38

اپرچترال سمیت خیبر پختونخوا کے اضلاع کے مابین صوبائی وسائل کی منصفانہ تقسیم کیلئے قائم صوبائی مالیاتی کمیشن کا 11 واں اور موجودہ حکومت کے دور کا پہلا اجلاس

پشاور/ خیبر پختونخوا کے اضلاع کے مابین صوبائی وسائل کی منصفانہ تقسیم کیلئے قائم صوبائی مالیاتی کمیشن(Provincial Finance Commission ( کا 11 واں اور موجودہ حکومت کے دور کا پہلا اجلاس کمیشن کے چیئرمین اور صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کی سربراہی میں سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔اجلاس میں خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات و دیہی ترقی اور کمیشن کے مشترکہ چیئرمین شہرام خان تراکئی،ممبرصوبائی اسمبلی  ارشد ایوب،سیکرٹری محکمہ خزانہ شکیل قادر خان،سیکرٹری محکمہ بلدیات ظاہر شاہ،سیکرٹری محکمہ قانون ذکاء اللہ خٹک، ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ عادل افتخار،اسسٹنٹ چیف محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات محمد اسلام کے علاوہ کمیشن کے ممبران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔واضح رہے کہ سابقہ فاٹا اور موجودہ قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد امسال پراونشل فنانس کمیشن کا اجلاس تاریخی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اس اجلاس میںنئے ضلع اپر چترال کے علاوہ ضم اضلاع کے لئے بھی وسائل کی تقسیم کی شرح کا تعین کرناشامل تھا۔سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری بلدیات نے کمیشن کے ممبران کوپچھلے سال اضلاع کے مابین وسائل کی تقسیم کے لئے مرتب کردہ فارمولے کے تحت جاری ہونے والے فنڈز کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔اس موقع پر کمیشن کے ممبرا ن کی جانب سے صوبائی وسائل کی تقسیم کے بارے میں مختلف سوالات بھی کئے گئے اورانہوں نے اپنی تجاویز اور آراء بھی پیش کیں۔اجلاس کے شرکاء نے تفصیلی بحث اور غور و خوض کے بعد متفقہ طور پر فیصلہ کیاکہ نئے مالی سال2019-20 کے لئے اضلاع کے مابین وسائل کی تقسیم گزشتہ سال کے فارمولے کو برقرار رکھتے ہوئے کی جائے۔سال 2018-19 کے فارمولے کے مطابق اضلاع کے مابین آبادی کے تناسب سے 60 فیصد وسائل کی تقسیم ،20 فیصد وسائل کی تقسیم غربت اور 20 فیصد وسائل کو انفراسٹرکچر ک لحاظ سے پیچھے رہ جانے والے اور پسماندہ اضلاع میں تقسیم کی شرح مقرر کی گئی تھی۔کمیشن نے ضم اضلاع کے لئے نئے مالی سال کےبجٹ کی تیاری کے سلسلے میں مختلف امور کی بھی منظوری دی۔ کمیشن کی جانب سے اگلے مالی سال کے دوران ضم اضلاع میں 25 ٹی ایم ایز کے قیام کے لئے 542.617 ملین روپے کے ون ٹائم گرانٹ کی منظوری دی گئی ،اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس سلسلے میں محکمہ بلدیات نے پہلے ہی ایک سمری وزیراعلیٰ کو ارسال کی ہے۔ اجلاس میں ضم اضلاع میں ڈسٹرکٹ،ویلج اور نیبر ہوڈ کونسلز کے قیام کے لئے 25 ملین روپے فی یونٹ کے حساب سے 175 ملین روپے کے آپریشنل گرانٹ اور آئندہ مالی سال 2019-20 کے لئے ضم اضلاع کے ترقیاتی پروگرام کے لئے 4 ارب روپے کے فنڈز کی بھی منظوری دی گئی۔کمیشن کی جانب سے نئے قائم ہونے والے ڈسٹرکٹ چترال (اپر) کےبجٹ کو ڈسٹرکٹ چترا ل سے جدا کرتے ہوئے نئے ڈسٹرکٹ کے لئے 1485.012 ملین روپے کے فنڈز کے اجراء کی بھی منظوری دی گئی،کمیشن کو آگاہ کیا گیا کہ اس ضمن میں ڈپٹی کمشنر چترال کو تنخواہوں،آپریشنل اور ترقیاتی گرانٹ کی مد میںچترال اپر کا حصہ علیحدہ کرنے کی بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمیشن کے چیئرمین وزیر خزانہ تیمور سلی جھگڑا نے کہا کہ فاٹاکے صوبے میں انضمام کے بعد صوبے کے اضلاع میں وسائل کے منصفانہ اور شفاف تقسیم کا یہ لمحہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے جس کی بدولت ضلعی حکومتوںکی جانب سے قبائلی اضلاع سمیت پورے صوبے میں عوامی خدمات کی فراہمی میں بھرپور مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت مقامی حکومتوں کے نظام کو مزید موئثر اور خودمختار بنانے چاہتی ہے اور بہت جلد صوبے میں ایک مربوط اور موئثربلدیاتی نظام کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس سے نچلی سطح پر اختیارات منتقل اور مقامی سطح پر عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے۔تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ خیبر پختونخوا وہ پہلا صوبہ ہے جہان مقامی حکومتوں کو صوبے کے کل ترقیاتی بجتکی30 فیصد کے برابر فنڈز جاری کرنا حکومت کے اس عزم کا واضح ثبوت ہے جس کے تحت ضلعی حکومتوںکو مالی طور پر خودمختار بنایا گیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email