95

چترال میں صوبائی حکومت کی طرف سے پیش کردہ اسپیشل تعلیمی ایکٹ 2017ء کے خلاف احتجاج؍ ظالمانہ اور استاذ دشمنی پر مبنی ایکٹ کو واپس لیاجائے

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال) صوبائی حکومت کی طرف سے پیش کردہ اسپیشل تعلیمی ایکٹ 2017ء کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ضلع چترال میں پبلک سیکٹر سکولوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کے مختلف تنظیموں آل ٹیچرز ایسوسی ایشن ، تنظیم اساتذہ پاکستان اور ایس ایس ٹی ایسوسی ایشن نے پیر کے روز چترال پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا اور ایکٹ کو یکسر مسترد، ناقابل عمل اور اساتذہ کے شان کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہاکہ بہتر کارکردگی پر اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی بجائے ان کی تذلیل کا سامان کیا جارہا ہے جسے ہر گزقبول نہیں کیا جائے گا۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے محمد مظفر الدین (آل ٹیچرز ایسوسی ایشن)، ضیاء الدین (تنظیم اساتذہ پاکستان)، وقار احمد (ایس ایس ٹی ) اور منیر احمد شعبہ بہبود اساتذہ نے کہاکہ اس سال پرائیویٹ سکولوں سے 25ہزارکی تعداد میں بچوں کا سرکاری سکولوں میں داخل ہونا پبلک سیکٹرسکولوں کی بہتر کارکردگی کا مظہر ہے ۔ا نہوں نے کہاکہ پرائمری سکولوں اساتذہ کی تعداد بڑہانے سے سرکاری سکولوں میں تعلیم کے معیار میں انقلاب آئے گا اور پرائیویٹ سیکٹر کے سکول خالی ہوں گے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر ا س ظالمانہ اور استاذ دشمنی پر مبنی ایکٹ کو واپس نہ لیا گیا تو اس کے نتائج کی ذمہ داری خود حکومت پر عائد ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email