احتجاجی سیاست کا تاوان: مسلسل سیاسی کشمکش کس طرح خیبر پختونخوا کو تباہ کر رہی ہے تحریر: بشیر حسین آزاد

ایک دہائی سے زائد عرصے سے خیبر پختونخوا کے عوام نے اپنے صوبے کی حکمرانی کا اعتماد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر ظاہر کیا ہے۔ یہ اعتماد محض انتخابی کامیابی نہیں بلکہ عوام کی جانب سے ایک سیاسی جماعت کو صوبے کے مسائل حل کرنے، اداروں کو مضبوط بنانے، امن و امان بہتر کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معاشی ترقی کی راہ ہموار کرنے کا مینڈیٹ بھی ہے۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران صوبائی سیاست کا بڑا حصہ احتجاج، دھرنوں، لانگ مارچوں، سیاسی کشمکش اور وفاقی حکومت کے ساتھ محاذ آرائی میں صرف ہوتا رہا ہے۔ عمران خان کی قانونی و سیاسی صورتحال سے متعلق مطالبات اپنی جگہ ایک سیاسی حقیقت ہیں اور احتجاج ہر شہری و سیاسی جماعت کا آئینی و جمہوری حق ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک صوبائی حکومت کو مسلسل احتجاجی سیاست کا حصہ بنا دینا صوبے کے چار کروڑ سے زائد عوام کے مفاد میں ہے؟
آج خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ صوبائی حکومت کو جن مسائل کے حل کے لیے عوام نے منتخب کیا، ان کے مقابلے میں سیاسی محاذ آرائی کو زیادہ وقت اور توانائی مل رہی ہے۔ اس صورت حال کا سب سے بڑا تاوان عام شہری، مزدور، تاجر، ٹرانسپورٹر، صنعت کار اور چھوٹا کاروباری طبقہ ادا کر رہا ہے۔
حکمرانی کا خلا اور انتظامی مفلوجی
حکومت چلانا صرف اسمبلی میں قانون سازی یا بجٹ پیش کرنے کا نام نہیں۔ حکمرانی ایک مسلسل عمل ہے جس میں وزیر اعلیٰ، وزراء، سیکرٹریز، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ کو روزانہ کی بنیاد پر عوامی مسائل، ترقیاتی منصوبوں، امن و امان اور معاشی سرگرمیوں کی نگرانی کرنا ہوتی ہے۔
جب صوبائی قیادت مسلسل سیاسی سرگرمیوں، جلسوں، احتجاجی قافلوں اور وفاقی دارالحکومت کی طرف مارچ میں مصروف ہو جائے تو انتظامی ترجیحات متاثر ہونا ناگزیر ہے۔
ایک صوبہ اس وقت ترقی کرتا ہے جب اس کے حکمران سیکرٹریٹ میں بیٹھ کر پالیسی بنائیں، اضلاع کا دورہ کریں، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کریں، سرمایہ کاروں سے ملاقات کریں اور عوامی شکایات کا ازالہ کریں۔ اگر حکومتی توانائی کا بڑا حصہ سیاسی محاذ آرائی میں صرف ہو تو پھر فائلوں، منصوبوں اور عوامی خدمات کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔
یہ مسئلہ صرف حکومت کی کارکردگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے انتظامی ڈھانچے پر اثر انداز ہوتا ہے۔
سب سے بڑا نقصان کاروباری طبقے کا
مسلسل سیاسی احتجاج اور سڑکوں کی بندش کا فوری اور براہِ راست اثر کاروبار پر پڑتا ہے۔ دکاندار کی دکان بند ہو تو اس دن کی آمدنی ختم ہو جاتی ہے، لیکن نقصان صرف ایک دن کی فروخت تک محدود نہیں رہتا۔ ایک دن کی بندش پوری سپلائی چین کو متاثر کرتی ہے۔
پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ، صوابی، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، کوہاٹ اور دیگر اضلاع کے کاروباری مراکز ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ مال ایک شہر سے دوسرے شہر جاتا ہے، ٹرانسپورٹر سامان پہنچاتے ہیں، تاجر آرڈر دیتے ہیں، مزدور لوڈنگ اور ان لوڈنگ کرتے ہیں، ہول سیل مارکیٹیں ریٹ طے کرتی ہیں اور ریٹیل دکاندار صارف تک اشیاء پہنچاتے ہیں۔
جب سڑکیں بند ہوتی ہیں یا احتجاج کے خدشے کے باعث ٹرانسپورٹ رک جاتی ہے تو اس پورے نظام کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔
ایک احتجاج، کئی شعبوں کا نقصان
