تازہ ترین

چترال: ایس آر ایس پی کے زیر اہتمام ‘ایمپاورنگ ویمن کلائمیٹ چینج ریزیلنس پراجیکٹ’ کی اختتامی تقریب، خواتین کو بااختیار بنانے کا عزم

​چترال /چترال میں عوامی بہبود اور علاقائی ترقی کے لیے متحرک ادارے سرحد رورل سپورٹ پروگرام (SRSP) کے زیر اہتمام موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ علاقوں کی خواتین کو کاروباری تربیت فراہم کرنے اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے حکومتِ آسٹریلیا (ڈیپارٹمنٹ فارن افیئرز اینڈ ٹریڈ) کے تعاون سے شروع کیے گئے “ایمپاورنگ ویمن کلائمیٹ چینج ریزیلنس پراجیکٹ” کی اختتامی تقریب ایک مقامی ہوٹل میں وقار کے ساتھ منعقد ہوئی۔​تقریب کے مہمانِ خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فنانس) شاہ عدنان تھے۔ تقریب میں ایس آر ایس پی ہیڈ آفس سے سلیمہ بی بی، ریجنل پروگرام منیجر طارق احمد، ڈائریکٹر ایگریکلچر ریسرچ اسٹیشن ڈاکٹر نصیر، چترال چیمبر آف کامرس کے نمائندگان اور مسلم و کالاش کمیونٹی کی خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔​تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریجنل پروگرام منیجر طارق احمد نے کہا کہ ایس آر ایس پی پی پی اے ایف، یورپی یونین اور جرمن حکومت کے تعاون سے سکل ڈیولپمنٹ، زراعت اور مائیکرو ہائیڈل کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ 2012 کے بعد سے ‘پیس پراجیکٹ’ کے تحت ایم ایچ پیز، نیچرل ریسورس مینجمنٹ، آبپاشی سکیموں کی بحالی اور بزنس گرانٹس کی فراہمی سے کمیونٹی کو بے پناہ فائدے پہنچے ہیں اور یہ سفر آگے بھی جاری رہے گا

 

​فیلڈ آفیسر نے پراجیکٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سیلاب اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ علاقوں کی 100 خواتین (70 فیصد کالاش اور 30 فیصد مسلم کھو کمیونٹی) کو بزنس ڈیولپمنٹ (ہوم گیسٹ ہاؤسز)، کیچن گارڈننگ، فوڈ پروسیسنگ، ہینڈی کرافٹس اور ڈریس ڈیزائننگ کی تربیت دی گئی۔ آج یہ خواتین اپنی مصنوعات مارکیٹ میں فروخت کر کے باوقار روزگار کما رہی ہیں۔​ڈائریکٹر ایگریکلچر ریسرچ اسٹیشن ڈاکٹر نصیر نے بتایا کہ خواتین کو جدید زرعی طریقوں کے ساتھ ساتھ فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کی شناخت اور ان سے تحفظ سے متعلق آگاہی دی گئی۔ اس موقع پر ایس آر ایس پی کی سلیمہ بی بی نے اعلان کیا کہ ٹی ایم اے کے ساتھ مل کر خواتین کے بزنس کو مزید آگے بڑھانے کے لیے ایک نیا پراجیکٹ بھی جلد شروع کیا جا رہا ہے۔​کالاش کمیونٹی کی نمائندہ شاہی گل نے ایس آر ایس پی اور اس کے سی ای او شہزادہ مسعود الملک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہوم گیسٹ ہاؤسز کی تربیت سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملا ہے بلکہ ان کی آمدنی میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔​مہمانِ خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہ عدنان نے ایس آر ایس پی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اسے روزگار اور مقامی کلچر دونوں کی ترویج کے لیے اہم قدم قرار دیا۔ تقریب کے اختتام پر مہمانوں نے خواتین کی تیار کردہ مصنوعات (ہینڈ کرافٹس، فوڈ آئٹمز، سبزیوں اور آرٹ کے فن پاروں) کے اسٹالز کا معائنہ کیا اور ان کے کام کی تعریف کی۔

 

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button