تازہ ترین
Home >> مضامین >> صدا بصحرا ۔۔۔۔بادشاگروں کی مشکلات۔۔۔۔ڈاکٹرعنایت اللہ فیضیؔ

صدا بصحرا ۔۔۔۔بادشاگروں کی مشکلات۔۔۔۔ڈاکٹرعنایت اللہ فیضیؔ

2018ء کے قومی انتخابات کی تاریخ جوں جوں قریب آرہی ہے بادشاہ گروں کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہاہے ’’ گویم مشکل ورنہ گویم مشکل ‘‘ والی حالت ہے جس غنچے کو پھول بنانے پر عمر بھر محنت کی گئی ہے ۔ وہ غنچہ شاخِ گُل سے غائب ہوجاتا ہے بقول ساغر صدیقی
ساغر جو کل کِھلے تھے وہ غنچے کہاں گئے
ہنگامہ بہار میں پامال ہوگئے
بہار کا جو ہنگامہ انتخابی مہم کے نام پر بپا ہوا ہے اس میں غنچے اور پھول تو کیا پورا چمن اور گلشن پامال ہونے کا امکان ہے ۔ بادشاگروں نے شطرنج کی جو بساط بچھائی تھی اُن کا خیال تھا کہ جن مہروں کو آگے لاکر ’’ بادشاہ‘‘ کے گرد حصار بنانے کا خیال تھا وہ مہرے ایک ایک ہوکر پیچھے کھسک گئے بادشاہ اب دوسروں کے رحم و کرم پر ہے ۔ پانسہ کسی بھی وقت پلٹ سکتا ہے ۔ ’’ بادشاہ گر‘‘ کی ترکیب بھی ’’ جادوگر ‘‘ کی طر ح ہے۔ ہمارے مرحوم دوست دینار آف چنا ر کا خیال تھا کہ گاؤں میں جو چہل پہل ہے سب جادو گروں کے اشاروں پر ہورہی ہے ۔ جادوگر ہی میچ کراتے ہیں وہی کسی کو جتواتے اور کسی ہراتے ہیں گاؤں کی سڑک سے گاڑی گذرتی تو وہ کہتا یہ جادوگروں کی گاڑی ہے ۔ 4000فٹ کی بلندی سے کسی جہاز کے گذرنے کی آواز آتی تو وہ کہتا یہ جادوگروں کا جہاز ہے ۔ وطن عزیز میں بادشاہ گروں نے وہی مقام حاصل کر لیا ہے جو جادوگروں کو حاصل تھا۔ شطرنج کے مہرے کسی طور پر قابو میں نہیں آتے ۔ ایک خدشہ یہ ہے کہ نوازشریف کی گردن کا سریا نکلے گا یا نہیں ؟ دوسرا خدشہ یہ ہے کہ عمران کی گردن میں ہیوی منڈیٹ اور عوامی مقبولیت کا سریا نظر آگیا تو اس ’’ جن ‘‘ کو بھلا کو ن بوتل میں بند کرے گا ؟ یہ بھی سوچا جارہا ہے کہ معلق پارلیمنٹ کیسی رہے گی ؟ چار پارٹیوں میں سے ہر ایک کو 50اور 60کے درمیاں نشستیں دے دو اور ان سے کہو اب حکومت بناؤ تو کیسا رہے گا ؟ ایک خیال یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم بنانے کیلئے کوئی نامانوس چہرہ ڈھونڈو تاکہ عوام 5سالوں
تک اُس کا حسب نسب معلوم کرتے ہوئے گذاردیں ۔ وہ آنکھیں دکھانے کا خیال دل مین لائے یا ’’ میری حکومت ‘‘ کہنے پر غور شروع کرے تو ہم اس کی خدمت میں دست بستہ عرض کریں گے’ ہم کو دعائیں دو دلبر تجھے بنا دیا‘‘ یہ سن کر اس کو اپنی اوقا ت یاد آجائے گی اور ’’ اچھا جی‘‘ کہہ کر سیلوٹ مارے گا ۔ امکانات کی دنیا میں کیا نہیں ہوتا ؟ ساغر صدیقی کہتاہے ؂
ہر بھکاری پا نہیں سکتا مقامِ خواجگی
ہر کس و ناکس کو تیرا غم عطا نہیں ہوتا