فرض کریں کسی بڑے احتجاج کے باعث ایک اہم شاہراہ کئی گھنٹوں یا پورے دن کے لیے متاثر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں صرف سیاسی سرگرمی متاثر نہیں ہوتی بلکہ:
مال بردار گاڑیاں راستے میں پھنس جاتی ہیں۔
سبزی، پھل اور دیگر جلد خراب ہونے والی اشیاء کی ترسیل متاثر ہوتی ہے۔
صنعتی خام مال وقت پر کارخانوں تک نہیں پہنچتا۔
دکانداروں کو نئی سپلائی نہیں ملتی۔
مسافر گاڑیوں کے چکر کم ہو جاتے ہیں۔
ٹرانسپورٹر کو اضافی ایندھن اور وقت کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔
مزدور کی روزانہ اجرت متاثر ہوتی ہے۔
چھوٹے کاروبار کی روزانہ فروخت کم ہو جاتی ہے۔
ہول سیل مارکیٹوں میں لین دین رک جاتا ہے۔
بینک، دفاتر اور دیگر کاروباری خدمات بھی معمول کے مطابق کام نہیں کر پاتیں۔
یوں ایک سیاسی احتجاج کا معاشی دائرہ اس مقام سے کہیں زیادہ وسیع ہو جاتا ہے جہاں احتجاج کیا جا رہا ہوتا ہے۔
ٹرانسپورٹر بھی مسلسل دباؤ میں
خیبر پختونخوا کی معیشت میں ٹرانسپورٹ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ مال بردار گاڑی ایک شہر سے دوسرے شہر سامان پہنچاتی ہے تو اس کے ساتھ ڈرائیور، کنڈکٹر، ورکشاپ، پٹرول پمپ، ٹائر فروش، مکینک اور دیگر کئی شعبے بھی وابستہ ہوتے ہیں۔
جب راستے بار بار بند ہوں تو ٹرک اور دیگر گاڑیاں مقررہ وقت پر منزل تک نہیں پہنچ پاتیں۔ ڈرائیور اضافی وقت سڑک پر گزارتا ہے، ایندھن زیادہ خرچ ہوتا ہے، گاڑی کی مرمت کے اخراجات بڑھتے ہیں اور سامان کی ترسیل میں تاخیر ہوتی ہے۔
یہ اضافی لاگت بالآخر صارف سے وصول کی جاتی ہے۔ یعنی سیاسی کشمکش کا بل بالآخر عام آدمی کو ہی ادا کرنا پڑتا ہے۔
سپلائی چین متاثر، مہنگائی میں اضافہ
کاروبار کا بنیادی اصول ہے کہ سامان بروقت پہنچے۔ اگر ایک تاجر کو پشاور سے چترال، سوات، دیر، بنوں یا جنوبی اضلاع تک سامان پہنچانے میں بار بار رکاوٹ کا سامنا ہو تو وہ اپنی قیمتوں میں خطرے اور اضافی اخراجات کو شامل کرے گا۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ:
ٹرانسپورٹ کا خرچ بڑھتا ہے → سپلائی کی لاگت بڑھتی ہے → تاجر کی لاگت بڑھتی ہے → اشیاء کی قیمت بڑھتی ہے → صارف متاثر ہوتا ہے۔
اس لیے احتجاجی سیاست کا معاشی اثر صرف تاجروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ مہنگائی کی صورت میں عام شہری کے گھر تک پہنچتا ہے۔
چھوٹا کاروباری طبقہ سب سے زیادہ متاثر
بڑے کاروباری اداروں کے پاس کچھ عرصے کے نقصان کو برداشت کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، لیکن چھوٹا دکاندار، ریڑھی بان، ورکشاپ مالک، ہوٹل، ریسٹورنٹ، ٹرانسپورٹر اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والا شخص ایک دن کی آمدنی سے محروم ہو کر بھی شدید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔
ایک چھوٹا دکاندار روزانہ کی فروخت سے گھر کا خرچ، دکان کا کرایہ، بجلی کا بل، ملازمین کی اجرت اور قرض کی قسط ادا کرتا ہے۔ اگر کاروبار بار بار بند ہو تو اس کے لیے نقصان پورا کرنا آسان نہیں۔
اسی طرح ہوٹل، ریسٹورنٹ اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ کاروبار احتجاجی دنوں میں گاہکوں کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ سیاحت کے شعبے پر بھی اس کا منفی اثر پڑتا ہے کیونکہ بیرونی علاقوں سے آنے والے لوگ غیر یقینی صورت حال میں سفر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
سرمایہ کار عدم استحکام سے گھبراتا ہے
دنیا بھر میں سرمایہ کار کے لیے امن، سیاسی استحکام، بہتر انفراسٹرکچر اور پالیسی کا تسلسل بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
