77

آہ : شہزادہ فرہاد عزیز ……………….. حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

فیصلہ اٹل ہے اور یہ فیصلہ اس رب جلیل کی بارگاہ عالیہ کا ہے اس میں نہ کوئی تردد کر سکتا ہے نہ ہی لیت و لعل سے کام لیا جا سکتاہے اور نہ ہی کہیں بھاگ کر چھٹکارہ پایا جا سکتاہے ۔یہ صرف انسانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ کل نفس ذائقۃ الموت فرماکر اپنے تمام مخلوقات پر یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ دنیا فانی ہے اخر ایک دن یہاں سے کوچ کر جانا ہے ۔ہم لوگ اس کا ہر روز اپنے چشم نگاہ سے مشاہد ہ کرتے ہیں اس فیصلے کے سامنے کل جہاں بے بس ہے۔ اس نے بڑے بڑے مشاہیر کو بھی ابدی نیند سلا دی ہے جن کا ابھی تک صرف نام ہی ہم لیتے ہیں لیکن جاتے جاتے ولادت اور رحلت سرور کونینﷺ کا مہینہ ہو ،سچا عاشق رسول ساتھ ہو، اور وقت حالت سفر کاہو ،جاتے جاتے جانے کا علم ہو ،تو یقیناًزبان پر کلمہ طیبہ کے فلک شگاف نعرے بلند کرتے کرتے خالق حقیقی سے جاملنے کا کیا ہی بات ہے ، دنیا والے اس پر یقیناًرشک کرتے ہوں گے ۔جنت کے ساتوں دروازے ان کے لئے کھل گئے ہونگے ملائکہ پھولوں کے گلدستے لے کراستقبال کئے ہوں گے ۔کامیابی کی تمام نشانیاں جان کر خوشی بھی ہے لیکن اپنے دنیاوی تقاضوں اور دوستوں کی یادوں اور ان کے ساتھ بیتے ایام کویاد کرکے دل خون کا آنسو روتا ہے لیکن مجھے بہت افسوس سے یہ کہنا پڑا کہ شہزادہ فرہاد عزیز جو چترال کا ایک بڑا نام تھا ان کی حیات میں ان سے میری ملاقات روبرو نہ ہو سکی شاید میری یہ تمنا کبھی پوری نہ ہو۔
کیا خوب فرمایا ’’ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
جون 2016 کا ایک سہانا دن ڈھلنے کی طرف جا رہا تھا۔ پامیر ہوٹل چترال کے لان میں بیٹھے چند دوستوں کے ساتھ شاہاں چترال کا تذکرہ کر رہے تھے۔ سامنے شاہی قلعے کی مضبوط مگر پوسیدہ عمارت کا بھی نظارہ کرتے کرتے مجھے اچانک خیال آیا ’’کہ کیوں نہ چترال کے شاہی خاندان کا ایک عظیم انسان جو لوگوں کے چہروں پر خوشیاں بکھیر نے والا اور چترال کے جوانوں کو بلندیوں کی طرف پرواز سکھانے والا عزم و ہمت کا پیکر شہزادہ فرہاد عزیز سے رابطہ کروں۔ ان کے بلند وبالاسوچ سے استفادہ کروں ، ان کی باتوں کو اپنے پاس محفوظ کرلوں ، دوسروں کو بھی استفادہ کرانے میں ممدو معاون بن جاؤں اور ایک انٹر ویو کی صورت بھی بن جائے گی ۔ میں نے فون اٹھا کر رابطہ کیا ۔اس سے پہلے بھی میرا ن سے ٹیلی فونک رابطہ اکثر ہو تا تھا۔ اب بھی رابطہ ٹیلی فون پر ہی ہوا ،شہزادہ صاحب اب بھی غالبابونی سے تورکھو کے سفر پر جارہے تھے انہوں نے بھی بڑی خوشی کا اظہار کیا۔ انھوں نے مجھ سے کہا ایک ضروری کام کے سلسلے میں جار ہا ہوں ،اگر آپ فرمائیں تو میں واپس آجاؤں لیکن معذرت کرتے ہوئے میں نے کہا ’’نہیں شہزادہ صاحب : پھر کبھی ملاقات ہوگی بیٹھیں گے مجھے آپ سے بہت کچھ سیکھنا ہے ‘‘۔میں نے پانچ دن چترال شہر میں قیام کیا ۔اس دوران شہزادہ صاحب کا دو مرتبہ مجھے فون آیا، انھوں نے اپنے تورکھو کے قیام کے حوالے سے کافی باتیں کی ،لیکن افسوس صد افسوس …..روبروملاقات کا وہ موقع نہ مل سکا شاید کہ کبھی نہ ملے۔شہزادہ صاحب کے پرائیویٹ معاملات کا مجھے علم نہ تھا، البتہ شہزادہ کا انداز گفتار بڑا سیدھا سادہ مودبانہ ، باوقار اور رغب و دبدبے والا تھا ،ایک مشفق استاد کی طرح بات ذہین نشین فرماتے ، اسلاف کی تاریخ سے شغف رکھتے تھے۔ ہوا بازی کا دلدادہ تھے ۔چترال کے فضاؤں میں اکثر اڑان بھرتے نظر آتے ۔شہزادہ صاحب نے غالبا 2004 ء میں چترال میں پہلی مرتبہ پیرا گلائنڈنگ ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لاکر چترال میں پیرا گلانڈنگ کا آغاز کیا ،اب تک سینکڑوں کی تعداد میں شہزادہ کے تلامذہ پرفیکٹ پیراگلائنڈر بن چکے ہیں اور آج فن کے شہسوار کی جدائی کا صدمہ پوری قوم کے ساتھ برداشت کر رہے ہونگے۔ ایک مشفق استاد کو ہواؤں کی محبت نے اپنے ساتھ اڑا کرایسے لے گئی کہ زمین کے باسی آسمان کی طرف تکتے رہ گئے ۔اخر میں ابن ماجہ کی حدیث کا مفہوم ناظرین کی خدمات میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ پوچھا گیا رسول اللہ ﷺ سے یا رسول اللہ ﷺ میں کس طرح جان لوں کہ میں اچھا آدمی ہوں یا برا ۔فرمایا سمعت جیرانک یقولون قد احسنت فقد احسنت (ابن ماجہ) فرمایاآپ کے دوست احباب ،رفقاء اور پڑوسی آپ کو اچھا کہے تو یقیناًآپ اچھے ہیں ۔اور آج ان شہداء کی یاد میں پورا ملک سوگوار ہے ہر آنکھ اشکبار ہے یقیناًبڑے اچھے لوگ تھے ۔مجھے یقین ہے کہ شہزادہ صاحب اور تمام شہداء آج یہ کہ رہے ہونگے یا لیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی وجعلنی من المکرمین (القران)اللہ تعالی ان تمام کو اپنے جوار رحمت میں بہترین مقام عطا فرمائیں اور پسماندگان کوصبر جمیل عطا فرمائیں اور ہمیں ان کا نعم البدل عطا فرمائیں ……. امین

Print Friendly, PDF & Email

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں