کو ملتی رہتی ہیں اور وہ اداروں کے لیے اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ دنیا کے بہترین ادارے اپنے ملازمین کا خیال رکھنے میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔ بہت سے ادارے ایسے بھی ہوتے ہیں جو تعداد کو بڑھانے میں تو زور دیتے ہیں، لیکن کام کو ایک پُرلطف سرگرمی بنانا ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتا۔ دنیا کے پائیدار ترین اداروں پر نظر دوڑائی جائے تو ان کی معیار اور پائیداری کی ایک بڑی وجہ یہ ہے جو اپنے ملازمین کو پُرلطف بنانے اور ان میں قوم کی خدمت جیسی مقصدیت پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور اپنے ملازمین کو آگے بڑھنے کا مواقع اور امکانات پیدا کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ادارے اپنے ملازمین کو سماجی خدمت کے مواقع فراہم کرتی رہتی ہیں اور اس کے لیے سال میں ہر ملازم کو تنخواہ کے ساتھ دو دن ملتے ہیں کہ وہ کسی رفاہی سرگرمی میں حصہ لے سکے۔

ترقی پذیر ممالک کے اداروں کے پاس اگرچہ وسائل محدود ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ملازمت کے بارے میں اچھا ویژن پیدا کیا جا سکتا ہے۔ اس سے کام ایک ایسی سرگرمی بن جاتا ہے جس سے مقصدیت بھی حاصل ہو اور سماجی بھلائی کی سوچ کو بھی فروغ ملے۔

اگر ملازمین کو اچھا معاوضہ اور سہولتیں مل بھی جائیں تو یہ ضروری نہیں ہوتا کہ کام ان کے لیے پُرلطف سرگرمی ہوگا۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ وہ ملازمت کے بارے میں ایک اچھا ذہنی رویہ بھی اپنائیں۔ انہیں ملازمت کے لیے ایک بڑا ویژن سامنے رکھنا ہوگا تاکہ اس میں ایک مقصدیت پیدا ہو۔ ان کو یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ اپنے ادارے میں موجود افراد کے لیے اپنے کام کے ذریعے کتنا مفید بن رہے ہیں یا ان کی وجہ سے معاشرے کی اجتماعی تصویر میں کیا بہتری آ رہی ہے۔

بہت سے ملازم کام کو اپنے لیے بوجھ سمجھتے ہیں۔ اگر ان کے اختیار میں ہو تو ایک دن کے لیے بھی ملازمت پر نہ جائیں۔ درحقیقت زندگی میں مقاصد جتنے اعلیٰ ہوں، اس میں پریشانی اور تناؤ اس حد تک کم ہو جاتے ہیں۔

جب ملازمت میں بوریت اور تناؤ ہو تو بہت کچھ بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کام اور ملازمت کا واحد مفہوم اگر تنخواہ حاصل کرنا ہو تو یہ ایک ناپسندیدہ چیز بن کر رہ جاتا ہے۔ خود کو اتنا حقیر مت سمجھیں کہ آپ کے نزدیک ایک دن کام کا مطلب ایک دن کی تنخواہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ خود کو بے حیثیت سمجھ کر اتنا سستا فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ اپنی زندگی کا ایک پورا دن، جو کبھی واپس نہیں آئے گا، اتنی تھوڑی رقم کے لیے گروی رکھ دیں گے؟ جس لمحہ آپ اپنے وقت کو محض رقم کے لیے فروخت کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں تو آپ وہ آرٹسٹ نہیں جو آپ بن سکتے ہیں۔

ملازم سب برابر ہیں۔ ان کو برابری کے حقوق حاصل ہیں۔ ملازم چھوٹا ہو یا بڑا کا تصور سب اپنی جگہ درست، لیکن سب کو اپنا اپنا کام نبھانا ہے۔ کام میں نبھاؤ اس وقت ممکن ہوگا جب ٹیم ورک ہو اور ادارے کو ایک خاندان سمجھیں۔ اس کی حفاظت اور ترقی کے لیے شوق اور اخلاص کا دامن تھامے رکھیں تو اس سے بہاریں اُٹھیں گے اور خزاں رخ بدل جائے گا۔

ایک اچھا ملازم ادارے کا سرمایہ اور اُمید کی نشانی ہے۔ اس کی محنت، دیانت داری اور فرض شناسی ملازمت کی جگہ کو جنت بناتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button