ایک ایسا صوبہ جہاں آئے روز احتجاج، سڑکوں کی بندش، سیاسی تصادم اور انتظامی غیر یقینی کی خبریں سامنے آئیں، وہاں سرمایہ کار اپنے سرمائے کو خطرے میں ڈالنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچتا ہے۔
سرمایہ کاری صرف بڑی فیکٹری لگانے کا نام نہیں۔ ایک نیا ہوٹل، گودام، کولڈ اسٹوریج، ٹرانسپورٹ کمپنی، صنعتی یونٹ یا چھوٹا کاروباری مرکز بھی سرمایہ کاری ہے۔
اگر کاروباری شخص کو یہ یقین نہ ہو کہ اس کا کاروبار معمول کے مطابق چل سکے گا تو وہ سرمایہ کاری کے بجائے اپنا سرمایہ محفوظ رکھنے کو ترجیح دے گا۔
چترال جیسے دور دراز اضلاع کے لیے نقصان زیادہ
خیبر پختونخوا کے دور دراز اضلاع، بالخصوص چترال، دیر، کوہستان، جنوبی اضلاع اور سابقہ فاٹا کے علاقوں کے لیے سڑکوں کی بندش کا نقصان نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔
ان علاقوں کا بڑا انحصار زمینی راستوں پر ہے۔ چترال میں اشیائے ضروریہ، تعمیراتی سامان، سبزیاں، پھل، ادویات اور دیگر متعدد اشیاء باہر سے پہنچتی ہیں۔ اگر دیر، لواری یا دیگر اہم راستوں پر غیر یقینی صورت حال پیدا ہو تو اس کے اثرات فوری طور پر مقامی مارکیٹ پر ظاہر ہوتے ہیں۔
ایک بڑے شہر میں متبادل راستہ دستیاب ہو سکتا ہے، لیکن پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں بعض اوقات ایک ہی شاہراہ پوری وادی یا ضلع کی معاشی شہ رگ ہوتی ہے۔
اس لیے سیاسی احتجاج کے دوران سڑکوں کی بندش کا مسئلہ صرف سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ان علاقوں کے معاشی وجود کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
سرکاری وسائل کا استعمال: عوامی خدمت یا سیاسی سرگرمی؟
ایک اور اہم سوال صوبائی وسائل کے استعمال کا ہے۔
پولیس، ریسکیو، سرکاری گاڑیاں، انتظامی اہلکار اور دیگر وسائل بنیادی طور پر عوام کی حفاظت، امن و امان اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ہوتے ہیں۔
اگر یہی وسائل بار بار سیاسی احتجاج کی سیکیورٹی، راستوں کی نگرانی اور قافلوں کی انتظام کاری میں استعمال ہوں تو ان کا اصل مقصد متاثر ہوتا ہے۔
خیبر پختونخوا پہلے ہی دہشت گردی، سیلاب، زلزلوں، برف باری اور دیگر قدرتی و انسانی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اضافی وسائل کا محتاج ہے۔ ایسے میں سرکاری مشینری کا بار بار سیاسی سرگرمیوں میں استعمال ایک سنجیدہ انتظامی سوال ہے۔
امن و امان پہلے ہی بڑا چیلنج
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور بدامنی کا مسئلہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکار اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔
ایسے صوبے میں حکومت کی اولین ترجیح امن و امان، پولیس کی استعداد، انٹیلی جنس نظام، سرحدی نگرانی اور شہریوں کے تحفظ کو ہونا چاہیے۔
اگر پولیس کی ایک بڑی نفری سیاسی احتجاج کے انتظام میں مصروف ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اتنی ہی نفری دوسرے اہم مقامات پر دستیاب نہیں۔
یہ صورت حال کسی بھی ذمہ دار حکومت کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔
ترقیاتی منصوبے اور عوامی ترجیحات
خیبر پختونخوا کے عوام کے سامنے آج بھی بنیادی سوالات موجود ہیں:
کیا ہر بچے کو معیاری تعلیم مل رہی ہے؟
کیا سرکاری ہسپتالوں میں مناسب سہولیات موجود ہیں؟
کیا نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں؟
کیا صنعتی زون واقعی فعال ہو رہے ہیں؟
کیا دیہی علاقوں میں سڑکیں، پل، آبپاشی اور پینے کے پانی کے منصوبے مکمل ہو رہے ہیں؟
کیا ضم شدہ اضلاع کو وعدے کے مطابق ترقی دی جا رہی ہے؟
کیا سیاحت کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب عوام حکومت سے چاہتے ہیں۔
لیکن جب سیاسی گفتگو کا مرکز مسلسل احتجاج، لانگ مارچ، دھرنے اور وفاق سے تصادم بن جائے تو ان بنیادی سوالات پر عوامی توجہ کم ہو جاتی ہے۔
