50

سیکرٹریٹ پشاور میں بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کے حوالے سے اجلاس

پشاور/وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے پر تعمیراتی کا م کا آغاز کرنے اور اسکی کم سے کم مدت میں تکمیل کیلئے تمام لوازمات کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔ منصوبے کی تیز رفتار تعمیر کیلئے ٹائم لائنز کا تعین کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ منصوبے کے تینوں پیکیجز کاٹینڈر30 اپریل تک جاری ہوجانا چاہئے۔ پہلے دو پیکیجز کا ٹینڈر15اپریل جبکہ تیسرے پیکیج کا ٹینڈر 30 اپریل تک یقینی بنایا جائے۔پراجیکٹ کی ایوالوشن 8 دنوں میں اور کنٹریکٹ سائٹ پر موبیلائزیشن15 دن میں یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے پی ڈی اے کو ہدایت کی کہ ایف ڈبلیو او کے شروع کردہ یو ٹیلیٹیز اور سروس روڈ کی تعمیر نو کے مرحلے کو تیز رفتاری کے ساتھ مکمل کیا جائے ۔ کسی بھی رکاوٹ یا مشکل کی صورت میں فوراً آگاہ کریں۔ منصوبے کو ایک چیلنج سمجھ کر کام کریں۔پر اگراس کے عمل میں تیز رفتاری نظر آنی چاہئے۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ چیف سیکریٹری عابد سعید، ایڈیشنل چیف سیکریٹری اعظم خان، محکمہ ٹرانسپورٹ اور خزانہ کے انتظامی سیکریٹریوں، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی اے، سٹرٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید، ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے نمائندوں اور منصوبے کے کنسلٹنٹس نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو منصوبے کی تعمیر کیلئے عملی اقدامات پر پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کیلئے چمکنی، ڈبگری اور حیات آباد میں تین ڈپو قائم کئے جائیں گے۔ اس مقصد کیلئے حیات آباد میں 30 کنال اراضی درکار تھی جس کا انتظام کیا جا چکا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے چمکنی ٹرمینل کی زمین کا حصول تیز کرنے اور کمرشل لائن پر بلڈنگ اور دیگر سرگرمیاں تیز رفتاری کے ساتھ پلان کرنے کی ہدایت کی۔ 70کروڑ روپے زمین کے حصول کے لئے مختص کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ نے باقی ما ندہ مطلوبہ اراضی کا حصول بھی جلد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ پراجیکٹ کے لئے 380 ائرکنڈیشنڈبسوں کا انتظام کرنا ہے ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے کو کمرشل بنیادوں پر تعمیر کیا جائے اور پارکنگ پلازے بنائے جائیں اور کنٹریکٹ کھلے مقابلے کے ذریعے ایوارڈ کئے جائیں ۔ ٹائم لائنز پر عمل درآمد یقینی ہونا چاہیئے اور ادائیگی کا طریق کارشفاف ہونا چاہیئے ۔ پی ڈی اے اس پراجیکٹ کے لئے علیحدہ سپیشل ٹیم رکھے ۔ مالی اور بلنگ آفس قائم کرلیں اور ہر شعبے کیلئے علیحدہ ونگ بنا لیں۔پراجیکٹ کی تیز تر تکمیل کیلئے تعمیر اتی کا م تین شفٹوں پر مشتمل دن رات سروس ہونی چاہیئے ۔ تمام معاملات خوش اسلوبی سے چلنے چاہئیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ چمکنی، حیات آباد اور ڈبگری میں بس ڈپو اور شاپنگ پلازے بھی بنائے جائیں جہاں بس پارکنگ ، ورکشاپ اور دیگر سہولیات دستیاب ہوں گی ۔ انہوں نے کہاکہ 40 ارب روپے کی مجوزہ لاگت سے یہ منصوبہ پشاور کی ٹریفک کے مسئلے کا کل وقتی حل ہے۔پراجیکٹ 8 روٹس کو باہم مربوط کرے گا۔ پشاور میں بڑھتی ہوئی ٹریفک کے تناظر میں اس منصوبے کی جلد تکمیل ہمارے لئے ایک چیلنج ہے۔ کم سے کم وقت میں اس منصوبے کو گراؤنڈ پرلانا اور کم سے کم وقت میں مکمل کرنا ہے۔ ایک سال سے عوام کی نظریں اس منصوبے پر لگی ہیں۔ منصوبے کے تحت بس سٹیشنوں ، پارکنگ پلازوں، مسافروں کی سہولیات، ہوٹل اور کمرشل سرگرمیوں کے خاطر خواہ انتظامات ناگزیر ہیں۔پراجیکٹ کے تحت کمرشل سرگرمیوں سے کمپنی کو اپنے اخراجات پورے کرنے میں مدد ملے گی ۔ پشاور سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے ناظم اس کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو ہوں گے ۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک اس منصوبے کیلئے مالی معاونت فراہم کرے گا۔ اس کو ایک قابل عمل منصوبہ کے طور پر گراؤنڈ پر لانا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ حتمی مائل سٹون پر پہنچنے سے قبل جو رکاوٹیں ہیں دور کریں مقررہ اہداف کو مقررہ وقت میں حاصل کریں تاکہ پراجیکٹ میں تاخیر ی عوامل سر نہ اُٹھا سکیں۔ ایک وقت کے خرچ کے بعد اس کے لئے حکومت کو سبسڈی نہیں دینا پڑے گی۔پراجیکٹ میں سبسڈی کا تصور ہے ہی نہیں یہ منصوبہ خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگا ۔ اس منصوبے کو وہ خود ہر فورم پر منظو ر کرائیں گے ۔ تمام لوازمات کو حتمی شکل دے کر منصوبے کی تعمیر کی طرف عملی قدم نظر آنا چاہیئے۔ اس منصوبے کی بروقت اور معیاری تعمیر وقت کا تقاضا بن چکی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں