دادبیداد…….نظم و نسق کی کامیابی……ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

یہیں سے خرابی پیدا ہوئی اس کی جڑیں پھیل گئیں اورناسور بن گئیں، سکول یا واٹر ٹینک کے لیے گاوٴں کا بے چارہ آدمی بلا معاوضہ اپنی زمین دے دیتا ہے متعلقہ محکمہ اسکیم مکمل ہونے کے بعد پی سی فور کی رو سے اس کو درجہ چہارم کی ایک ملازمت دے دیتی ہے یہ کام پہلے گاوٴں کی سطح پر ہوتا تھا متعلقہ افسر کو اختیارات حاصل تھے اب یہ اختیارات متعلقہ افسر کے پاس نہیں ہیں اس وجہ سے بیچارہ آدمی صوبائی دارالحکومت کے بار بار چکر لگاتاہے، سول سیکرٹریٹ کی راہداریوں میں اس طرح کے معمولی مسائل لے کر ہزاروں درخواستی ہر روز خوار و زار پھرتے ہیں اس طرح کے سیکنڑوں کام ایسے ہیں جو نصف صدی پہلے گاوٴں کی سطح پر حل ہوتے تھے اب ان کے لیے دارالحکومتوں کی خاک چھاننے کی ضرورت پڑتی ہے اور سروس ڈیلیوری کا ستیا ناس ہوتا ہوا نظر آتا ہے سرکاری فائلوں میں اختیارات کا ارتکاز اور اختیارات کی منتقلی کے دو اصول پائے جاتے ہیں ارتکاز یہ ہے کہ تمام اختیارات دارالحکومت کی سطح پر مرتکز یا منجمد ہوں، منتقلی کا مطلب یہ ہے کہ فیلڈ میں کام کرنے والے حکام کے ہاتھوں میں اختیارات دے دیئے جائیں میری عمر کے جن شہریوں نے 1960 کے عشرے کےادفتری نظام دیکھا ہے وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ گاوٴں اور محلے کے تمام مسائل نائب تحصیلدار حل کرتا تھا اگر کسی مسئلے میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے منظوری لینے کی ضرورت ہوتی تو تحصیلدار کے پاس مجسٹریٹ درج اول کے اختیارات ہوتے تھے گاوٴں کے عام آدمی کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر جانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی تھی صوبائی دارالحکومت جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا قدرتی آفات کی صورت میں ہنگامی منصوبہ (Contingency Plan) کے تحت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے مقامی مجسٹریٹ درجہ اول متاثرہ آبادی کی مدد کرتا تھا اور بحالی کے تمام اقدامات کے ساتھ متاثرہ آبادی کی مدد کرتا تھا اس کے پاس اختیارات بھی ہوتے تھے وسائل بھی ہوتے تھے وہ بالائی حکام کو جوابدہ تھا، آڈٹ اور محتسب کو جوابدہ تھا اس زمانے میں متاثرہ عوام کو دفتری بھول بھلیوں میں نہیں الجھایا جاتا تھا ہر کام گھر کی دہلیز پر انجام پاتا تھا نصف صدی گزرنے کے بعد نظم و نسق میں بے شمار خرابیاں جگہ پا گئی ہیں کچھ اختیارات مقامی حکام سے لے کر قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی کے اراکین اور سینیٹ کے ممبروں کو دی گئی ہیں وہ سب بڑے شہروں کی بلند و بالا کوٹھیوں میں رہتے ہیں کچھ اختیارات صوبائی سطح کے افسروں کو دیدیئے گئے ہیں وہ اپنے دفترات تک محدود ہیں اس لیے مقامی سطح پر عوام کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا اس کے لیے ہڑتال کرنا پڑتا ہے، روڈ بلاک کرنا پڑتا ہے انفرادی مسئلہ ہو تو بیچارے لوگ خودکشی کی دھمکی دیتے ہیں اور اپنے اوپر بھرے بازار میں تیل چھڑک کر خودکشی کی کوشش بھی کرتے ہیں یہ دفتروں سے باہر نظر آنے والے احوال ہیں دفتر کے اندر جھانکیں تو فائل کاغذ پر ہو یا کمپیوٹر کے اندر ہو دونوں صورتوں میں دفتری نظام کے تحت 1960 کے عشرے کی طرح سرخ فیتے میں ایک افسر کی میز سے دوسرے افسر کی میز تک نہیں جاتی عرض گزار یا متاثرہ فریق کو خود جا کر منت سماجت، سفارش یا چائے پانی لگا کر اپنی فائل ایک میز سے دوسری میز تک پہنچانا پڑتا ہے مثالیں بہت ہیں مگر کالم کا دامن تنگ ہے روئیداد خان کی کتاب "اے ڈریم گان ساور” اور ڈاکٹر عشرت حسین کی کتاب "گورننگ دی ان گورنیبل” میں حقائق موجود ہیں، نظم و نسق کی بہتری اور سروس ڈیلیوری کی کامیابی کے لیے 1960 کے دور کا دفتری نظام واپس لانے کی ضرورت ہے دوسری کوئی صورت نہیں۔