صوابی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں باز پروری کا شوق رکھنے والے زندہ دل لوگ رہتے ہیں ۔ اُن کے ہاں ایک لطیفہ بہت مشور ہے ۔ خان صاحب کا باز سدھایا ہوا نہ تھا ۔ وہ شکار کرتا تو اُڑان بھر کر بھاگ جاتا واپس مالک کے پاس نہ آتا شکار نہ کرتا تو سدھائے ہوئے باز کی طرح واپس آتا مالک کے بازو پر بیٹھ جاتا اور اپنے پر سمیٹ لیتا ۔ خان صاحب شکار کے شوقین مگر باز کی عادت سے نالاں تھے اسلئے وہ باز کو شکار پر چھوڑتے وقت دعا کرتے ’’ خدا کرے میرا باز شکار نہ کرے ‘‘ ہمارے بادشاگروں نے باز کو شکار پر چھوڑنے کے بعد دعا شروع کی ہے کہ خدا ہمارے باز کو کامیاب نہ کرے ورنہ یہ بھی اپنی گردن میں سریا فٹ کرے گا اور ہمارے گلے پڑ جائے گا ۔ کچھ لوگوں کا خیال کہ کنعان ایورن نے ترکی میں حسین محمد ارشاد نے بنگلہ دیش میں اور جنرل ضیاء الحق نے پاکستان میں سیاست دانوں کے ساتھ جو سلوک کیا تھا شطرنج کے موجودہ مہروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہونا چاہیئے ۔ عمران خان ، زرداری ، مولانا فضل الرحمن ، شہباز شریف ، چوہدری نثار یا شاہ محمود قریشی کو وزیر اعظم کا نام دے کر سر پر بٹھانے سے بہتر ہے کہ کوئی وزیر اعظم ہی نہ ہو ۔ میرا خیال ہے کہ 1973ء کے آئین میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ایک اور ترمیم کر کے قواعد و ضوابط میں تبدیلی کی جائے نیا عمرانی معاہدہ سامنے لایا جائے ۔ نئی ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ کی 50فیصد نشستیں انتخابات کے ذریعے پُر کی جائیں۔ 50فیصد سیٹوں پر بادشاہ گروں کو اپنے آدمی نامزد کر کے ووٹ کے بغیر اسمبلی میں لانے کا اختیار دے دیا جائے ۔ یہ تجویز انوکھی اور نئی نہیں ۔ 1953 ء میں سابق ریاست چترال میں اس پر کامیابی کے ساتھ عمل ہوا ہے ۔ ریاست چترال میں دو پارٹیاں تھیں مسلم لیگ اور پختی لیگ ۔ ایڈوائزری کونسل کو انتخابات میں مسلم لیگ نے ساری سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ۔ حکمرانوں نے 50فیصد لوگ پختی لیگ سے نامزد کر کے ایڈوائزری کونسل میں ڈالے۔ وزیر اعظم باہر سے لایا گیا اور اس کوووٹ کا حق دیا گیا ۔ اس طرح مسلم لیگ کے منتخب لوگ اقلیت میں رہ گئے۔ نامزد ممبروں نے امپورٹڈ وزیر اعظم کو لیکر حکومت کی ۔ مرکزی حکومت اور اخبارات کو رپورٹ بھیجی گئی کہ ’’ جمہوریت لائی گئی ہے ‘‘ ۔یہ تجویز میں نے موجودہ دور کے بادشاگروں کی آسانی کے لئے پیش کی اور مثال دی ہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے ورنہ ایسی نایاب تجویز مفت میں کبھی دستیاب نہیں ہوتی ۔ دنیا اُمید پر قائم ہے اور اُمید یہ ہے کہ بقول شاعر ؂
دل و نظر کو عطا ہونگی مستیاں ساغر
یہ بزمِ ساقی ،یہ بادہ، یہ جام بدلے گا


error: Content is protected !!