داد بیداد……پامیر ہائی وے …….. ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

باش، واخچیر، چیلنچی، سوختہ رباط، بوزای گمبذ، سرحد واخان، قلعہ پنجہ، خندود، شکاشم اورفیض آباد، طالقان سے ہو کر جنوب میں کابل اور مغرب میں ہرات تک جاتی ہے۔ یہ شاہراہ شمال میں تاجکستان، دوشنبہ، ازبکستان، سمرقند ، بخارا، ترکمنستان، اشک آباد اور دیگر وسطِ ایشیائی ریاستوں کو تجارت اور سیاحت کے ذریعے ملاتی ہے۔ اور عوامی جمہوریہ چین کے بڑے پروگرام "ون بیلٹ ون روڈ” (OBOR) کے مقاصد کو پورا کرتی ہے، اکتوبر 2026ء میں جب شاہراہِ پامیر کے ابتدائی فیز یعنی کچی سڑک کو ملانے کی تقریب منعقد ہوئی تو چین اور افغانستان کے نمائندوں نے تقریب میں شرکت کی۔ البتہ چینی معیار کے مطابق کوئی دکھاوا نہیں ہوا، بڑے پیمانے پر جشن نہیں ہوا، یہ سادہ تقریب تھی۔ چینی رہنماؤں کا یہ وصف ہے کہ وہ اشتہار سے زیادہ کام اور پروپیگنڈے سے زیادہ مقاصد کے حصول پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ پامیر ہائی وے پاکستان اور خیبر پختونخوا کے لیے دہری اہمیت رکھتی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ چینی قیادت نے چائینا پاکستان اکنامک کوریڈور کا متبادل راستہ ڈھونڈ نکالا ہے مگر ایسی کوئی بات نہیں۔ دونوں اپنی جگہ الگ الگ منصوبے ہیں اور یہ خطے میں زیرِ گردش دیگر منصوبوں کی طرح آگے بڑھتے ہیں، جیسا کہ تاجکستان، افغانستان، پاکستان، انڈیا (TAPI) کے نام سے گیس پائپ لائن کا منصوبہ افغانستان تک کامیابی سے آیا ہے۔ اسی طرح انڈیا، مڈل ایسٹ، یورپ اکنامک کوریڈور (IMEC) پر تیزی سے عمل درآمد ہو رہا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے پامیر ہائی وے کی تجارتی اور سیاحتی اہمیت پر سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز،کراس بارڈر ٹریڈ کونسل اور چترال چیمبر آف کامرس کے اندر مباحثے اور مکالمے ہو رہے ہیں۔ واخان کوریڈور کو پشاور سے ملانے والا واحد راستہ لواری ٹنل سے ہو کر گزرتا ہے۔ چترال سے واخان کو جانے والے دو راستے ہیں۔ پہلا راستہ مغرب میں دوراہ شاہ سلیم کے راستے ہو کر خان آباد، زیباک، شکاشم اور گازخون تک جا کر پامیر ہائی وے سے ملتا ہے۔ دوسرا راستہ شمال مشرق میں بروغیل سرحد واخان میں پامیر ہائی وے کو کراس کرتا ہے۔ شاہ سلیم دوراہ کے راستے 1993ء سے 2001ء تک گاڑیوں کی ٹریفک ہوتی تھی۔ تجارتی سامان کا تبادلہ ہوتا تھا، سیاحت بھی ہوتی تھی چترال کے تاجر درواز اور شغنان کے بازاروں سے تھوک مال لایا کرتے تھے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سنہرا موقع ہے اس موقع سے فائدہ اٹھاکربڑی آسانی سے وسطی ایشیا کے مارکیٹوں تک رسائی کرسکتے ہیں۔