احتجاج کا حق، مگر ذمہ داری بھی ضروری
یہاں ایک بنیادی اصول واضح ہونا چاہیے: احتجاج جمہوریت کا حصہ ہے اور کسی سیاسی جماعت کو پُرامن احتجاج سے روکا نہیں جا سکتا۔
لیکن احتجاج کے حق کے ساتھ عوام کے حقوق کا احترام بھی ضروری ہے۔
ایک سیاسی جماعت اگر احتجاج کرتی ہے تو اسے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس احتجاج سے ہسپتال جانے والے مریض، امتحان دینے والے طالب علم، روزگار کے لیے جانے والا مزدور، سامان لے جانے والا ٹرک ڈرائیور اور دکان کھولنے والا چھوٹا تاجر کس قدر متاثر ہوگا۔
جمہوریت کا مقصد عوام کو سہولت دینا ہے، ان کی زندگی مشکل بنانا نہیں۔
سیاست اور حکومت میں فرق کرنا ہوگا
سیاسی جماعت کا کام سیاسی جدوجہد کرنا ہے، جبکہ صوبائی حکومت کا بنیادی فرض صوبے کو چلانا ہے۔
اگر ایک ہی قیادت دونوں ذمہ داریوں کو اس طرح ملا دے کہ حکومتی مشینری بھی سیاسی احتجاج کا حصہ بن جائے تو مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی سیاسی ترجیحات اور حکومتی ذمہ داریوں کے درمیان واضح حد قائم کرے۔
وفاق سے اختلاف ہو تو مذاکرات کیے جائیں، آئینی راستے اختیار کیے جائیں، عدالتوں سے رجوع کیا جائے اور سیاسی پلیٹ فارم پر مؤثر جدوجہد کی جائے۔ لیکن صوبے کے عوام کو سیاسی کشمکش کا مستقل معاشی یرغمال نہیں بنایا جانا چاہیے۔
خیبر پختونخوا کو احتجاج نہیں، معاشی روڈ میپ چاہیے
اس وقت صوبے کو ایک جامع معاشی روڈ میپ کی ضرورت ہے۔
صنعتی زونز کو فعال کیا جائے، معدنی وسائل کو شفاف انداز میں ترقی دی جائے، سیاحت کو صنعت کا درجہ دے کر بنیادی ڈھانچہ بہتر کیا جائے، زرعی پیداوار کے لیے مارکیٹ تک رسائی بڑھائی جائے، نوجوانوں کے لیے ہنر اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں اور چھوٹے کاروبار کے لیے آسان قرض اور سہولتیں فراہم کی جائیں۔
اس کے ساتھ ساتھ سڑکوں، بجلی، پانی، انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔
یہ کام جلسوں اور دھرنوں سے نہیں بلکہ مسلسل حکومتی توجہ، پالیسی، بجٹ اور عملی اقدامات سے ممکن ہے۔
اب ترجیحات بدلنے کا وقت ہے
خیبر پختونخوا کے عوام نے حکومتوں کو احتجاج کرنے کے لیے نہیں بلکہ حکومت چلانے کے لیے منتخب کیا ہے۔
سیاسی جماعتیں اپنے قائدین، کارکنوں اور سیاسی مفادات کے لیے جدوجہد ضرور کریں، لیکن صوبائی حکومت کو صوبے کے عوام کے مفاد سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔
تاجر کو کاروبار چاہیے، مزدور کو روزگار چاہیے، طالب علم کو تعلیم چاہیے، مریض کو علاج چاہیے، کسان کو مارکیٹ چاہیے، نوجوان کو مستقبل چاہیے اور عام شہری کو امن چاہیے۔
یہ وہ حقیقی مطالبات ہیں جنہیں سیاسی نعروں سے دبایا نہیں جا سکتا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی قیادت سڑکوں سے سیکرٹریٹ کی طرف، تصادم سے مذاکرات کی طرف اور احتجاجی سیاست سے حکمرانی کی طرف واپس آئے۔
خیبر پختونخوا کو مزید سیاسی کشمکش نہیں بلکہ سیاسی استحکام، معاشی سرگرمی، امن، روزگار اور مؤثر حکمرانی کی ضرورت ہے۔
کیونکہ ایک دکاندار کی بند دکان، ایک ٹرک کا رکا ہوا پہیہ، ایک مزدور کی ضائع ہونے والی یومیہ اجرت، ایک صنعت کار کی رکی ہوئی سرمایہ کاری اور ایک سیاح کا منسوخ شدہ سفر—یہ سب مل کر صوبے کی معیشت پر ایک ایسا بوجھ ڈالتے ہیں جس کا حساب کسی ایک احتجاج کے اختتام کے ساتھ ختم نہیں ہوتا۔
سیاست چند دن کی ہو سکتی ہے، مگر اس کے معاشی اثرات برسوں تک باقی رہ سکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے عوام اب یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کے ووٹ کا اصل ثمر کیا ہے: مسلسل احتجاج یا ایک محفوظ، مستحکم اور خوشحال صوبہ؟



